بے ہودہ گوئی اور دیندار طبقہ (2) - بشارت حمید

پچھلی قسط

جس واقعہ سے پچھلے مضمون کی ابتداء کی گئی تھی اس کا زیر بحث معاملے سے ربط یہ ہے کہ ذرا تصور کیجیے ایک عالم دین درس قرآن دے رہا ہے۔ قرآن اللہ رب العالمین کا کلام ہے جو انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اگر قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا عربی جانتا اور سمجھتا ہو یا کم از کم اس نے ترجمہ ہی پڑھ رکھا ہو تو اسے بخوبی یہ معلوم ہوگا کہ قرآن مجید کا سارا فوکس انسان کی آخرت میں کامیابی اور محاسبے پر ہے۔ جو عالم یا طالب علم اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے درس و تدریس کرے گا اس کے دل میں اللہ کا خوف ضرور ہوگا۔

لیکن اگر کوئی اس کام کو جاب سمجھ کر کرے گا کہ میں مدرس ہوں اور قرآن پڑھانا میری جاب ہے تو پھر یہی رویہ سامنے آئے گا کہ بے مقصد گفتگو کرکے اسے مزاح کا نام دیا جائے اور اس کی ضرورت یہ بتائی جائے کہ درس میں شرکاء کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے ایسا مزاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی قرآنی محفل میں اللہ اور آخرت کا ذکر معاذاللہ ایک بوریت کا ماحول پیدا کرتا ہے اس لیے یہ ظریفانہ چٹکلے بوریت دور کرنے کے لیے ڈالے گئے ہیں۔

سورہ النجم کی آخری آیات اگر ذہن میں رہیں کہ " یہ ایک تنبیہہ ہے پہلے سے آئی ہوئی تنبیہات میں سے۔۔ آنے والی گھڑی قریب آ لگی ہے۔۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں ہے۔۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو۔۔ تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔۔ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔۔ اللہ کے آگے سجدہ کرو اور بندگی بجا لاو"

قرآن مجید سامنے رکھ کر وہ "ظریفانہ" چٹکلے بیان کرنے کی ہمت کیسے پیدا ہو جاتی ہے جن کی صحت اور سچائی بھی ثابت نہیں ہے۔ بینگن کی اس تشریح کو کم از کم ظرافت تو نہیں کہا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   بے ہودہ گوئی اور دیندار طبقہ - بشارت حمید

یہاں صرف ایک سوال کا جواب عنایت کر دیا جائے تو نوازش ہو گی کہ اگر یہی کام کسی لبرل یا سیکولر مائنڈ بندے نے کیا ہوتا تو اس پر دینی طبقے کا یہی ردعمل آتا جو اب آ رہا ہے۔۔

علماء اپنی تقاریر میں ہلکی پھلکی لیکن سلجھی ہوئی ظرافت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں لیکن کیا اب ظرافت کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ اس میں لچر پن شامل ہونے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں۔ کوئی منبر پر بیٹھ کر ماں بہن کی گالیاں دے رہا ہے اور اسے معاذاللہ قرآن سے ثابت بھی کر رہا ہے اور کوئی نجی محفلوں میں فحش گوئی بھی جائز سمجھتا ہے۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے میں اگر انا آڑے آ رہی ہو تو پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جائے۔۔ ہر انسان خطاکار ہے غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن اس کو تسلیم کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے اس پر ڈٹے رہنا اور اس کو درست ثابت کرنا ابلیس کا شیوہ ہے جس نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا اور اس پر اپنی دلیل بھی پیش کی تھی کہ میں اس سے افضل ہوں تو اس کے سامنے سجدہ کیوں کروں۔

اگر موجودہ دور میں فحاشی کے بارے حساسیت ختم ہو چکی ہے اور اس طرح کی باتیں مدارس میں عام ہوتی ہیں تو پھر عوام الناس کو فحاشی سے کون روکے گا۔ جیسا کہ حضرت ویڈیو میں دو عورتوں کا قصہ بیان فرما رہے ہیں کہ طالب علموں نے چٹ لکھ کر پھینکی کہ یہ خدمت ہم بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ یہی کہ گناہ میں شامل ہونے کی خواہش کرناکوئی عیب نہیں رہا۔

پھر اس ظرافت کے بعد فوری طور پر آپ قرآن کی اگلی آیات کا ترجمہ بیان کرنے لگتے ہیں جن میں آخرت کا تذکرہ ہے۔ اس سیشن کے بعد شرکاء کے ذہن میں یہ لطائف حاوی رہیں گے یا آخرت کے تذکرے والی آیات۔ میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ آخرت والی آیات کو روٹین میں لیا جائے گا اور اس ظرافت کا تذکرہ ہر کسی کی زبان پر ہوگا۔ تو پھر کلام اللہ کا درس دینا جاب کا حصہ ہی ہوا اور اصل مشہوری تو ظرافت ہی کی ہو گی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.