[نظم کہانی] قانون - محمد عثمان جامعی

گھنٹوں دھوپ جَلی سڑکوں پر

سورج سے دہکے رستوں پر

چلتا رہا وہ رکشہ دن بھر

پھر اک سڑک کنارے رُک کر

لاغر سے رکشے والے نے

میلی کچیلی سی تھیلی سے

جوں ہی نکالا اپنا کھانا

چند پکوڑے، باسی سموسہ

ایک پولیس والا آپہنچا

”احترام روزے کا توڑا

مجھ پر تُف جو تجھ کو چھوڑا“

پھر سگریٹ جلاکر بولا

چل رکھتا ہوں ہاتھ میں ہولا

لا، قانون کو ہرجانہ دے

جیب میں ہے جو بھی پیسہ دے