جب آنکھ نہ کھلی - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

نئے مکان میں منتقلی کی خبر جب سے سنی تھی، زوبیہ کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے، کیا واقعی اس کا کنبہ اندرون شہر کے گنجان اور تنگ و تاریک محلے سے خیابان ِ گلبہار میں شفٹ ہو رہا ہے؟ اس نے ٹیلیفون پر قریب و دور کے رشتہ داروں کو خبر سنائی، جسے کچھ نے خوشی اور کچھ نے صبر کے ساتھ سنا۔ اس کے شوہر کی نئی کمپنی میں ملازمت تھی، جس کی سہولتوں میں ایک عمدہ سا گھر بھی شامل تھا، تقریباً ایک جیسے گھر اور ایک ہی ادارے کے آفیسرز، قریب ہی کھیل کا میدان بھی اور پارک بھی، جس میں پیڈسٹیرین ٹریکس بھی بنے ہوئے تھے، مارکیٹ اور مسجد بھی اور سکول بھی! نئے گھر میں منتقل ہونے کے بعد جہاں فہد نے سکھ کا سانس لیا تھا وہاں زوبیہ کی سرشاری کا عجب عالم تھا، اسے اپنے اندر ایک نئی زندگی کا احساس ہو رہا تھا، جس حسین اور خوشگوار زندگی کے اس نے خواب دیکھے تھے، وہ اب اس کے سامنے تھی۔ نہ دیورانیوں، جیٹھانیوں کے جھگڑے، نہ بچوں کی شرارتوں سے ہونے والی بد مزگیاں اور نہ گھر کے خرچ کی تقسیم پر بھائیوں کے درمیان کِل کِل۔ والدین کچھ عرصہ قبل راہئ‏ ملک عدم ہوئے تھے، اس لیے ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی نہ تھا، اکلوتی نند دور رہتی تھی، اس لیے اس کی آمد بھی کئی مہینوں بعد ہوتی اور والدین کے بعد محض سال میں ایک دو مرتبہ!

زوبیہ نے نئے گھر میں آنے کی خوشی میں کتنا کاٹھ کباڑ وہیں ٹھکانے لگا دیا تھا بلکہ آخری دنوں میں تو وہ جیسے ہر پرانی چیز کو سر سے اتار پھینک رہی تھی، اس امید پر کہ بہت کچھ نیا لے لے گی۔ فہد نے آفس میں کمیٹی ڈالی اور نئے گھر میں نیا بیڈ سیٹ ڈال لیا۔ اس کے بہن بھائیوں نے مل کر اسے صوفہ سیٹ لے دیا اور نانا نانی نے شہر یار کا کمرہ سجا دیا، آخر کو ان کا اکلوتا نواسا تھا۔ زوبیہ نے نئی رہائش کے تقاضوں کے مطابق ملازمہ بھی رکھ لی تھی، اگرچہ اس کا دل چاہتا کہ خود ہی گھر کے گوشے گوشے کو چمکا دے، نئے گھر میں آنے کے بعداس کے پاؤں میں پھرکی لگ گئی تھی، بھاگ بھاگ کر اپنے پیارے سے گھر کو سجاتی رہتی، فرصت کے طویل اوقات اسے میسر تھے، صبح فہد کے آفس اور شہریار کے سکول جانے کے بعد وہ کسی نہ کسی پڑوسن کے ہاں بھی ہو آتی۔ وہیں اسے معلوم ہوا کہ کچھ خواتین شام عصر کے وقت پارک میں واک بھی کرتی ہیں۔ فہد کی اجازت سے وہ بھی واک کرنے لگی۔ جب خواتین اکٹھی ہوں تو نئی نئی دلچسپیاں جنم لیتی ہیں، نت نئے فیشن زندگی میں شامل ہوتے ہیں، زوبیہ بھی ہر نئی چیز کو حیرت سے دیکھتی اور پھر اس کا دل اسے حاصل کرنے کے لیے مچلنے لگتا۔

ہر ہفتے کو وہ فہد کے ساتھ کہیں نہ کہیں جانے کو تیار رہتی، کبھی شہریار کو سیر کروانی ہے تو کبھی شاپنگ، کبھی کچن کے نئے سامان کی ضرورت ہے تو کبھی موسم کے مطابق کپڑوں کی۔ ربیع الاول میں سب پڑوسنوں نے باری باری محفل ِ میلاد کا انعقاد کیا تو زوبیہ بھی بے چین ہو گئی اور پھر بڑے سلیقے سے نسبتاً کم بجٹ میں اس نے گھر میں میلاد کی محفل منعقد کروا لی۔ فہد کا ہاتھ تنگ ہوا مگر وہ بیوی کی خوشی کی خاطر برداشت کر گیا۔ اس کے بعد محلہ کمیٹی کے لیے زوبیہ نے اصرار کیا، اس کی تفصیلات یہ تھیں کہ ہر خاتون ایک ایک کمیٹی ڈالے گی اور جس ماہ جس کی کمیٹی نکلے گی اسی کے گھر سب کی گیٹ ٹو گیدر ہو گی، ایک بھرپور ہائی ٹی کا اہتمام بھی! فہد نے اسے روکنا چاہا، مگر بوتل کا جن باہر آچکا تھا، زوبیہ کے مطابق فہد ہائی سوسائٹی کے طور طریقوں سے نا بلد تھا، اس لیے اعتراض کر رہا تھا حالانکہ اس سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر کتنے ہی کام سنور جاتے ہیں، انہیں نئے تعلقات کی بنا پر نہ صرف اگے سیشن میں شہریار کے نئے سکول میں داخلے کا چانس بنا تھا بلکہ مسز ملک نے اس کے بھائی کی جاب کے لیے بھی سفارش کا عندیہ دیا تھا۔

یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ زوبیہ کی دوسری کمیٹی نکل آئی تھی، اس ماہ اسے اپنے گھر میں گیٹ ٹو گیدر کا اہتمام کرنا تھا۔ پارٹی اتنی اچھی ہو گئی تھی کہ زوبیہ تعریفیں سمیٹ سمیٹ کر سرشار ہوتی رہی۔ اسے ذرہ برابر افسوس نہ تھا کہ وہ فہد کے دیے گئے بجٹ سے باہر نکل چکی تھی اور کمیٹی کا کچھ حصّہ ہاتھ میں آنے سے پہلے پارٹی کی نذر ہو گیا تھا، نتیجتاً فہد تین دن اکھڑا اکھڑا رہا۔

رمضان المبارک کی آمد آمد تھی، خیابان ِ گل بہار میں زوبیہ کا پہلا رمضان آنے کو تھا۔ مرد و زن رمضان کی تیاری میں مگن تھے، بچے بھی روزوں کی سحر و افطار کی لذت کا ذکر کرتے۔ اس دن بھی واک کے دوران روزے کا ذکر چلا تو زوبیہ بجھ کر رہ گئی، اسے روزہ رکھنے سے بچپن سے ہی بڑا خوف آتا، اس کے گھر کے بڑے بزرگ تو روزہ رکھتے تھے مگر سارا بچپن اس نے روزہ نہ رکھا۔ اگر کبھی رکھا بھی تو بھوک پیاس کی شدت سے آدھے دن کے بعد ہی توڑ دیا۔ یوں بھی وہ اپنے بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی، جو ماں کے اصرار پر اس کے لیے ہمیشہ دیوار بن جاتے تھے۔ سسرال میں پہنچی تو نہلے پر دہلا کے مصداق اس کے شوہر کو بھی روزوں سے کوئی خاص شغف نہ تھا۔ بچپن میں کچھ روزے تو اس نے رکھے تھے مگر جب کیڈٹ کالج میں گیا تو وہاں اسے یہی تعلیم دی گئی کہ روزے سے اپنے جسم کی طاقت کو کم نہ کرو، لاغر ہو جاؤ گے تو اتنی کڑی ورزشیں کیسے کرو گے؟ اور پھر روزے ایک مرتبہ اس کی زندگی سے نکلے تو پھر ایک دو مرتبہ کے سوا زندگی میں داخل نہ ہو سکے۔ اب وہ لگ بھگ چالیس برس کا تھا، کئی مرتبہ روزہ رکھنے کی خواہش تو دل میں پیدا ہوئی مگر ایک تو اس کی بیوی کو ہی روزے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ دوسرا وہ سگریٹ نوشی کی عادت ِ بد کا شکار ہو چکا تھا، کھانا پینا چھوڑنا اس کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا مگر سگریٹ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   فلسفہ صیام - مقصود حسین

شہریار اب دس برس کا ہونے کو تھا۔ وہ دوستوں کے قصّے گھر آکر سناتا، پچھلے رمضان میں کسی نے دس روزے رکھے تھے تو کسی نے بیس۔ ایسے ہر ذکر کے بعد وہ خاموش ہو جاتا لیکن اس کی کیفیت بتاتی تھی کہ وہ بھی روزہ رکھنا چاہتا ہے۔ رمضان شروع ہوا تو بستی میں ہر جانب نیکی اور تقویٰ کی خوشبو پھیل گئی۔ شام کے وقت خواتین کی واک کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا، اس لیے کافی حد تک اس وقت کے روابط کم ہو گئے، لیکن افطار کے وقت محلے میں بننے والے پکوانوں کی مہک اتنی تیز تھی کہ زوبیہ اور شہریار دل مسوس کر رہ جاتے۔ فہد نہ جانے کیا محسوس کرتا تھا لیکن زوبیہ نے دیکھا کہ اس نے عصر مغرب کی نماز کے لیے مسجد جانا شروع کر دیا ہے۔ شاید وہ معاشرتی دباؤ کا شکار ہو رہا تھا۔ کبھی کبھار کسی ہمسائے سے افطاری کی سجی سجائی ٹرے بھی آنے لگی۔ زوبیہ نجانے کیا خوف محسوس کر رہی تھی کہ وہ پوری رات باورچی خانے کی روشنی گل نہ کرتی اور فون پر بھی روزے کے ذکر پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگتی۔ پڑوسیوں کی جانب سے افطار پارٹیاں شروع ہوئیں اور اس کے ساتھ ہی بچوں کی روزہ کشائی کی تقریبات بھی۔ شہریار کے دوست کے چھوٹے بھائی کی روزہ کشائی کی تقریب سے واپس لوٹے تو وہ سب ہی خاموش تھے، اچانک شہریار بولا: ’’پاپا، میری بھی روزہ کشائی کروائیں نا۔۔ ‘‘۔

ان دونوں نے اسے چونک کر دیکھا اور فہد نے مسکراتے ہوئے کہا ’’کیوں نہیں بیٹا۔ آپ روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو روزہ بھی رکھوائیں گے اور روزہ کشائی کی تقریب بھی کریں گے‘‘۔

زوبیہ جو پریشان ہو اٹھی تھی تقریب کے نام پر خوش ہو گئی، اور بولی ’’بالکل صحیح۔ ہم ضرور روزہ کشائی کروائیں گے بیٹے کی۔‘‘

اب شہریار کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا، وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اتنے دن سے دل میں پلنے والی خواہش اتنی آسانی سے پوری ہو جائے گی۔ حسن کا بھائی تو مجھ سے بھی چھوٹا ہے، وہ روزہ رکھ سکتا ہے تو میں کیوں نہیں، وہ اپنی ہی ترنگ میں بولا ’’ماما پاپا، آپ بھی روزہ رکھیں گے نا میرے ساتھ۔‘‘

’’کیوں نہیں بیٹا، میں بھی بچپن میں رکھا کرتا تھا روزے۔۔‘‘ فہد قدرے تاسف سے بولا۔

’’اور ماما آپ۔۔؟‘‘ وہ ماں کو کرید رہا تھا۔

’’ہوں۔۔ ہمارے گھر میں بھی رکھتے تھے سب روزے۔۔ ‘‘، اس نے گول مول بات کی۔

طے پایا کہ آنے والے جمعہ کو شہریار کی روزہ کشائی ہو گی۔ فہد اور زوبیہ نے بھی اس روز روزہ رکھنے کا پکا ارادہ کیا اور تقریب کی تیاریوں میں لگ گئے۔ سب سے پہلے مہمانوں کی لسٹ بنائی گئی، حیرت کی بات یہ تھی کہ اس تقریب کی تیاریوں میں فہد بھی بڑے جوش سے حصّہ لے رہا تھا، اس نے اپنے بہن بھائیوں زوبیہ کے والدین اور بھائیوں کے خاندانوں کو بڑے اصرار سے بلایا، کچھ پرانے محلے کے دوستوں کو بھی اور نئی ملازمت کے نئے نئے دوستوں کو جن کی زیادہ تر تعداد خیابان ِ گل بہار ہی میں رہتی تھی، اپنے باس کو خاص طور پر مدعو کیا۔

زوبیہ نے گھریلو ملازمہ سے خاص طور پر تقریب کے لوازمات کے بارے میں پوچھا اور اگلی جن تقریبات میں بھی وہ گئے، خاص انداز سے ان کا جائزہ لے کر اپنے گھر میں ہونے والی روزہ کشائی تقریب کی منصوبہ بندی کرتی رہی۔

فہد چپکے سے شہریار کے لیے ’’پلے سٹیشن‘‘ بھی لے آیا اور الماری میں رکھ دیا تاکہ روزہ میں اس کے لیے کوئی ایسی انٹرٹینمنٹ ہو کہ روزہ اس پر بھاری نہ ہو۔ اس جانب بھی اس کی توجہ اس کے آفس کے کولیگز نے ہی دلائی تھی، جو رمضان میں آفس کا کام نبٹا کر اے سی کی ٹھنڈک میں بیٹھے چار بجے تک ’’فورٹ نائٹ‘‘ یا ’’فیفا‘‘ سے لطف اندوز ہوتے۔ یوں جون جولائی کے روزے میں نہ پیاس کی شدت محسوس ہوتی، نہ آنکھوں میں نیند اور کاہلی کا احساس ہوتا، پھر وہ سب اکٹھے ہی گھروں کی راہ لیتے جہاں بستر ان کے منتظر ہوتے اور وہ عصر پڑھ کر جو سوتے تو روزہ کھلنے سے کچھ پہلے ہی بیدار ہوتے۔

جمعرات کو وہ شہریار کو ساتھ لے کر مسجد گیا، جہاں باپ بیٹے نے عشاء پڑھی، شہریار گھر آکر جلد ہی سو گیا جبکہ فہد آفس کی فائل کھول کر بیٹھ گیا۔ زوبیہ مسلسل افطاری کے لوازمات اور گھر کی ترتیب درست کرنے میں لگی رہی، تھکاوٹ اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ فہد نے اس سے کہا کہ وہ سو جائے، یوں بھی وہ بیدار ہے اور سحری کر کے ہی سوئے گا، اس لیے مقررہ وقت پر اسے جگا دے گا۔ باس کو اس نے کل کی چھٹی کا بتا دیا تھا، اسی لیے کچھ کام گھر لے آیا تھا۔ اس نے زوبیہ کو گارنٹی دی تو وہ فوراً ہی بستر پر چلی گئی، نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں اور مزید جاگنا اس کے بس میں نہ تھا۔ فہد کچھ دیرفائلیں دیکھتا رہا، تھکاوٹ کا احساس ہوا تو بے اختیار اس کے ہاتھ سگریٹ کی ڈبیا کی جانب گئے، ڈبیا میں صرف ایک سگریٹ تھا ’’اوہ۔۔ یہ تو سحری کے بعد پیوں گا۔ ورنہ سارا دن کیسے گزرے گا؟‘‘، وہ خود کلامی کے انداز میں گویا ہوا اور سگریٹ واپس رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   گنتی کے چند دن - ام محمد عبداللہ

کام سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا تھا، ابھی دو بجے تھے، اسے مزید ڈیڑھ گھنٹا جاگنا تھا، اس نے کمرے میں چہل قدمی کی، فریج سے پانی کی بوتل نکالی، ایک گلاس پانی پی کر اسے کچھ بیداری کا احساس ہوا۔ اچانک اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، آفس میں دوستوں کی بتائی ہوئی گیم آن کی اور اس میں مگن ہو گیا۔ لیکن یہ کیا؟ اسے اب تک جمائیاں آ رہی تھیں۔ وہ کھیل رہا تھا صرف اس لیے کہ اسے وقت کاٹنا تھا۔۔ ڈیڑھ گھنٹا مزید!

سورج کی کرنیں زوبیہ کے چہرے پر پڑیں تو وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ نجانے وہ کتنی دیر یونہی سوتی رہی تھی۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے گھڑی کی جانب دیکھا ’’اوہ۔۔ یہ کیا ہو گیا؟‘‘ گھڑی کی سوئیاں اس کا منہ چڑا رہی تھیں۔ صبح کے سات بج رہے تھے۔

وہ بھاگتی ہوئی لاؤنج کی جانب بھاگی۔ فہد صوفے پر آڑھا ترچھا سو رہا تھا، لیپ ٹاپ کی سکرین کھلی ہوئی تھی اور ماؤس اس کے ہاتھ کے قریب پڑا تھا، اس نے چیخ مار کر اسے جگایا، وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، ’’ اوہ۔۔ میں گیم کھیلتے ہوئے سو گیا تھا شاید۔‘‘

زوبیہ نے شکوہ بھری نگاہوں سے اسے دیکھا، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ وہ بھی سر پکڑے بیٹھا تھا، اتنی دیر میں شہریار بھی اٹھ گیا۔ وہ شاید ماں کی چیخ سے بیدار ہوا تھا۔

’’ماما۔۔ ماما۔۔ روزے کے لیے نہیں اٹھایا آپ نے مجھے؟‘‘، وہ رو دینے کو تھا۔

’’بیٹا! ہم سب کی آنکھ ہی نہیں کھلی۔‘‘ زوبیہ نے بمشکل جواب دیا۔

’’اب کیا ہو گا؟ کتنے لوگوں کو گھر بلایا ہوا ہے۔۔‘‘ فہد کے اندیشے عروج پر تھے۔ ’’تم نے اپنا الارم لگایا ہی نہیں تھا؟‘‘ وہ قدرے بیزاری سے بولا۔

’’پتا نہیں میرا الارم بجا بھی تھا یا نہیں۔۔ ‘‘، وہ مایوسی سے بولی۔

اتنی دیر میں شہریار اس کا موبائل اٹھا لایا، جو چارجنگ ختم ہونے کی بنا پر بند پڑا تھا۔ زوبیہ نے ٹھنڈی آہ بھری اور اسے ایک جانب رکھ دیا۔ سبھی خاموش بیٹھے تھے، آخر فہد نے ہی اس چپ کو توڑا ’’کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم سحری میں نہیں اٹھے۔ بس اب تو اپنی عزت بچاؤ۔ پتا نہیں کہاں سے تمہیں نئے نئے آئیڈیاز آتے ہیں۔۔ روزہ کشائی۔۔؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔

زوبیہ کی رہی سہی ہمت بھی دم توڑ گئی۔ فہد نے کتنے آرام سے اسے الزام دے دیا تھا حالانکہ یہ تقریب رکھنے میں وہ خود پیش پیش تھا۔

وہ ابھی تک ہاتھوں سے سر سہلا رہا تھا، اس نے قریب پڑی سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی اور اکلوتا سگریٹ سلگا لیا۔ تھوڑی دیر میں زوبیہ اس کے لیے چائے اور ناشتا لے آئی۔ ابلے انڈے، توس، اور جام مکھن وغیرہ۔ کسی نے نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔ بس تینوں نے ناشتا کرنے لگے، بالکل چوروں کی مانند، شاید وہ ایک دوسرے سے چھپنا چاہ رہے تھے۔

جمعہ پڑھ کر سبھی انتظامات میں مشغول ہو گئے۔ کیٹرنگ والوں نے سرسبز لان میں سفید سفید کرسیاں اور میز لگا دیں اور ایک جانب برتن اور دیگر لوازمات سجا دیے۔ استقبالیہ کے قریب ایک میز تحائف کے لیے رکھ دی گئی۔ مغرب سے کچھ پہلے مہمان بھی آنا شروع ہو گئے، زوبیہ کی جیٹھانی نے آتے ہی اسے گلے لگا لیا ارے واہ، بھابھی نئے گھر میں آ کر آپ کتنی بدل گئی ہیں؟ ہمارے لیے تو بالکل سر پرائز تھا یہ پروگرام۔ جیٹھانی صاحبہ نے الفاظ کی مٹھاس میں بھی بہت کچھ کہہ دیا تھا۔ کچھ دیر میں اس کے بھائی، بھابھیاں اور والدین بھی پہنچ گئے تھے۔ والدہ منہ سے کچھ نہ بولی تھیں مگر زوبیہ اور شہریار کے چہرے کی تازگی سے وہ حیران ہو رہی تھیں۔ جولائی کے مہینے میں پہلا روزہ اور اس کے بدنی اثرات سے بالکل محروم!

مہمانوں کی اکثریت پہنچ چکی تھی، وہ لان میں کرسیوں پر بیٹھنے لگے۔ افطاری کے لوازمات میکانکی انداز میں میزوں پر دھرے جا رہے تھے، روزہ کھلنے سے کچھ دیر پہلے کھانا بھی پہنچ گیا تھا۔ آنے والے سبھی مہمان شہریار کو پیار کرتے، کوئی کندھا تھپتھپاتا اور روزہ کشائی کا انعام مخصوص میز پر پہنچ جاتا،۔ اس بھری ہوئی میز کو دیکھ کر شہریار کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ یہ سب تحائف اسی کے لیے تو آئے تھے۔ زوبیہ بھی انتظامات میں اتنی گم ہو چکی تھی کہ وہ صبح کے حادثے کو بھی تقریباً بھول چکی تھی البتہ ہر تحفہ وصول کرتے ہوئے اس کی باچھیں کھل اٹھتیں۔ اس سارے ہنگامے کے ختم ہونے کا اسے شہریار سے کچھ کم انتظار نہ تھا۔ افطار میں چند ثانیے باقی تھے، مہمان افطاری کے لوازمات پلیٹوں میں لیے کان مؤذن کی پکار سننے پر لگائے بیٹھے تھے، جب اچانک شہریار کا کزن خالد بھاگتا ہوا آیا، اور اپنی ماں سے زور سے بولا ’’اماں، اماں۔۔! شہریار نے تو روزہ رکھا ہی نہیں۔ وہ ابھی اندر پکوڑا کھا رہا تھا، آنٹی انکل کی سحری میں آنکھ ہی نہیں کھلی۔ سات بجے ناشتا کیا ہے سب نے۔۔ مجھے شہریار نے بتایا ہے۔‘‘

فہد کے ہاتھ سے کھجور پھسل کر نیچے گر چکی تھی۔ روزہ کشائی سے پہلے ہونے والی لب کشائی نے اس کنبے کو کہیں کا نہ چھوڑا تھا، جھوٹ پر بنا عزت دار محل لمحوں میں زمین بوس ہو گیا۔

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.