خیبر پختونخوا حکومت کا ایک محتاط تجزیہ - ارشد زمان

صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کئی ایک حوالوں سے بہت ررہی۔ پچھلی صوبائی حکومت کی بہ نسبت مجموعی طور پر کرپشن میں غیر معمولی اضافہ نہیں رہا اور حکومت کے اپنے وزراء کافی حد تک کرپشن کے الزامات سے پاک رہے، جس کا اثر بہرحال اداروں پر واضح طور پر نظر آیا۔ نوکریوں کی بندر بانٹ، خرید و فروخت اور ٹرانسفر کلچر، اور وہ بھی رقم کے عوض، کافی حد تک کنٹرول رہا۔ محکمہ ہیلتھ میں بڑی تعداد میں بھرتیاں خوش آئند رہیں۔ وزارت بلدیات کی کارکردگی مثالی رہی اور ایک مردہ محکمے میں جان ڈال کر پوری صوبائی حکومت کے ما تھے کا جھومر رہا۔

پشاور کو جس طرح خوبصورت، گرین اینڈ کلین کرایا گیا وہ ایک مثال ہے۔ اگرچہ وہ پرویزخٹک صاحب کی جلد بازی، بے صبری، مس مینیجمنٹ اور غیرضروری اقدامات کی بھینٹ چڑھا اور آسان الفاظ میں چار سال کی محنت شاقہ اور ثمر اور کارکردگی پر پانی ہی کیا، خاک ڈال کر بے توقیر کر گیا۔ مجموعی طور پر امن امان کی صورتحال ٹھیک رہی اور خاص کر بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان پر بڑی حد تک قابو پایا گیا اور اندھیرنگری چوپٹ راج والی صورتحال نہیں رہی۔

لیکن ۔۔۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ مجموعی کارکردگی جناب عمران خان صاحب کے خوابوں، دعووں، نعروں اور وژن سے کوسوں دور رہی اور کوئی واضح و مثالی جھلک نظر نہیں آتی۔ بلاشبہ کچھ روایتی اچھے اقدامات اٹھا بھی لیے گئے مگر کوئی انقلابی اقدام، متاثر کن اصلاحات اور مثالی و واضح تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔ احتساب کے نظام کو مذاق بنایا گیا، ایجوکیشن، ہیلتھ، سی اینڈ ڈبلیو اور پولیس ڈپارٹمنٹ میں اصلاحات کا چرچہ رہا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات یعنی کوئی ایسی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی جو کہ آئندہ کے لیے کوئی مثال قرار پائے۔ کرپشن الزامات کے باوجود قومی وطن پارٹی کو دوبارہ حکومت میں شامل کرنا، اینٹی کرپشن واحتساب کمیشن کو بے اثر رکھنا اور خان صاحب کی بالکل واضح تنقید کے باوجود پنجاب کے مقابلے میں پشاور میں ناکام بی آر ٹی منصوبہ شروع کرانا، ریکارڈ 2 کھرب 70 ارب 38 کروڑ روپےکا قرضہ لینااور خان کی عین خواہش اور منصوبے کے علی الرغم دوران دھرنا اسلام آباد، صوبائی حکومت کے خاتمے سے انکار اور سینیٹ الیکشنز میں بارگینگ اور ممبران کی خرید و فروخت وہ امور ہیں جس میں ایک لحاظ سے خان صاحب کو آنکھیں دکھائی گئیں کہ صوبائی و مرکزی عہدیداران کی ترجیحات اور اہداف کچھ ہیں۔

صوبائی حکومت اور صوبائی اداروں میں کوآرڈینیشن، انڈرسٹینڈنگ اور باہمی تعاون کا فقدان رہا بلکہ صحیح معنوں میں بیوروکریسی نے کئی حوالوں سے حکومت کو گھاس تک نہیں ڈالی اور اس کی ایک اہم وجہ جناب عمران خان اور جہانگیر ترین وغیرہ کی ڈائریکٹ مداخلت اور وزیر اعلیٰ کے مقابلے میں اعلیٰ افسران کی حوصلہ افزائی رہی۔ ایک لحاظ سے وزیراعلیٰ کچھ بے بس بھی رہے۔

خلاصہ یہ کہ کوئی واضح اہداف کا حصول، قابل فخر پروجیکٹس کی تکمیل، واضح اور بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر مینیجمنٹ کا فقدان چیخ چیخ بولتا رہا۔ جناب عمران خان کے بہت کچھ کر گزرنے کے خواہش کے باوجود بہت ساری تشنگی رہی اور ایک لحاظ سےخواہشیں اور حسرتیں ہی دل میں رہیں کہ نہ قابل ذکر باصلاحیت ٹیم دستیاب ہوئی اور نہ کوئی وژنری،م نصوبہ ساز اور با کردار کپتان ملا۔

احباب اس تجزیے کو اس تناظر میں دیکھیں کہ اول، دعووں کے مطابق تحریک انصاف کوئی عام روایتی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ تبدیلی اور نئے پاکستان بنانے کا نعرہ لیے ایک انقلابی جماعت ہے۔ دوم، پہلے کی بنسبت اب اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبہ کئی امور میں آزاد اور خود مختار ہے۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */