جرم: انسانیت و ایثار، مجرم: چرنجیت سنگھ - بلال شوکت آزاد

جس وقت یہ شخص چرنجیت سنگھ میت بنا گردوارے میں محو استراحت تھا، ٹھیک اسی لمحے اسی کی جیب سے خرچ ہوئے روپے سے تیار گرم دیگیں افطاری کے وقت مسلمان روزے داروں کا روزہ افطار کروانے کی غرض سے موجود تھیں۔ بلاشبہ یہ ایک غیر اسلامی اور خطرناک کام تھا جس کا بدلہ لیا جانا بلکہ ایسے دیگر انسانوں کے لیے عبرت کا نشان بنانا ضروری تھا۔

جب ایک انسان قتل ہوتا ہے تو پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے یہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ انسان دوستی اور ہمدردی کسی ایک مذہب کی میراث نہیں بالکل اسی طرح دہشت گردی اور شیطانیت کا تعلق بھی کسی خاص مذہب سے نہیں۔ چرنجیت سنگھ کی نیکیوں کا صلہ اسے میرا رب ساتھ ساتھ دنیا میں عطا کرتا رہا اور بیشک موت بھی شاندار اور پروقار دی کہ اس کے عزیز و اقارب فخر کرسکیں گے اور اس کی کمائی عزت کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ لیکن جس بدبخت نے اس نیک انسان کا قتل کرکے پوری انسانیت کا قتل کیا اور وہ دنیا اور آخرت دونوں میں شدید ترین عذاب کا مستحق ہوچکا ہے۔

ہم نہیں جانتے کہ وہ قاتل کوئی سکھ تھا، ہندو تھا، عیسائی یا مسلمان تھا لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ وہ انسان تو بہرحال قطعی نہیں تھا۔ اس لیے ایسے بدبخت کو تلاش کرکے کیفر کردار تک پہنچانا ازحد ضروری ہے کہ اقلیتی برادری اسلام میں مکمل معاشرتی حقوق رکھتی ہے۔

چرنجیت سنگھ کا کردار، ایثار، انسان دوستی، دردمندی اور ہمدری ہی اس کی بے گناہی کی گواہ ہے۔ میری ذاتی رائے میں ایسے انسانوں کا سمان کرنا اور ان کو تاریخی حیثیت دینا قطعی برا نہیں جو چلتے پھرتے انسانیت کو نفع دینے والے ہوں جن سے کسی کو گزند نہ پہنچے۔

بہرحال، اب ایک طبقہ ہوگا جو ایک انتہا پر جنت کا ٹکٹ اور ویزہ لگا پاسپورٹ پکڑ کر بے تاب ہوگا اور دوسرا طبقہ دوسری انتہا پر جہنم کا کنفرم ٹکٹ اور ویزا لگا پاسپورٹ پکڑ کر بے تاب ہوگا۔ جبکہ ہم بہرحال اسلام کی رو سے خالص انسانی رویہ دیکھتے اور دکھاتے ہوئے اتنا ہی جانتے ہیں کہ چرنجیت سنگھ کی جنت اللہ نے دنیا کو بنایا تھا اور یہ ہے جبکہ نیک و صالح اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے والے مسلمانوں کی جنت آخرت کے بعد والی ہے۔ ہمیں انسانیت کو سراہنا اور مقدم رکھنا ہوگا چرنجیت اور ان جیسے دیگر نیک دل انسانوں کے لیے ان کی موت پر اور خالص انسانی اور اسلامی رویہ ایسے انسانوں پر رواداری اور اعتدال کا ہے لہٰذا کسی بھی مثبت یا منفی انتہا کو چھونا غیر انسانی فعل ہوگا۔

اللہ کے کام اللہ بہتر جانتا ہے، چرنجیت سنگھ بھی اللہ کی تخلیق تھا اور اس پر بھی اللہ کا ویسے ہی حق اور کنٹرول تھا جیسے ہم پر ہے لیکن اگر وہ اللہ کے راستے پر بااختیار ہونے کے باوجود نہیں آیا تو یہ بھی اللہ کے علم میں ہے لیکن اس کے دل میں نیکی اور انسانیت داخل کرنا بھی اللہ ہی کا کام ہے کہ وہ اللہ کن فیکن کے بیچ معلق تخلیقات کا خالق اور رازق ہے۔ چرنجیت سنگھ کی انسان دوستی اور ایثار ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل اور قابل ستائش ہے اس میں دو رائے نہیں۔