رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (4) - یوسف ثانی

احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کی چوتھی قسط پیش ہے۔ تیسری قسط یہاں ملاحظہ کیجیے۔

37۔ خیرات اور رزق:

خیرات کو مت روکو، ورنہ تمہارے رزق میں سے خیر و برکت کو بھی روک لیا جائے گا(بخاری) مال و دولت کو گن گن کرمت رکھو ورنہ اللہ بھی تجھے گن گن کردے گا(بخاری) فرشتوں کی ندا:”اے اللہ! ہر خرچ کرنے والے کو اس کے خرچ کرنے کا نعم البدل عنایت فرما“(بخاری) فرشتے ندا دیتے ہیں:”اے اللہ! ہر بخل کرنے والے کے مال کو تباہ و برباد کردے“(بخاری) ہر مسلمان پر صدقہ دینا ضروری ہے(بخاری) صاحب ِ حاجت مظلوم کی فریاد رسی بھی صدقہ ہے(بخاری) اچھی بات پر عمل کرنا اور برائی سے باز رہنا بھی صدقہ ہے(بخاری) اپنے صدقہ کا واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے کا کھانے والا (بخاری) صدقہ (زکواۃ) میں ملے مال و اسباب کو آگے ہدیہ کرنا جائز ہے (بخاری)نبی ﷺ صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے(بخاری) جو کوئی صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(بخاری) پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے۔ جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو، ا سے تحفہ تحائف بھیجنے میں اولیت دو۔ (بخاری)

غیر مالیاتی صدقہ:

لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ و مامون کردوکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے (بخاری) کسی کاریگر کی مدد کرویا کسی بے ہنر کو کوئی کام سکھا دو(بخاری) به حالت ِ صحت جب مالداری کی خواہش اور تنگدستی کا خوف ہو، اس وقت صدقہ دو اور صدقہ میں تاخیر نہ کرو(بخاری) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو خرچ کر تو میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا(بخاری) جسے اللہ نے مال عطا کیا ہو اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرتا ہو، ایسے فرد پر بھی رشک کرنا جائز ہے (بخاری) زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کسی کو فی سبیل اللہ دودھ پینے کے لیے دینا عمدہ صدقہ ہے (بخاری)کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا(ترمذی) ضرورت سے فاضل دولت کو راہِ خدا میں صرف کرنا بہتر اور روکنا برا ہے۔ البتہ گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے(مسلم) صدقہ اللہ کی غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے (ترمذی) قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا (مسند احمد) صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی اور قصور معاف کردینے سے آدمی نیچا نہیں ہوتا (مسلم) ضرورت مند مسلمان بھائی کو کپڑا پہنانے والے کواللہ جنت کا سبز لباس پہنائے گا(ابو دا ؤد، ترمذی) بھوکے مسلمان بھائی کوکھانا کھلا نے والے کو اللہ جنت کے پھل ومیوے کھلائے گا۔ (ابو دا ؤد، ترمذی) پیاسے مسلمان کو پانی پلانے والے کواللہ جنت کی سر بمہر شراب طہور پلائے گا (ابو دا ؤد، ترمذی) پہلے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پر خرچ کرو، پھرملازمین پر پھر مستحق اہل قرابت پر (ابو دا ؤد، نسائی) قریبی عزیز کوکچھ دینے میں دو طرح کا ثواب ہے۔ ایک صدقہ ہے اور دوسرے صلہ رحمی۔ (ترمذی)

صدقہ فطر:

صدقہ فطر مسلمانوں میں سے ہر غلام و آزاد، مرد، عورت اور بچے سب پر فرض ہے- صدقہ فطر نمازِ عید کے لےے نکلنے سے پہلے اسے اداکردینے کا حکم ہے- صدقہ فطر کھجور یا ”جو“ کا ایک ”صاع“ (تقریباََ دو کلو گرام) ہے

ہبہ، ہدیہ، تحفہ:

کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے معمولی ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھے (بخاری) اگر مجھے دست یا پائے کے گوشت پر بھی بلایا جائے تو میں قبول کرلوں گا، نبی ﷺ -ایک خرگوش شکار کرکے ذبح کیاگیا تونبی ﷺ نے بھی اس کا گوشت تناول بھی فرمایا -رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر گوہ کا گوشت بھی کھایا گیا- صدقہ وصول کرنے والا اسے دوسروں کو ہدیہ بھی کرسکتا ہے- نبی کریم ﷺ خوشبو کا تحفہ کبھی واپس نہیں کیا کرتے تھے- رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے لیکن ہدیہ کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے- حضرت علی ؓنے ہدیہ میں ملا ریشمی لباس پہن لیا تو نبیﷺ کا غصہ دیکھ کر عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کردیا- نبی ﷺ نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہوجاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو(عمریٰ میں کوئی شخص اپنا گھر وغیرہ کسی کو تا حیات استعمال کے لیے دیتا ہے جب کہ رقبیٰ میں یوں کہا جاتا ہے کہ یہ گھر میرا ہے لیکن اگر میں پہلے مرگیا تو تمہارا ہوگا اور تم پہلے مرگئے تو میرا ہی رہے گا) سب سے اعلیٰ و ارفع خصلت دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے(بخاری) آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو۔ ہدیے تحفے دِلوں کے کینے ختم کردیتے ہیں۔ (ترمذی)

38۔ سانپ اور جنات:

سانپ جہاں دیکھو مار ڈالو۔ دو سفید دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو زندہ نہ چھوڑو کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی ختم کردیتے ہیں اور پیٹ والی عورت کا حمل گرادیتے ہیں-گھروں میں رہنے والے سانپ میں جنات بھی ہوسکتے ہیں۔ ابو سعید خدریؓ کی روایت کردہ ایک حدیث کے مطابق انہیں پہلے تین مرتبہ وارننگ دینی چاہیے پھر بھی اگر وہ نہ جائیں تو انہیں مار دینا چاہیے(بخاری)

39۔ سفر، آدابِ سفر:

سفرمیں موجود فاضل پانی کے استعمال سے کسی دوسرے مسافر کو روکنے پر سخت عذاب ملے گا(بخاری) نبی ﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے (بخاری) اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ تنہائی میں کیا خرابی ہے تو کوئی رات کے وقت تنہا سفر نہ کرے (بخاری)

40۔ سلام اور مصافحہ:

سب کو سلام کرو خواہ تم اسے جانتے ہویا نہیں جانتے ہو(بخاری) نبی ﷺ جب چند لوگوں کے پاس تشریف لاتے اور ان کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے(بخاری) کم عمر والا بڑی عمر والے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کریں۔ اسلام میں بہتر کام محتاجوں کوکھانا کھلانا اور ہر جاننے نہ جاننے والوں کو سلام کرنا ہے -نبی ﷺ کھیلتے ہوئے بچوں کے سامنے سے گزر تے تو انہیں سلام کیاکرتے تھے (بخاری) کسی کے گھر جاو تو گھر والوں کو سلام کرو اور جب گھر سے نکلو تو الوداعی سلام کرکے نکلو۔ (بیہقی) سلام کی تکمیل مصافحہ ہے۔ (ترمذی) تم باہم مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم میں باہم محبت پیدا ہوگی اور دشمنی دور ہوگی۔ (موطا امام مالک)

41۔ سود خوری

سود خور شخص کو خون کی نہر میں عذاب دیا جائے گا(بخاری) دو صاع گھٹیا کھجوروں کے بدلہ ایک صاع عمدہ کھجوریں خریدنا بھی سود ہے(بخاری) سود خور لوگوں کے پیٹ میں سانپ بھرے ہوں گے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) سود خوری کے ستّر حصوں میں ادنیٰ ترین ایسا ہے کہ جیسے اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کرنا (ابن ماجہ، بیہقی) نبی ﷺ نے سود لینے، سود دینے، سودی دستاویز لکھنے اور اس کے گواہوں پر لعنت فر مائی۔ (مسلم)

42۔ سونے کے آداب اور خواب:

کوئی بُرے خواب سے ڈر جائے توجاگتے ہی بائیں طرف تھوکے اور اس بُرائی سے اللہ کی پناہ مانگے- سوکر جاگو اور وضو کر نے لگو تو ناک میں تین بار پانی ڈالو (بخاری) جب تم لیٹو تو 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمداللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو(بخاری) جو کوئی رات کو سورة البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اسے کفایت کرتی ہیں (بخاری) رسول اللہﷺ بستر پر دا ہنی کروٹ پر لیٹتے(بخاری) کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے(بخاری) ناپسندیدہ خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس کے شر سے پناہ مانگواور ایسے خواب کا ذکر نہ کرو(بخاری) جب قیامت قریب ہوگی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا(بخاری) جھوٹا خواب بیان کرنے والے کو روزِ قیامت دو جَو کے دانوں کو جوڑنے کے لیے کہا جائے گا (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:   مقامِ محمود - مفتی منیب الرحمن

43۔ شراب اور جوا:

نبی ﷺ نے شراب کی تجارت حرام کردی (بخاری) نبی ﷺ کی موجودگی میں شرابی کی جوتیوں اور چھڑیوں سے پٹائی کی گئی (بخاری) شہد اور جوکی شرابوں سمیت ہر نشہ کرنے والی چیز حرام ہے(بخاری) اگر کوئی جواءکھیلنے کی دعوت دے تو وہ اپنے اِس گناہ کے کفارہ کے طور پر صدقہ دے(بخاری) جس نے دنیا میں شراب پی لی پھر توبہ نہ کی تو اُس کو آخرت میں شرابِ طہور سے محروم کردیا جائے گا- نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجوروں کو یا کھجور اور انگور کو ملاکر شربت بنانے سے منع فرمایا ہے (بخاری) ایک شخص کوشراب پینے پر نبی کریم ﷺ نے مارا مگر لوگوں کو اُس شرابی پر لعنت کرنے سے منع کیا(بخاری) خبردار شراب کبھی نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے(ابن ماجہ) ہر نشہ آور چیز خمر اور حرام ہے۔ توبہ کئے بغیر مرنے والا شرابی جنت کی شرابِ طہور سے محروم رہے گا (مسلم) شرابی کو آخرت میں دو زخیوں کے جسم کا پسینہ، لہو یا پیپ پلایا جائے گا۔ (مسلم) شراب دوا نہیں بلکہ بیماری ہے (مسلم)

44۔ شرک، مشرک اور اہل کتاب:

اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرنا اور زنانہ کرنا اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا(بخاری) جب کوئی نیک آدمی مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں تصویریں بنادیتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہیں- یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا (بخاری) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو دنیا میں جس کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہولے(بخاری) جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا (بخاری) اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ محمدﷺ(بخاری) رسول اللہ ﷺ جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپﷺ سر میں مانگ نکالنے لگے (بخاری) مشرکوں کے پاس کوئی مسلمان جاتا تو فتنہ میں پڑجاتا(بخاری) دکھاوے کی نماز، دکھاوے کا روزہ رکھااور دکھاوے کا صدقہ بھی شرک ہے (مسند احمد) شرکِ خفی دجّال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جیسے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز کولمباکرنا(ابن ماجہ) اللہ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا (سنن ابن ماجہ)

45۔ شیطان اورشیطانی حرکات:

شیطان وسوسہ ڈالے تو اعوذ بااللہ پڑھے اور شیطانی خیال چھوڑدے- اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے- جمائی شیطانی حرکات میں سے ہے۔ لہٰذاجب کسی کوانگڑائی آئے تو وہ اسے حتی الامکان روکے۔ جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر چیختاہے(بخاری) جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے(ترمذی)

46۔ صبر و شکر:

اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھو تو صبر کرنا(بخاری) اپنے ساتھ حق تلفی ہوتا دیکھو تو صبر کئے رہنا یہاں تک کہ تم روزِ قیامت مجھ سے حوضِ کوثر پر ملو(بخاری) اگر مظلوم بندہ صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس ظلم کے بدلہ اُس کی عزت بڑھادیتا ہے (ترمذی) خوشی ملنے پر رب کا شکر ادا کرو اور رنج پہنچنے پر صبر کرو تو یہ سراسر خیر اور موجبِ برکت ہے۔ (مسلم) اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے آغازِ صدمہ میں ہی صبرا کرنے کا اجر جنت ہے(ابن ماجہ)

47۔ طب نبویﷺ:

زخم کے علاج کے لیے چٹائی جلاکر اس کی راکھ کو زخم میں بھردینا (بخاری) بخار جہنم کے جوش سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو مکھی کے ایک پَر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے۔ پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبوکرنکال دو(بخاری)۔ جہاں طاعون پھیلا ہو، وہاں مت جاؤ۔ اگر تمہارے ملک میں پھیلے تو وہاں سے مت نکلو(بخاری) نبی ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات یعنی سورة اخلاص، سورة الفلق اورسورة الناس پڑھ کر اپنے اوپر دَم کیاکرتے اور اپنے بدن پرہاتھ پھیرتے۔ (بخاری) کھمبی جوایک خودرَو پودا ”مَنّ“ کی قسم میں سے ہے، اس کا پانی آنکھ کے لیے دوا ہے (بخاری) شہد پینے، پچھنے لگوانے اور آگ سے داغ لگوانے میں شفا ہے مگر میں داغ دلوانے سے منع کرتا ہوں - پیٹ کی تکلیف میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ شہد پلادو- کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے- تم عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ یہ سات بیماریوں کی دوا ہے۔ حلق کے ورم یعنی خناق کے لیے ناک میں ڈالی جاتی ہے اور پسلی کے درد کے لیے منہ میں رکھی جاتی ہے- اُمت محمدیہ میں سے ایسے ستر ہزار افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ جو نہ دَم کریں، نہ کسی شے میں بدفالی سمجھیں اور نہ علاج کے لیے آگ سے داغیں بلکہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں- ایک کی بیماری دوسرے کو لگنا، بدشگونی لینا، اُلو کو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس سمجھنا لغو خیالات ہیں- البتہ جذام والے سے اس قدر علیحدہ رہنا چاہیے جیسے شیر سے جدا رہتے ہیں- بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا کرو- جو مسلمان طاعون کی وبا سے فوت ہوجائے وہ بھی شہید ہے- نظر بد کا دَم کیا جائے تو جائز ہے- نبی ﷺ نے سانپ، بچھو اور دیگر زہریلے جانور کے کاٹنے میں دَم کرنے کی اجازت دی ہے -کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے ڈبو کر پھینک دو۔ ا س کے ایک پَر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ہے (بخاری)

48۔ طہارت اور اقسامِ طہارت:

طہارت و پاکیزگی جزو ایمان ہے (مسلم) کسی برتن میں سے کتا پانی وغیرہ پی لے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو ڈالو- مومن کسی حال میں نجس نہیں ہوتا (بخاری) مونچھوں کو ترشوانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا، بغل اور زیر ناف بالوں کی صفائی اور پانی سے استنجا کرنا امور فطرت میں سے ہیں (مسلم) حیاء، خوشبو،، مسواک اورنکاح پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں (ترمذی) مونچھیں ترشوانے، ناخن لینے، بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے لیے 40 دن کی حد مقرر ہے۔ (مسلم)

مسواک:

میں اپنی امت پر اگر شاق نہ سمجھتا تو بے شک انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا(بخاری) نبی ﷺ رات کو اٹھتے تو اپنے دانتوں کو مسواک سے رگڑکر صاف کرتے تھے(بخاری) جبرئیل ؑ نے ہر ملاقات میں نبی ﷺکو مسواک کے لیے ضرور کہا(مسند احمد، ابو داؤد) نبی ﷺ جب بھی سوکراٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے (مسند احمد، ابو داؤد) وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے، بلا مسواک نماز کے مقابلہ میں ستر گنی فضیلت رکھتی ہے (بیہقی)

وضو:

مجھے صرف نماز کے لیے وضو کا حکم دیا گیا ہے (ابو داؤد، ترمذی، نسائی) وضو میں خشک رہ جانے والے پیروں کے ٹخنوں کو آگ کے عذاب سے خرابی ہونے والی ہے(بخاری) جریانِ مذی (پیشاب کے ساتھ منی نکلنے) سے صرف وضو فرض ہوتا ہے، غسل نہیں(بخاری) حَدَث یعنی پیشاب پاخانہ یا ہوا خارج ہونے کے بعد نماز کے لیے وضو کرنا ہوتا ہے- وضو کر نے والوں کے اعضاءمثلاً ہاتھ پاو ں وغیرہ قیامت کے دن چمک رہے ہوں گے- محض شک کی وجہ سے کوئی نماز نہ توڑے یہاں تک کہ ریح کی آواز سن لے یا بو پائے- وضو میں اعضاءکو تین تین بار دھونا۔ کلی اور ناک صاف کرنا۔ چہرے کو تین مرتبہ اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھونا۔ پھر سرکا مسح کرنا اور پھردونوں پیر ٹخنوں تک تین بار دھونا- دور رسالت میں میاں بیوی ایک برتن سے اکٹھے وضو کرلیتے تھے- نبی کریم ﷺ وضو صرف ایک مد (سَوالٹر) پانی سے کرلیا کرتے تھے- جب تم اپنی خواب گاہ میں آ ؤتو نماز کی طرح وضو کرلیا کرو۔ پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاﺅ(بخاری) وضو کی پوری نگہداشت بس مومن ہی کرسکتا ہے(موطا امام مالک) جب تم وضو کرو تو”بسم اللہ و الحمد اللہ“ کہہ لیا کرو (طبرانی) وضو سے فارغ ہونے والا گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے (مسلم)

یہ بھی پڑھیں:   مقامِ محمود - مفتی منیب الرحمن

بیت الخلاء:

بیت الخلاءمیں داخل ہونے کی دُعا: ”اے اللہ! میں خبیث جنوں اور جنّیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ کوئی پاخانے میں جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ اس کی طرف اپنی پشت کرے (بخاری) رفع حاجت کے لےے قبلہ کی طرف منہ یا پُشت کرکے نہ بیٹھو(ابن ماجہ و دارمی) بیت الخلاءجانے کی دُعا: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں نر و مادہ خبیث مخلوقات سے۔ (ابو داؤد و ابن ماجہ) بیت الخلاءسے باہر آکر پڑھو ”اَلحَمدُ اللہِ الَّذِی“ (نسائی)

استنجا:

نبی کریم ﷺپانی سے استنجاء فرماتے تھے- مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنا لیکن ہڈی اور گوبر سے نہیں- جو کوئی پتھر سے استنجاء کرے تو اُسے چاہیے کہ طاق پتھروں سے کرے (بخاری) استنجا کے لیے تین پتھروں کو استعمال کرو(ابن ماجہ) استنجا میں لید یا ہڈی استعمال نہ کرو نہ ہی داہنے ہاتھ سے استنجا کرو (ابن ماجہ)

پیشاب:

اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے اور چغلی کھا نے پر قبرمیں عذاب ہوتا ہے- دودھ پیتابچہ نے کپڑے پر پیشاب کردیاتو آپ ﷺ نے کپڑے پر پانی چھڑک دیا، اسے دھویا نہیں- نبی ﷺ کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ کے قریب تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا - کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو، پیشاب نہ کرے (بخاری) تم میں سے کوئی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے (ابو داؤد، نسائی)

حیض و استحاضہ:

کپڑے میں حیض آئے تو اسے کھرچ ڈالے۔ پانی ڈال کر رگڑے اور مزید پانی سے دھو ڈالے- جب حیض کا زمانہ آجائے تو نماز چھوڑ دو اور جب گزر جائے تو اپنے جسم کو دھو ڈالو- استحاضہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے، لہٰذا مستحاضہ نماز نہ چھوڑے (بخاری)- جو مناسک حج کرنے والا ادا کرتا ہے، حیض میں تم بھی کرو مگر کعبہ کا طواف نہ کرنا- نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کی کسی بیوی نے بھی اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں- دورانِ حیض نہ پڑھی جانے والی نمازکی قضا نہیں ہے (البتہ اس دوران کے روزوں کی قضا ہے)- اُمُّ المومنین اُمّ ِسلمہؓ حالتِ حیض میں ہوتیں اور نبیﷺ روزہ کی حالت میں آپ ؓ کے بوسے لیتے تھے- عورتیں باہر نکل کر مجالسِ خیر اوراجتماعی دعا میں شریک ہوں۔ البتہ حائضہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں-حضرت میمونہؓ حالتِ حیض میں نماز نہ پڑھتی تھیں اور نبی ﷺ کی نمازکی جگہ کے سامنے برابر لیٹی ہوتی تھیں(بخاری)

غسل:

احتلام کی وجہ سے اگر کوئی عورت اپنے کپڑے یا شرمگاہ پر پانی دیکھے تو اس پر غسل فرض ہوجاتا ہے(بخاری) نبی ﷺ ایک صاع سے پانچ مد(6 لٹر) پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے (بخاری)- نبی ﷺ جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو فرماتے- جنابت سے غسل فرماتے تو کوئی چیز مثل حلاب (خوشبو) وغیرہ لگاتے تھے- ایک دن موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنا لباس پتھر پر رکھ دیا- ایک مرتبہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ نہا رہے تھے- نبی ﷺ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ الزہرہؓ آپﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھیں۔ جماع کی کوشش کے دوران جب ختان، ختان سے تجاوز کرجائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے- غسل کی فرضیت کے لیے صرف دخولِ ذکر کافی ہے، انزالِ منی ضروری نہیں (بخاری) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں اور نبی ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے تھے (بخاری)

تیمم:

تیمم کے لیے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارو۔ ہاتھوں میں پھونک دو پھر ان سے اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلو-حالتِ جنابت میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمّم کر لو، یہی کافی ہے۔ (بخاری)

49۔ عبادت اور بندگی:

اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، فرض زکوٰة ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو(بخاری) اللہ کی عبادت اس خشوع و خضوع سے کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اور اگریہ حالت نصیب نہ ہو تو یہ خیال کرو کہ وہ تو تمہیں دیکھتا ہی ہے (بخاری) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر و(بخاری) نماز پڑھا کرو، زکوٰة دیا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو(بخاری) عبادت اور بندگی کرتے رہو صرف اللہ کی اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ کرو (مسلم) نماز قائم کرتے رہو، زکوٰاة ادا کرتے رہو اور صلہ رحمی کرو(مسلم) اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے موت کے دن تک برابر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے سجدہ میں پڑا رہے تب بھی قیامت کے دن اپنے اس عمل کو وہ حقیر ہی سمجھے گا (مسند احمد)

50۔ عہد، نذراورگواہی:

جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے معصیت نہ کرنی چاہئے(بخاری) مرحوم والدین کی مانی گئی نذروں کو پورا کیا جانا چاہئے(بخاری) ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے (مسند احمد)

گواہی:

نبی ﷺ نے فرمایا: میرے عہد کے لوگ سب سے بہترہیں۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے- اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنا ناگزیر ہی ہوجائے تو یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں۔ ویسے اللہ اس کے لیے کافی ہے(بخاری)

51۔ عیدین ؛ قربانی، ذبیحہ اور شکار:

عیدالفطر اور عیدالضحیٰ کے دن روزہ نہ رکھا جائے(بخاری) عیدالفطر کی نماز کےلیے کچھ کھا کے جانا اور عیدالاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہ کھانا (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) عیدالاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں(ترمذی) قربانی کا گوشت خود کھانا، دوسروں کو کھلانا اور جمع کرکے رکھنا سب جائز ہے(بخاری) قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے (مسلم) اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن 10 ذی الحجہ (عید الاضحیٰ) کا دن ہے(مسند احمد)

ذبیحہ:

مرتے ہوئے بکری کونوکدار پتھر سے ذبح کیا گیا تونبی ﷺ نے اس ذبیحہ کو حلال قرار دیا(بخاری) جو چیز بھی کاٹنے کے قابل ہو اور خون بہادے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ دانت اور ناخن سے نہ ذبح کرنا چاہئے(بخاری)

شکار:

جس جانور کو تیر دھار کی طرف سے لگے، صرف وہی حلال ہے۔ جسے تیر عرضاً لگے وہ حلال نہیں- اہل کتاب کے برتنوں کے سوا اور برتن نہ ملیں تب انہی برتنوں کو دھو کر اُن میں کھا سکتے ہیں- کتا پالنے سے نیکی کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی ہے اگر کتا شکاری یا مویشیوں کا رکھوالا نہ ہو- صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کے ساتھ ٹڈیاں کھایا کرتے تھے- نبی ﷺ نے مرغی وغیرہ کو باندھ کر نشانہ لگانے والے پر لعنت فرمائی ہے- رسول اللہ ﷺ نے کیچلیوں والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے (بخاری) مری ہوئی بکری، مویشی وغیرہ کے کھال سے فائدہ ٹھانا جائز ہے(بخاری)

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.