عوامی طیب اردگان اور ہمارے سیاست دان - احسان کوہاٹی

انسان جب کسی مشکل میں پڑتا ہے تو سب سے پہلے اس کی نظریں پڑوس کی جانب اٹھتی ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہیے کہ ہمیں مشکلوں سے بچنے کے لیے اپنے پڑوسی پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ سیلانی ایک روشن خیال سیکولر دوست کے بھیجے ہوئے بھارتی چینل انڈیا ٹو ڈے کے 9 مئی 2018ء کے پروگرام کے فوٹیجز دیکھ رہا تھا۔ پروگرام کیا تھا پاکستان کے خلاف کسی فلم کے پلاٹ پر ڈسکشن تھا۔ پروگرام میں بریکنگ نیوز دی جارہی تھی کہ پاکستان نے جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو رہائی کے بدلے جموں کشمیر میں ’’جہاد‘‘ کی پیشکش کی ہے۔ پروگرام میں ہانکا گیا تھا کہ یہ دہشت گرد اے پی ایس پشاور کے حملے میں بھی ملوث ہیں، آئی ایس آئی کی اس حوالے سے ان سے بات چیت چل رہی ہے۔ گویا یہ لڑکی کا رشتہ ہے، وہاں سے لڑکے کا چل چلن جانچا جا رہا ہے اور یہاں سے لڑکی کے سگھڑاپے کی کنسوئیاں لی جا رہی ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کا یہ نان سینس پروگرام دیکھ کر سیلانی کو کسی زمانے میں دیکھی گئی دلیپ کمار کی فلم ’’کرما‘‘ یاد آگئی۔ اس فلم میں دلیپ کمار صاحب دیش بھگت، قانون پسند بااصول پولیس افسر ہوتے ہیں لیکن بھارت ماتا کے لیے یہ بااصول پولیس افسر اپنے اصول توڑ کر جیل میں سزا کاٹنے والے قیدیوں سے کام لینے کا اچھوتا خیال لے کر آتا ہے۔ وہ اس کام کے لیے انہیں رضامند کرتا ہے اور پھر وہ غنڈے موالی انسانیت کی خاطر اس مشن کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ پروگرام دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے سارے آئیڈیاز خرچ کرنے کے بعد بھارت اب فلموں سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ سیلانی دل ہی دل میں اپنے اس دوست کو کوسنے لگا جس نے کشمیر میں پاکستانی مداخلت کے ’’ناقابل تردید‘‘ ثبوت فراہم کرکے سیلانی کا وقت ضائع کیا تھا۔

سیلانی نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے دوست کی کھلی ڈھلی سوچ پر تین حرف بھیجے۔ آجکل لبرل سیکولر ہونے کے لیے پاکستان کے ساتھ ساتھ پاک فوج پر تنقید اور بھارتی کی بولی بولنا لازم ہوچکا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کایہ اتنا احمقانہ پروگرام تھا کہ سیلانی نے اس پر تبصرہ کرنا بھی مناسب نہ جانا اور فیس بک پر آوارہ گردی کرنے لگا۔ اپنے یہاں فیس بک کو فکری جگالی کرنے والے دانشوروں نے تحریک استقلال بنا رکھا ہے، جس میں سب ہی لیڈر ہیں کارکن کوئی نہیں۔ جمعے کا دن ویسے بھی سیلانی کی ہفتہ وار تعطیل ہوتی ہے سو اس کے پاس کے الیکڑک کو کوسنے کے سوا کوئی کام بھی نہ تھا۔ کم بخت اس گرمی میں بھی جب انڈوں پر بیٹھی مرغی پھڑ پھڑا کراٹھ جائے نو، نو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔ سیلانی کے علاقے میں تین تین گھنٹے کے لیے تین بار بجلی نہ لے کر جائیں تو انہیں قبض ہوجائے۔

خیر، سیلانی فیس بک پر دوستوں’’دانشوروں‘‘ کی ’’وال چاکنگ‘‘ پڑھ رہا تھا کہ کچھ تصویروں نے اسے روک لیا وہ ٹھٹک گیا۔ سوشل میڈیا کی ڈیجیٹل دھرتی پر اٹھتے قدم رک گئے، وہ ٹھہر گیا۔ وہ پانچ تصاویر تھیں ان میں بظاہر کچھ بھی غیر معمولی نہ تھا۔ ایک پچاس ساٹھ برس کا گورا چٹا سرخ و سپید دراز قامت شخص، پتلون کوٹ زیب تن کیے ہوئے اپنے بچوں کی عمر کے نوجوانوں کے ساتھ بڑے ہی خوشگوار موڈ میں بڑی سی میز کے ساتھ کرسی رکھے بیٹھا ہوا تھا۔ سیلانی اگر کسی ایسے شخص سے پوچھتا کہ یہ تصویر کس کی ہے تو وہ یہی کہتا کہ کسی کالج کا پرنسپل یا پھر فاتح فٹبال ٹیم کا کوچ لگ رہا ہے جو اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ جیت کا جشن منا رہا ہے۔۔۔ لیکن سیلانی اس شخص کو جانتا ہے یہ کوئی عام آدمی نہیں، کروڑوں لوگوں کی دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس کی ایک آواز پر مائیں بلکتے بچے گود میں لیے گھروں سے نکل آتی ہیں، جینز کوٹ میں ملبوس بیٹیاں سروں پر اسکارف باندھے ہاتھوں میں قرآن لیے لبیک لبیک کہتے ہوئے چل پڑتی ہیں، نوجوان فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور تو اور جھکی کمر والے بوڑھے بھی لاٹھیاں ٹیکتے ہوئے موسم کی سختی نظرانداز کرکے گھروں سے نکل آتے ہیں۔ یہ شخص ترک ہے، جس نے ترکوں کو بدلا اور ترکی بدل کر رکھ دیا، یہ جرات مند شخص مسلم دنیا کا وہ اکلوتا راہنما ہے جو فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف اسرائیل کے سفیر کو ملک سے نکال باہر کرتا ہے، یہ طیب اردگان ہے۔ فیس بک پر تصویر مشتہر کرنے والا دوست بتا رہا تھا کہ طیب اردگان کے ٹوئٹ کے جواب میں ایک نوجوان نے انہیں مخاطب کیا اور چائے کی دعوت دے ڈالی، جواب میں طیب نے ٹوئٹ کیا ’’کیا آپ کی چائے تیار ہے؟‘‘ اور پھر وہ نوجوان ہی نہیں اس کے سارے دوست احباب حیران ہو گئے جب طیب اردگان ان کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا جیسے سبزی منڈی کے اس محنت کش کو وقت افطار جس کے گھر کا دروازہ بجا، جا کر دیکھا تو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق کھڑے کا کھڑا رہا گیا۔ طیب اردگان اپنی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ لیے موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ کیا ہم آپ کے ساتھ افطار کر سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ٹیکسٹ میسج سے ٹیکسٹ بک تک - روبینہ فیصل

استنبول کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے ہوئے وہاں مقیم پاکستانیوں نے بتایا تھاکہ طیب اردگان رمضان میں اپنے گھر کم ہی افطار کرتے ہیں۔ افطارکے وقت طیب اردگان اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر کسی بھی علاقے میں کسی بھی دروازے پر پہنچ جاتے ہیں، عموماً اہلیہ کے ہاتھوں میں ایک باسکٹ ہوتی ہے۔ پریشان صورت سیکیورٹی اہلکار اپنی جگہ چوکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ دبے لفظوں میں کئی بار اپنے محترم صدر کو بتا چکے ہیں ان کے خلاف کئی سازشیں پکڑی جا چکی ہیں، محتاط رہا جائے لیکن طیب اردگان ساری احتیاط ایک طرف رکھ دیتا ہے۔ ترک صدر کا ہاتھ اٹھتا ہے اطلاعاتی گھنٹی بجتی ہے یا دروازہ بجایا جاتا ہے جواب میں دروازہ کھلتا ہے۔ غریب شہری اپنے ملک کے صدر کو اپنے دروازے پردیکھ کر یقین نہیں کرتا، وہ بت بنا کھڑا رہ جاتا ہے یہاں تک کہ طیب اردگان مسکراتے ہوئے مصافحے کے لیے میزبان کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

فیس بک پر یہ تصاویر دیکھ کر سیلانی کو کچھ اور تصاویر بھی یاد آگئیں۔ ایک منظر تو چند روز پرانا ہے جب نوازشریف صاحب کا ایک متوالا انہیں سامنے دیکھ کر اپنے جوش پر قابو نہ پاسکا، اٹھ کر اسٹیج کی طرف بڑھا اور پھر میاں صاحب کی طرف ہاتھ بھی بڑھا دیا لیکن اس سے پہلے ہی سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھ اس کی گدی پر پڑچکے تھے۔ اسے کالر سے پکڑ پیچھے دھکیلا جیسے اگر ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر ہوئی تو اس کا ہاتھ میاں صاحب کے گورے چٹے ہاتھ سے مس ہو گیا تو اس کے سارے عوامی جراثیم ’’جاتی امراء‘‘ کے بادشاہ سلامت میں منتقل ہوجائیں گے۔ اسے یوں کھینچ کر پیچھے دھکیلا گیا جیسے پہلوان اپنے مخالف کو قابو کرتا ہے اس کے بعد کیمروں کی پروا نہ کرتے ہوئے اس جذباتی صاحب کی ٹھکائی شروع کردی۔ ’’بادشاہ وقت‘‘ کو چھونے کی کوشش کرنے کے جرم میں اس کی عزت کو حلیم کی طرح گھوٹ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بیانیے کا ساتھ نہ دیں تو کیا کریں؟ - یاسر محمود آرائیں

ایسا ہی منظر مقام کی تبدیلی کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں بھی پیش آیا جب ایک جوشیلا جیالا شہید بی بی کی نشانی کی پیشانی چومنے اسٹیج پر چڑھنے لگا تو اسٹیج کی سیکیورٹی کے ذمہ دار اس پر بھوکے بھیڑیے کی طرح پل پڑے، اس کے کپڑے تار تار کر دیے، اس کی قمیض اس کے گلے میں جھول گئی، ستر کھل گیا اور وہ سب کے سامنے بے پردہ ہوگیا۔ اس کی اس ذلت کی وجہ صرف اور صرف اپنے لیڈر سے ملنے کی خواہش تھی جو ’’جرم‘‘ کی سرحد سے جا ملتی ہے۔

سیلانی سوچنے لگا کتنا فرق ہے یہاں حکمرانی کرنے والے بادشاہ مزاجوں اور اس طیب اردگان کے مزاج اور طبیعت میں۔ سیلانی 1996ء سے کوچۂ صحافت میں آوارہ گردی کررہا ہے، اس نے تب سے آج تک پاکستان کے کسی بھٹو، شریف، خان اور مولانا کو اس طرح لوگوں میں گھلتے ملتے نہیں دیکھا۔ یہی فاصلے ان سیاست دانوں کے لیے تحریک اٹھنے نہیں دیتے جو اقتدار سے محرومی کے بعد ماتم کرتے اور شام غریباں مناتے نظر آتے ہیں۔ یہ طیب اردگان کی طرح عوامی ہوجائیں تو لاہور، پشاور کراچی کوئٹہ اور گلگت، کشمیر میں بھی چونڈہ کی تاریخ دہرائی جانے لگے لوگ فوجی ٹینکوں، جیپوں کے سامنے لیٹ جائیں، پولیس موبائلوں کو اٹھا کر پھینک دیں عوام میں رہنے کے لیے عوام کے دلوں میں رہنا پڑتا ہے، ہٹو بچو کی آوازوں کا گلا گھوٹنا ہوتا ہے، بدمست محافظوں کو پرے دھکیلنا ہوتا ہے، ہمت حوصلے سے فیصلے کرنے ہوتے ہیں، اپنے کمروں کی ٹھنڈ دور بستی کے محنت کشوں کے گھروں تک پہنچانی ہوتی ہے، رات کی تاریکی میں کسی غریب کے گھر کا دروازہ بجانا ہوتا ہے، کسی مفلوک الحال بہن بیٹی کے سرپر دوپٹہ رکھنا ہوتا ہے، کسی مزدور کے ساتھ اس کے دسترخوان پر آلتی پالتی مارنی ہوتی ہے، طیب اردگان بننا ہوتا ہے۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے لیپ ٹاپ پر طیب اردگان کے ساتھ طالب علموں کو سیلفیاں لیتے دیکھنے لگا اور دیکھتارہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.