میڈیا ٹریپ - حسیب احمد حسیب

میڈیا اور کردار سازی اور میڈیا اور کردار کشی کا تعلق انتہائی قدیم ہے۔ ہر دور میں اس دور کے معیارات کے مطابق میڈیا نے یہ کام سرانجام دیا ہے لیکن اصحاب بصیرت کا یہ کام نہیں کہ میڈیا کے ہتھکنڈوں کے سامنے سپر ڈال دیں بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ احقاق حق کا فریضہ سرنجام دیں۔

دور نبوی صل اللہ علیہ وسلم سے ہی ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ کتاب اللہ کا اپنا بیان ہے۔ سورة النُّور 24، رکوع 8، آیات 11 سے 28 کہ "جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں، وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعہ کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو، بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے٬ج س نے اس میں جتنا حصہ لیا اتنا ہی گناہ سمیٹا۔ اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ، اس کے لیے تو عذابِ عظیم ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا، اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے٬؟ وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا، تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے، ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا (ذرا غور تو کرو اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے، جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہیں تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔ کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا، ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا۔ سبحان اللہ! یہ تو ایک بہتانِ عظیم ہے، اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے، وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، اگر اللہ کا فضل اوررحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے۔"

آپ نے اکثر ایک اصطلاح سنی ہوگی "Character assassination" اب اس کی کچھ تفصیل ملاحظہ کیجیے:

In practice, character assassination may involve doublespeak, spreading of rumours, innuendo or deliberate misinformation on topics relating to the subject's morals, integrity, and reputation. It may involve spinning information that is technically true, but that is presented in a misleading manner or is presented without the necessary context. For example, it might be said that a person refused to pay any income tax during a specific year, without saying that no tax was actually owed due to the person having no income that year, or that a person was sacked from a firm, even though he may have been made redundant through no fault of his own, rather than being terminated for cause.

الفاظ کا رد و بدل باتوں کو اپنی اصل سے گھما دینا، گفتگو سے ابہام کا پیدا کرنا، ایسے جملے پھینکنا کہ جن کے متعدد معنی نکل سکتے ہیں، معلومات کا مکمل فراہم نہ کیا جانا قبل ازوقت نتائج کا اخذ کرنا، ابتدا ہی میں شخصیات کے حوالے سے فیصلہ کر بیٹھنا، جانبداری کا مظاہرہ کرنا، مسلکی قومی فکری یا وطنی عصبیت میں مبتلا ہونا یا پھر "سامنے دکھائی دینے والا کوئی بڑا مادّی فائدہ"۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے -اسماء طارق

اب ہم غور کرتے ہیں کہ میڈیا اپنا مقدمہ کھڑا کیسے کرتا ہے ملاحظہ کیجیے ایک تحقیق

The Role and Influence of Mass Media

Mass media is a significant force in modern culture, particularly in America. Sociologists refer to this as a mediated culture where media reflects and creates the culture. Communities and individuals are bombarded constantly with messages from a multitude of sources including TV, billboards, and magazines, to name a few. These messages promote not only products, but moods, attitudes, and a sense of what is and is not important. Mass media makes possible the concept of celebrity: without the ability of movies, magazines, and news media to reach across thousands of miles, people could not become famous. In fact, only political and business leaders, as well as the few notorious outlaws, were famous in the past. Only in recent times have actors, singers, and other social elites become celebrities or “stars.”

میڈیا ایک بہت بڑا تخلیق کار ہے کہ جو ماضی میں رول ماڈل بناتا تھا اور آج مختلف بت "Idols" تخلیق کرتا ہے۔ لازمی امر ہے کہ یہ بت کبھی اچھے ہوتے ہیں اور کبھی برائی کی علامت بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس بت سازی کا مقصود دراصل ان مقاصد کا حصول ہوتا کہ کہ جو ان کے پیچھے مستور ہوتے ہیں۔ یہ مقاصد بہت دیر بعد دیکھنے والی آنکھ کو دکھائی دیتے ہیں یہاں تک کہ بازی اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہے۔

پاکستان میں میڈیا کی ابتدا صحافتی حلقوں سے ہوتی ہے اور ایک طویل جدوجہد کے بعد صحافتی حلقوں کو اپنی بات کہنے کی آزادی حاصل ہو پاتی ہے۔ کہیں یہ قید ان پر سیاست میں منسلک لوگوں کی جانب سے ہوتی ہے اور کہیں اس بندش کے پیچھے کھلی آمریتوں کا ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس سے شعراء و ادباء تک محفوظ نہیں رہ پاتے۔

دوسری جانب بظاہر چند مقدسات کو محفوظ کرتے ہوئے میڈیا کو اتنی آزادی دے دی جاتی ہے کہ وہ جو چاہے کہے اور جو چاہے لوگوں سے کہلوا سکے۔ میڈیا کی اس آزادی کے دور میں "صحافیوں" اور میڈیا ہاؤسز کی ایک کھیپ نمودار ہوتی ہے۔ اس غیر تربیت یافتہ اور غیر مستند کھیپ کا کام دراصل اس مرچنڈائز کی فراہمی ہے کہ جو میڈیا ہاؤسز کو درکار مال ہے۔

میڈیا ٹرائل ایک ٹیسٹ کیس:

The Lost Honor of Christopher Jefferies یعنی "کرسٹوفر جیفری کا کھویا ہوا وقار"

برطانوی میڈیا پر چلنے والی یہ منی سیریز کہانی ہے ایک سابقہ اسکول ٹیچر کی کہ جس پر ایک جھوٹا الزام لگتا ہے اور اس الزام کے ثابت ہونے سے پہلے ہی اس کی کردار کشی مہم شروع کر دی جاتی ہے ۔ اس مہم سے اس کی زندگی پر کیا اثرات پڑتے ہیں اسے کن تلخ تجربات سے گزرنا پڑتا ہے یہ ایک طویل کہانی ہے شوقین حضرات اس کی تمام اقساط یو ٹیوب پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

میڈیا ٹرائل ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جو دور جدید میں معروف ہوتی چلی جا رہی ہے اگر اس کی عام تعریف ملاحظہ کی جائے تو وہ کچھ یوں بنتی ہے:

"During high-publicity court cases, the media are often accused of provoking an atmosphere of public hysteria akin to a lynch mob which not only makes a fair trial nearly impossible but means that regardless of the result of the trial the accused will not be able to live the rest of their life without intense public scrutiny".

غور فرمائیں کہ میڈیا کس انداز میں عدالتی فیصلوں تک پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور میڈیا کس انداز میں لوگوں کی رائے تشکیل دیتا ہے کہ جو اکثر مالی مفادات اور ٹی آر پی کی خاطر ہوا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبصرہ " میرے پاس تم ہو ‎" - ایمن طارق

گارجین پر ایک کالم کی اشاعت ہوتی ہے اور اس تحقیقی کالم میں مصنف میڈیا کے امپیکٹ اور میڈیا پروپگنڈے کے نتیجے میں ہونے والے اثرات سے گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے کالم کا عنوان ہے "Contempt of court rules are designed to avoid trial by media"۔

اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جگہ مصنف لکھتا ہے

کرسٹوفر جیفری کے کیس کو مدار بنایا جاتا ہے اور جج اپنے کمنٹس پاس کرتا ہے۔

But he noted: "The publication of dramatic and highly adverse material at an early stage clearly can cause prejudice … which suggest a strong disposition to commit the crime in question … and which have a simple and memorable impact." Jeffries was later released without charge.

مزید آگے بڑھتے ہیں مصنف ایک اور اسٹیٹمنٹ دیتا ہے

In an era when jurors are increasingly tempted to browse the internet for details about any case they may be trying, the problem of how to prevent them being unduly influenced is becoming more problematic.

ایسے تمام مقدمات کہ جو قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا قانون کے دائرہ کار میں آ سکتے ہیں انکے تولد سے پہلے کی گفتگو قانون کی نگاہ میں "Contempt of court" کہلاتی ہے معروف برطانوی اخبارات "سن" اور "مرر" اسی قانون کے تحت اس وقت سزا کا سامنا کرنا پڑا کہ جب انہوں نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے تجاوز کرتے ہوئے کرسٹوفر جیفری کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا۔

در حقیقت کسی خبر کو مرچ مصالحہ لگا کر اس انداز میں پیش کرنا کہ جس کے نیتجے میں چھپنے والے اخبار چلنے والے پروگرامات اور انٹرنیٹ کی دنیا میں نمودار ہونے والے برقی صفحات کی ریٹنگ بڑھائی جا سکے اور ان سے مالی منفعت حاصل کی جا سکے دور جدید کا ایک چلتا ہوا کاروبار اور ایک بکتا ہوا سودا ہے۔

سوشل میڈیا اور الزامی صحافت

مین اسٹریم میڈیا میں جگہ حاصل نہ کر سکنے والے نچلی صفوں کے صحافیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے جو بہترین فورم میسر آ سکتا ہے، وہ سوشل میڈیا ہے۔ آپ غور فرمائیں اس سوشل میڈیا کے میدان میں آپ کو جو صحافت سب سے زیادہ ہوتی نظر آئے گی اسے عرف عام میں زرد صحافت کہا جاتا ہے۔ اپنے مخالف کے اندر وہ تمام خرابیاں ڈھونڈ نکالنا کہ جو اس کی شخصیت میں موجود نہ ہوں اور ان تمام خوبیوں کو نظر انداز کر دینا کہ جو اس کے اندر موجود ہوں دراصل اس سوشل میڈیا کی دنیا کا کمال ہے گو کہ یہ رویہ مین اسٹریم میڈیا سے ہی آگے آیا ہے لیکن میڈیم کی پستی کو دیکھتے ہوئے اس کی خرابی حد درجہ بڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی بھی بے ڈھنگی اور بے ہودہ بات غیر مستند حوالوں کے ساتھ آگے بڑھا دیجیے چونکہ صارفین کا عمومی معیار پست ہے اس لیے چیز جتنی پست ہوگی اتنی ہی اٹھے گی۔

اس کے بعد دوسرا انتہائی اہم امر یہ ہے کہ اس میڈیم پر جو صحافی تشریف لاتے ہیں انہیں یہاں سے کسی ظاہری مالی منفعت کا حصول تو نہیں ہوتا لیکن اپنے اپنے نظریات افکار و خیالات اور عقیدہ کی ترویج اور مخالف گروہ یا شخصیات کی کردار کشی ان کا بنیادی مقصود ہوا کرتا ہے۔ عصبیت قومی ہو یا مسلکی، خاندانی ہو یا قبائلی، فکری ہو یا جماعتی، اپنی ہر ہر شکل میں اعتدال پر نہیں رہنے دیتی اور انسان کو ایسی آراء اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے کہ جو ظلم پر مبنی ہوں۔ ایسے ہی مودت اگر حدود سے تجاوز کر جاوے تو پرستش بن جاتی ہے۔