کردیتے ہو جو راکھ - محمد اقبال دیوان

برسوں پہلے کی مگر بہت برسوں پہلے کی بات نہیں۔ ممکن ہے ان دنوں آپ کے والدین کو آپ کی پیدائش کے اندراج کی چنتا ہو جس طرح ہمارے والدین کو ہماری شادی کی تھی۔ جو لڑکی ہمیں اچھی لگتی تھی وہ انکار کردیتی تھی اور جس کو والدین پسند کرتے تھے وہ ہمارے میعار پر جسے ایشوریا رائے اور تبو نے مل جل کر گوندھا تھا،اس پر وہ پوری نہ اترتی تھی۔ ایک دن اماں نے کہا تو ان دونوں کو بھی ساتھ بٹھا دے گا تو یہ ایک دوسرے کو مسترد کردیں گی۔ تیری تبو (یہ الفاظ میمن گجراتی ماں ہی استعمال کرسکتی ہے) ایشوریا رائے کو Show off کہہ کر مقابلے سے بھگا دے گی اور تیرے سپنوں کی رانی ایشوریا رائے تبو کے بارے میں کہے گی کہ یہ تو لگتا ہے خواب میں بولتی ہے اور نیند میں چلتی ہے۔

تبو

برسوں پہلے کی مگر بہت برسوں پہلے کی بات نہیں، بظاہر کرچی کرچی ہونے والی (ہم نے بظاہر اس لیے کہا کہ کسی دھڑے کی جانب سے ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھڑوں نے تقیہ کیا ہے کہ ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہیں جو وقت آنے پر نوالہ اٹھانے کے لیے ایک ہوجائیں گی۔) اس شعلہ مزاج پارٹی کو سیاست میں قدم رکھے ہوئے بہت دن نہ ہوئے تھے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں امتیازی کوٹہ سسٹم، پیپلز پارٹی کی کھلی مہاجر دشمنی، ٹرانسپورٹ میں ایک طبقے کی کرائے سے لے کر ہر طرح کی بدسلوکی اور من مانیاں، پولیس جس میں 1978سے مقامی لوگوں کی بتدریج تخفیف اور پھر زبان اور عصبیت کی بنیاد پر نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں یہ وہ اسباب تھے جو پارٹی کی تشکیل کے اسباب بن گئے تھے۔ ممکن ہے اس وقت کے حاکم جنرل ضیا الحق (جیسے کے بعد کے جنرل صاحب نے ثابت کیا کہ میرے لیے لامکاں اوروں کے لیے چار سُو) اور دیگر پڑوسی ممالک بھی اس طرح کی سیاسی سوچ کو اپنے انداز سے برتنے اور اسے اپنے تخریبی عزائم کے فروغ سے دل چسپی رکھتے ہوں۔ اس طرح کے ملیٹینٹ آؤٹ فٹس بوتل کا جن ہوتے ہیں۔ آپ گدگدی کرکے انہیں باہر نکالیں تو بہت مزا آتا ہے لیکن وہ جب گدگدی کریں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اندرا گاندھی نے مکتی باہنی بنا کر مجیب کی ہلاکت کا سامان کیا، دمدمی ٹکسال بنا کر اپنی موت کا بازار سجایا اور تامل ایلام بنا کر بیٹے کی چتا سلگائی۔

یہ پارٹی اپنے وجود کو تسلیم کرانے اور اپنے کیڈرز میں نوجوانوں کی میدان احتجاج میں صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے ہنگاموں میں بہت دل چسپی رکھتی تھی۔ ہم ان دنوں لیاقت آباد کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھے۔ یہ سن 1980 کا پر آشوب سال تھا۔

علاقے کے ہنگاموں میں اس دن کچھ افاقہ تھا۔ رکشہ میں اپنی والدہ کے ساتھ سفر کرتی ایک بچی گولی لگنے سے ہلاک ہوئی تھی۔ اب کی دفعہ ہنگاموں میں فائرنگ کا پہلو نیا تھا۔ آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کراچی کے ہنگاموں میں ایک نیا عنصر تھا۔ پہلے یہاں پتھراؤ ہوتا تھا، آتش زنی کی وارداتیں اور کچھ لوٹ مار۔ اب کی دفعہ اسلحہ کا استعمال پولیس کے لیے پریشان کن بات تھی اور اہل علاقہ کے لیے حیرانی کا باعث۔ سب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ باہر سے آیا ہوا کوئی گروپ ہے جو ہنگامہ آرائی میں شامل ہوگیا ہے۔

پہلے یہاں ایسے نہیں ہوتا تھا۔ اب کی بار لڑکوں کی ٹولیوں میں کئی ایسے لوگ دکھائی دیتے تھے جو اپنے انداز اورعمر کے حساب سے بہت مختلف دکھائی دیتے تھے۔ ہنگامے سرد پڑنا شروع ہوئے تو تفتیش کا آغاز ہوا۔

ڈی-ایس-پی صاحب نے ہمیں بتلایا کہ فائرنگ سے جو بچی ہلاک ہوئی ہے اس پر فائرنگ کرنے والے لڑکوں کے نام مل گئے ہیں۔ چار کا نام تو مصدقہ ہے پانچویں پر پولیس کو کچھ شبہ ہے۔ پانچواں نام ایک میڈیکل کے طالب علم کا ہے اور یہ نام ہے نبیل ہارون کا۔ خاکسار اس نام پر کچھ چونکا اور اس نے ڈی-ایس-پی صاحب سے کہا کہ ایک دن بعد وہ انہیں یہ نام کنفرم کردے گا، وہ اسے جانتا ہے۔ فی الحال اس کا نام ایف-آئی-آر میں نہ ڈالا جائے۔ نبیل ہارون اس کے جاننے والوں کا بیٹا تھا۔ اس کی تحقیق سے یہ راز کھلا کہ ان تصدیق شدہ چار لڑکوں میں سے دو لڑکوں سے اس کی دوستی ہے مگر فائرنگ والے دن وہ اپنے کالج کے فن میلے میں اپنی کلاس کے اسٹال پر موجود تھا اور اس کی تصدیق کالج سے بھی کی جاسکتی ہے۔ وہ فائنل ایئر کا اسٹوڈنٹ ہے اور ایسی کسی کارروائی میں شریک ہونے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ خاکسار نے فون کرکے وہاں کالج کے اہم کرتا دھرتا ڈاکٹر مہر ہنسوٹیا سے تصدیق کی۔ وہ ہنگامے والی صبح واقعی میلے کے اسٹال پر موجود تھا۔

بات کھلی تو نبیل کے گھرانے میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ فیڈرل بی ایریا، صدیق آباد کا ایک امن پسند میمن گھرانہ تھا۔ جیسا کہ کاروباری گھرانوں میں ہوتا ہے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کی شادی کردی جائے۔ آنے والی خود ہی اس کے کس بل نکال دے گی۔ بیوی بچوں کا بوجھ پڑے گا تو اس کی دوستیاں خود ہی ایسے لوگوں سے ختم ہوجائیں گی۔

نبیل ہارون کو شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر اس نے شرط رکھی کہ وہ برادری یا خاندان میں شادی نہیں کرے گا اور اسے کوئی لڑکی اپنے طور پر پسند بھی نہیں۔ والدین اس کے لیے کوئی باہر کی لڑکی تلاش کریں اگر وہ اسے پسند آئی تو وہ ہاں کردے گا۔

ایک شام کسی شادی کی مہندی کی تقریب تھی۔ جس وقت وہ وہاں اپنی امی کو لینے پہنچا تو ایک لڑکی جو برطانیہ سے بطور مہمان آئی تھی اور بڑی سر خوشی سے ناچ رہی تھی۔ لمبا اسکرٹ، ننگے بازو اور دلفریب نقوش، کمرے میں چھپ کر چرس کا سونٹا لگانے کی وجہ سے مزاج ایک ترنگ ہی ترنگ تھی۔

نبیل ہارون نے جو اس رقص رواں کو دیکھا، تو پہلی نظر میں ہی اس پر دل ہار گیا۔ بعد میں ان لڑکیوں نے جو نبیل کے رشتے پر دانت گاڑے بیٹھی تھیں الزام لگایا کہ یہ تو لڑکوں میں بیٹھ کر چرس پی پی کر بمبئی کے ٹپوڑیوں کی طرح نعرے بھی مارتی ہے کہ "جو نہ پیے گانجا، سالا وہ چھکّے (ہیجڑے) کا بھانجا"، مگر نبیل نے ان کی سنی ان سنی کردی۔

رشتے پر دیگر عوامل کی سازگاری کی وجہ سے لڑکی کے والدین کو کوئی اعتراض نہ ہوا۔ مگر انہوں نے ایک شرط رکھی کہ لڑکا، برطانیہ میں رہے گا۔ نبیل کے گھر والوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے اس ہونہار کوفیڈرل بی ایریا کی صحبت کے برے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ شادی کے چند دن بعد ہی نبیل برطانیہ سدھار گیا۔

برطانیہ میں نبیل کی بیوی بشریٰ کی ایک بڑی بہن طوبیٰ بھی تھی جو ایک جرمن لڑکے کے عشق میں بری طرح گرفتار تھی اور اس کی اس دل لگی سے نبیل کے سسرال والے پریشان تھے۔ انہوں نے اس کا ایک علاج یہ تلاش کیا کہ اسے ریمس (Reims) فرانس میں بھجوادیا یہاں ایک کونوینٹ اسکول تھا۔ جہاں کی کیتھولک ننز (Nuns) کچھ زیادہ ہی سخت تھیں۔ لڑکی کے ماں، باپ کا یہ خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ اس جرمن لڑکے سے ملنے جلنے سے باز رہے گی۔

قسمت کے کارنامے بھی عجب ہوتے ہیں۔ طوبیٰ بیگم کو وہاں ہاسٹل میں رہنے کے لیے جو روم میٹ ملی اس کا تعلق الجزائر سے تھا۔ اس کے گھرانے کے کچھ افراد وہاں ایف-آئی-ایس (Islamic Salvation Front) کے بڑے سرگرم رکن تھے اور یہ بھی بہت ہی کٹر مذہبی لڑکی تھی۔ اس نے طوبیٰ پر نہ جانے کیا جادو کیا کہ وہ بھی اسی کے رنگ میں ڈھل گئی۔ آزاد خیالی ہوا ہوئی، لباس اور طور اطوار بالکل اسلامی ہوگئے۔ دل کا معاملہ بھی کچھ قید شریعت میں آگیا لیکن پھر ہوا یوں کہ کچھ دنوں بعد وہ جرمن لڑکا وہاں بھی اس کی تلاش میں پہنچ گیا۔ طوبیٰ نے اپنی اس دوست کی رفاقت میں اس سے ملاقات کی اور اس سے کہا کہ اب وہ اس سے ایک شرط پر تعلق رکھ سکتی ہے اور وہ یہ کہ وہ اس سے شادی کرلے لیکن شادی کے لیے تین شرائط پر عمل درآمد ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے، دوم شریعت کی پابندی کرے اور سوم یہ کہ وہ جہاد میں حصہ لے۔ لڑکے نے مہلت مانگی اور کہا کہ اگر وہ ان شرائط پر راضی ہوگیا تو وہ اس کے گھر دسمبر میں کرسمس کی چھٹیوں میں لندن آئے گا۔ دسمبر کی چھٹیوں میں لکاس کیون (Lucas Kevin) صاحب لندن پہنچے ہوئے تھے۔ طوبیٰ بیگم سے ان کا نکاح سادگی سے مسجد میں ہوا، جس میں اس کے والدہ بھی دل پر پتھر رکھ کر شریک ہوئیں شادی کے بعد ان کا نام حماد کیون رکھ دیا گیا۔

اس واقعے کو چند برس گزر گئے، افغانستان کے مجاہدین جنگ ختم ہونے کے بعد بکھر گئے، کچھ تو بوسنیا پہنچ گئے اور کچھ کشمیر۔ ایک رات ہمارے فلیٹ پر دو بجے دستک ہوئی۔ شیشے کی چھوٹی آنکھ سے دروازے کے باہر جھانکا تو اسے سفید کپڑوں میں ملبوس ڈاڑھیوں والے چند نوجوان دکھائی دیے۔ پہلے تو اسے خیال آیا کہ یہ شاید کوئی تبلیغی گروپ ہے مگر اس نے سوچا کہ وہ ایسے بے وقت نہیں آتے۔ دروازہ کھولنے پر اقبال بھائی کا نعرہ بلند ہوا اور نبیل ہارون اس سے لپٹ گیا۔ ہم نے سوچا کہ آپ سے ملتے چلیں۔

بوسنیا کے مجاہدین

اپنے ساتھیوں سے آپ کا تفصیلی تعارف کرانے لگا کہ میرے اس بھائی کی مداخلت کی وجہ سے مجھے یہ راہ ہدایت ملی۔ بس اب اچھی سی کافی پلوائیں۔ ان چھ نوجوانوں کو اندر بلایا، دو تو ان میں عرب تھے اور ایک شاید کوئی گورا تھا باقی دو شاید پاکستانی یا بنگالی لگتے تھے۔ سب کے سب تنومند اور اسلامی جذبات سے سرشار۔ بتلانے لگے کہ " وہ کچھ دن افغانستان میں تھے اور پھر کشمیر میں، افغانستان وہ بوسنیا سے پہنچے تھے۔ مستار جو بوسنیا ہرزگوینا کا حصہ تھا، وہاں کی مسلمان خواتین کو انہیں لوگوں نے سربیائی افواج کے مظالم سے بچایا تھا"۔

ہم نے پوچھا کہ " باجی بشریٰ یعنی بیگم نبیل کہاں ہیں؟" تو کہنے لگا کہ " وہ تزلا، بوسنیا میں پھنسی ہوئی ہے وہاں میڈیکل سپلائز لے کر گئی تھی۔ اب پتہ نہیں وہ کہاں ہے۔ اللہ سب کا نگہبان ہے۔ ہم کسی کی جان کے نگران نہیں۔ جان و مال کی حفاظت اسی کا ذمہ ہے"۔

یہ بھی پڑھیں:   بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور نظریاتی زوال - بلال شوکت آزاد
سربرینتسا، بوسنیا

ہمیں نبیل کی یہ سوچ کچھ بے رحم سی لگی مگر یہ بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ سوچ کے ایک ایسے درجے پر ہیں جہاں شاید ہماری رسائی نہیں۔ دورانِ گفتگو ایک موقع پرجب ہم نے ان سے پوچھا کہ" کیا یہ ان کے نزدیک واقعی تہذیبوں کا تصادم ہے؟" ان میں سے ایک عرب کہنے لگا کہ "اگر آپ بائبل کو موجودہ شکل میں بھی تسلیم کرلیں تو وہ بھی ان تمام برائیوں سے روکتی ہے۔ مثلاً شراب نوشی، سود خوری، قمار بازی اور اسی قبیل کی تمام برائیاں اس میں بھی بری قرار دی گئی ہیں۔ مغرب میں لوگ بہت اچھے ہیں۔ ان کی کئی خوبیاں ایسی ہیں جن کو مسلم معاشروں میں تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ شیخ احمد دیدات ان کے ہمارے درمیان یہ کہہ کر تقابل کرتے ہیں۔ ان کی راہ مردہ ہے مگر مسافر زندہ ہیں۔ ہماری شاہراہ زندہ مگر مسافر جاہل اور مردہ ہیں۔ ان کا کاروباری کارپوریشن کا مالیاتی سودی نظام ان کے معاشرتی زندگی کو اس بری طرح جکڑ کر بیٹھا ہے۔ اس کے کرتا دھرتا ہر جگہ و سائل پر قبضہ کرنے کے لیے اور اپنی دولت میں اضافے کے لیے جگہ جگہ جنگیں برپا کرتے ہیں اور اس سے بہت ظلم ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بارہ بڑی تہذیبیں اب تک منظر عام پر آئی ہیں۔ چھ مٹ گئی ہیں یا اب ان میں وہ توانائی باقی نہیں۔ چھ تہذیبیں جن میں اسلام، عیسائیت، یہودییت، بدھ مت، ہندو مت اور لادینی یعنی کمیونزم ہیں جو اپنا وجود منوانے پر تلی ہوئی ہیں۔"

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمان ہر جگہ پر تصادم کی کیفیت میں ہیں۔ کہیں ایسا کیوں نہیں سننے میں آتا کہ بدھ مت کے ماننے والوں میں اور عیسائیوں میں تصادم ہو یا اور ایسے مذاہب آپس میں بر سرپیکار ہوں؟

اس پر وہ گورا کہنے لگا کہ کیا اس نے مسلمان ہونے کے باوجود کبھی اس بات پر غور کیا کہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات جو پہلی وحی کے طور پر نازل ہوئیں۔ اس سے سارا مکہ کا معاشرہ رسول اکرم ﷺکی جان کا دشمن کیوں ہوگیا حتیٰ کہ آپ کا چچا ابو لہب تک آپﷺ کی جان کے درپے ہوگیا اور اس کے دو بیٹوں نے آپﷺ کی دو عدد صاحبزادیاں جو ان کے نکاح میں تھیں ان کو طلاق دے دی۔ اس کی دشمنی مسلّم تھی۔ سورۃ المدثر کے مطابق جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی دعوت دین اپنے اعزا و اقربا کو دی تو پہلا پتھر اس کمبخت نے آپ ﷺکو مارا تھا۔ پورا قرآن کریم نبیﷺ کے کسی عزیز کا ذکر نام لے کر نہیں کرتا۔ سوائے اس معتوب اور ملعون چچا کے اور اس کی بیوی ارویٰ، ام جمیل کے جو ابو سفیان کی بہن تھی اور ان کو بھی معتوب ٹہرایا گیا۔ یہ قرآن کے Impersonal ہونے کا اعجاز ہے۔

سورۃ العلق کی اس وحی میں نہ تو نماز کا ذکر ہے نہ کسی اور فرض عبادت کا۔ پھر اس پیغام میں وہ کیا خطرہ تھا جو انہیں لاحق ہوگیا تھا؟ اس وقت کا مکہ تو ایک دوسرے کو مذہبی طور پر برداشت کرنے میں بہت مشہور تھا۔ خانہ کعبہ جو بمشکل ایک چالیس بائی چالیس فیٹ کا کمرہ ہے اس میں ہر قبیلے کا ایک بت رکھا تھا جو ان کی آپس میں مذہبی رواداری کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہاں پانچ بڑے مذہبی گروہ تھے۔ مشرک، آتش پرست، عیسائی، یہودی اور بت پرست، یہ سب ایک دوسرے کو تو خوشی خوشی برداشت کرتے تھے۔ اس ایک پیغام کے ساتھ ہی ایسی کیا با ت ہوئی کہ یہ سب اللہ کے رسول کے مشترکہ دشمن ہوگئے۔

ہم نے کہا کہ وہ بتلائے کہ ایسی کیا بات ہوئی کہ وہ سب آپؐ کے دشمن ہوگئے اور اسلام کی مخالفت پر یک جان ہو کر کمر بستہ ہوگئے؟

اس عرب نے کہا کہ سورۃ البقرہ اور سورۃالمائدہ میں اس مخالفت کی وجہ بیان کی گئی ہے اگر مسلمان اسے سمجھ پائیں تو جب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ نشے، جوئے، سود اور دیگر برائیوں سے بچو تو آپ ان کی بڑی تجارتی اجارہ داریوں کی جڑ کاٹ دیتے ہو۔ ان کی شراب کی انڈسٹری، ان کے جوا خانے، لاٹریاں، ان کا مالیاتی نظام سب کے سب تباہ ہوجاتے ہیں۔ اسلام شادی کو آسان اور بے راہ روی کو مشکل بناتا ہے۔ اس سے ان کی گلیمر انڈسٹری اور ہالی ووڈ ختم ہوجاتے ہیں۔ جب آپ توحید کا پیغام عام کرتے ہو تو پاپائیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بہت کم مسلمانوں کو پتہ ہے کہ پوپ دنیا کا سب سے طاقتور اور با اثر عہدہ ہے۔ جن دنوں یہ روس کو نیچا دکھانا چاہتے تھے انہوں نے جان پال کو پہلے پولش پوپ کے طور پر منتخب کیا۔ 1520ء کے بعد وہ پہلے غیر اطالوی پوپ تھے۔ مغرب میں یہ بات بھی عام ہے کہ ان کی والدہ ایک یہودی خاتون تھیں۔ انہوں نے آتے ہی جو فرمان جاری کیے جہنیں کیتھولک چرچ کی اصطلاح میں Bull کہا جاتا ہے وہ یہ تھا کہ ان کی ریاست ویٹیکن میں یہودیوں کو داخلہ دینے کا تھا۔ پانچ سو برس سے یہ داخلہ ممنوع تھا دوسرا اہم فرمان جو انہوں نے جاری کیا وہ یہ تھا کہ عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب کرنے میں یہودی پیش پیش تھے، پوپ جان پال جن کا بچپن پولینڈ کے یہودی دوستوں میں گزرا تھا۔ انہوں نے یہودیوں کو معافی دی، اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا اور اٹلی میں تعینات اسرائیلی سفیر جو ان کا دیرینہ دوست تھا اسے پہلے مہمان کے طور پر رات کے کھانے پر بلایا۔ ان کی پوپ کے عہدے پر تعیناتی سے یہودیوں کے اثرات کیتھولک چرچ پر بہت گہرے ہوگئے۔

ویٹیکن کے کئی ملکوں کی سیاست پر اس عہدے کے بہت گہرے اثرات ہیں۔ فلپائن میں جب صدر مارکوس کے خلاف تحریک چلی تو یہی پادری حضرات اس کے سرخیل تھے، پھر ان کے ہاں جمہوریت کے نام پر ہر چیز عوام کی مرضی کی تابع ہے۔ عوام کی مرضی دراصل موم کی ناک کاروباری کارپوریشنوں اور ان کا میڈیا اسے جس طرف چاہے موڑ سکتا ہے۔ بہت بعد میں آپ نے اس کا مظاہرہ عوام کی ہلاکت کے عظیم ہتھیار والے پروپیگنڈے میں عراق پر حملے کا جواز بنایا۔ یہ سیکولر جمہوریت تو سرمائے اور پروپیگنڈے کی لونڈی ہے۔ یہ خیر سے اتنی سیکولر بھی نہیں چرچ اور صیہونیت کا اس میں بہت بڑا حصہ ہے۔ اس کے برعکس وہ کہنے لگے کہ یہ جان لیجیے کہ اسلام میں جمہور کا ہر فیصلہ اللہ کے احکامات کا تابع ہے۔ یہ ہے وہ چیلنج جس سے یہ پریشان ہیں۔

کافی وغیرہ پی کر اور دیر تک وہ مختلف موضوعات پر بات کرکے چلے گئے۔

بہت دن بعد شادی کی ایک دعوت میں عجب نظارہ دیکھا جہاں چند خواتین اور دو تین مرد حضرات ایک چادر بچھا کر بیٹھے تھے اور ہاتھ سے کھانا کھا رہے تھے۔ دعوت کے دیگر شرکا چھری کانٹوں سے کھڑے کھڑے کھانا کھاتے تھے۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو نبیل ہارون کا خانوادہ ہے، اس میں البتہ ایک گورا اورگوری بھی شامل ہے۔ دو عدد خواتین ایسی تھیں جنہیں اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پتہ چلا کہ ایک تو اس میں طوبیٰ ہے یعنی نبیل ہارون کی سالی اور گورا اس کا میاں حماد کیون ہے۔ گوری کا نام پہلے کبھی وکٹوریہ تھا، یہ ایک یہودی لڑکی تھی اب وہ مسلمان ہو کر صالحہ کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ بڑی مالدار اور پڑھی لکھی تھی۔ دولت تو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے چھوڑنی پڑی۔ خاندان کا اپنا ہوائی جہاز بھی ہوتا تھا۔ دوسری تنزانیہ کی ایک ہندو لڑکی رجنی اگروال تھی اور اس کا نام مسلمان ہونے کے بعد زینب رکھا گیا تھا۔

کھانے کے بعد یہ گروپ ایک بڑی سی میز پر جمع ہوگیا۔ ان سے سوال جواب کا سلسلہ وہاں موجود لڑکے لڑکیوں نے شروع کردیا۔ ایک لڑکی کو اس بات پر اعتراض تھا کہ وہ سب کے ساتھ کھانے پینے سے کیوں باز رہے تو طوبیٰ کہنے لگی کہ کھڑے ہوکر کھانے پینے کی دین میں ممانعت ہے۔ ایک لڑکے کا خیال تھا کہ چمچوں کانٹوں سے کھانا کھانے سے دین کہاں روکتا ہے۔ جس پر زینب کہنے لگی کہ کوئی بھی چمچہ کتنا ہی صاف کیوں نہ ہو بہرحال آپ سے پہلے کسی نہ کسی کہ منہ میں ضرور گیا ہوتا ہے۔ انگلیوں پر آپ ذکر بھی کرتے ہیں اور پھر ان میں لمس کی لذت بھی ہوتی ہے۔ دھات کے چمچوں میں یہ خوبیاں کہاں جب کہ آپ کا ہاتھ صرف اور صرف آپ ہی کہ منہ میں جاتا ہے۔ ایک لڑکی کو اس بات میں دلچسپی تھی کہ یہ گروپ بالخصوص طوبیٰ، زینب،صالحہ اورحماد کو پاکستانی شادی کی تقریبات اور گہماگہمی کیسی لگی؟

صالحہ نے تو صرف انگریزی کے ایک لفظ میں معاملہ ٹال دیا کہ Razzle-Dazzle (یعنی ٖفضول شو ر شرابہ اور دکھاوا بہت ہے)۔ حماد کہنے لگا کہ اس نے شادی کے بارے میں جو کچھ اسلامی کتب میں پڑھا اور تعلیمات کی روشنی میں سمجھا ہے اس سے یہ بہت ہٹ کر ہے شاید کلچر کا اثر ہو۔ جس پر زینب جس کے والدیں کا تعلق ہندوستان سے تھا کہنے لگی کہ وہاں اتنی تقریبات اور تام جھام نہیں ہوتا۔ مگر نبیل ہارون کہنے لگا وہاں بھی بہت خرابیاں ہیں مگر طوبیٰ ذرا کھل کر بولی کہ آپ کی طرف شادی بیاہ کی رسومات میں چار باتیں ایسی ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات سے کھلی متصادم ہیں اور اس میں بالخصوص لڑکی کے والدین پر بہت دباؤ آجاتا ہے اور وہ یہ ہیں:

۱] اسلام میں شادی ہمیشہ مسجد میں ہوتی ہے۔ کسی گھر پر یا شادی ہال میں نہیں۔

۲] اسلام میں بارات کا کوئی تصور نہیں۔

۳] اسلام میں لڑکی والوں پر کھانا کھلانے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔

۴] اسلام میں جہیز دینے کا کوئی تصور نہیں۔

اسے یعنی طوبیٰ کو حیرت ہوئی کہ اس کی ان تعلیمات پر سب سے زیادہ اعتراض وہاں موجود لڑکیوں کو ہوا۔ وہ کہنے لگی اگر آپ مغرب کو دیکھیں تو وہاں ان کے شاہی خاندان کے افراد بھی شادی کے لیے چرچ کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ جب شادی مسجد میں ہوگی تو بارات اور کھانا کھلانا خود ہی ختم ہوجائے گا۔ آپ کے ذہن میں یہ جو رسول اکرمﷺ کی جانب سے حضرت فاطمہ کو جہیز دیے جانے کا تصور ہے یہ کم علمی پر مبنی ہے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ کو جو اپنی زرہ بکتر بیچنے کا حکم دیا تھا وہ اسی لیے تھا کہ وہ گھر کی ضرورت کا سامان خرید کر گھر چلانے کا بندوبست کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم میں زبان کا مسئلہ - سید عامر جعفری

بات چیت جاری تھی کی دلہن کی رخصتی کا وقت آگیا اور یہ سب اس میں مصروف ہوگئے۔

سن دو ہزار کے رمضان تھے وہ ایک مسجد میں تراویح پڑھ رہا تھا، نمازیوں کی صف میں خاصی تنگی تھی۔ جب فرض نماز ختم ہوئی تو اس نے اردو میں ساتھ والے نمازی کو کہا کہ وہ ذرا کھل کر بیٹھے تو اس کے لیے بھی کچھ جگہ نکل آئے گی۔ اس نمازی کے حلیے سے لگتا تھا کہ یہ کوئی قبائلی پٹھان ہے جس نے سر پر چترالی ٹوپ اور بدن پر موٹی سے شال لپیٹی ہوئی تھی۔ اس نے جواب میں خاکسار کو کہا انگریزی میں جب "What؟"کہا تو لگا کہ یہ لب و لہجہ ہرگز پاکستانی نہیں۔

پوچھنے پر علم ہوا کہ موصوف کا تعلق امریکہ سے ہے۔ ہماری دلچسپی کچھ بڑھی تو کہنے لگا کہ وہ تراویح کے بعد اس سے مزید بات چیت کرے گا۔ نماز کے بعد وہ مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام طاہر عبداللہ ہے اور وہ پہلے کبھی امریکی فوج میں ہوتا تھا۔ کویت میں اپنی تعیناتی سے قبل جب وہ وہاں بھیجے جانے کے لیے چنے گئے تو انہیں تین باتیں بتلائی گئیں۔ ایک تو وہ کیمپ سے باہر اکیلے نہ جائیں۔ دوسرے کسی مسلمان سے مذہب پر بات نہ کریں اور تیسرے انگلیوں سے ایک مخصوص اشارہ نہ کریں۔ اسے عرب دنیا میں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کویت پہنچ کر اس نے سب سے پہلے وہاں موجود کسی عرب سے اس اشارے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ایسی کوئی بات اس نے کبھی بھی نہیں محسوس کی۔ اب اس امریکی فوجی کو خیال ہوا کہ یہ ایک طرح کی برین واشنگ تیکنک تھی کہ وہ بتلائی گئی ہدایات پر کتنا عمل پیرا ہوتے ہیں۔

کویت میں تعیناتی کے دوران اس کی ملاقات ایک عجیب شخص سے ہوئی۔ یہ ایک سویلین تھا جو کچن میں کام کرتا تھا۔ اس کا نام سعد تھا اور یہ ایک فلسطینی تھا۔ وہ روزانہ اسے اسلام پر پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ دے جاتا تھا۔ طاہر عبداللہ جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوا تھا۔ اس نے سعد کی شکایت کیمپ کمانڈنٹ سے کر دی اور اس شکایت کے نتیجے میں اس کی ملازمت ختم کردی گئی۔ جس دن سعد کا کیمپ میں نوکری کا آخری دن تھا، وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ بالکل اس بات کا غم نہ پالے کہ اس کی نوکری اس کی شکایت پر ختم ہوئی ہے۔ اللہ نے میرا رزق شاید یہاں اتنے دن کے لیے ہی لکھا تھا۔ البتہ وہ اسے ایک تحفہ دینا چاہتا ہے مگر ایک وعدے کے ساتھ کے وہ اس کی بے حرمتی نہیں کرے گا۔ طاہر عبداللہ نے یہ وعدہ کیا تو اس نے خوبصورت کاغذ میں لپٹا ہوا قرآن پاک کا نسخہ اس دیا جو انگریزی ترجمے کے ساتھ تھا۔ طاہر عبداللہ کہنے لگا کہ جیسے ہی وہ تحفہ اس کے ہاتھ میں آیا اسے لگا کہ کہیں سے روشنی اس کے اندر سما گئی ہے۔ ایسی روشنی جو صرف اسے اپنے اندر اترتی ہوئی دکھائی دی۔ سعد نے اسے گلے لگایا اور چل دیا۔

کویت سے طاہر عبداللہ کو مراکش بھیج دیا گیا۔ مراکش ایک عجیب ملک تھا۔ وہ وہاں کے قہوہ خانوں میں بالکل اسی طرح جا جا کر بیٹھتا تھا جیسے شاید مارماڈیوک پکتھال صاحب کبھی بیٹھا کرتے تھے۔ پکتھال صاحب وہ ہیں جنہوں نے قرآنِ کریم کا انگریزی ترجمہ کیا جو آج تکThe Meaning of the Glorious Koran کے نام سے مشہور تراجم میں شمار ہوتا ہے۔ مراکش پکتھال صاحب اپنے کسی عزیز کے ساتھ پہنچے تھے۔ ان کا تعلق عیسائی پادریوں کے ایک مستند گھرانے سے تھا۔ گو وہ ایک عمدہ ناول نگار تھے مگر اس کے باوجود سب انہیں ایک مکمل طور پر ناکام شخص سمجھتے تھے۔ ان کی جھگڑالو طبیعت سے تنگ آن کر ان کا ایک پادری عزیز انہیں فلسطین لے آیا۔ جہاں انہوں نے عربی سیکھی۔ مراکش میں ان کی اسلام پر وہاں قہوہ خانوں میں بیٹھے لوگوں سے کئی دفعہ بات چیت ہوئی۔ پکتھال صاحب وہاں سے ملک شام پہنچے۔ جہاں دمشق کی مسجد بنو امّیہ کے امام صاحب کے ہاتھ پر جب انہوں نے اسلام قبول کرنا چاہا تو انہوں نے ایک عجب توجہیہ پیش کی۔ "تم ابھی نوجوان ہو۔ تم ہمارے زیر اثر ہو، یہاں ہماری اکثریت ہے۔ اسی طرح کئی اور ہمارے ایسے مسلمان نوجوان ہوں گے جو ان ممالک میں تمہاری مانند تنہا ہوں گے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اگر ہمارا کوئی نوجوان بیٹا، وہاں کسی عیسائی مبلغ کے ہاتھوں اپنے دین سے منحرف ہوجائے تو مجھے کتنا دکھ ہوگا۔ جب تم واپس چلے جاؤ اور تمہارا دل اسلام پر یوں ہی مائل رہے تو وہاں اسلام قبول کرلینا۔"

پکتھال پر اس بات کا گہرا اثر ہوا۔ پکتھال صاحب 29 نومبر 1917ء کو "اسلام اور ترقی" کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے اور لیکچر کے اختتام پر انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ کر سب کے سامنے انتہائی ڈرامائی انداز میں اسلام قبول کرلیا۔

طاہر عبداللہ کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا مگر قہوہ خانے میں اس سے کسی نے پوچھا کہ وہ کس مذہب کو اپنے نزدیک بہتر سمجھتا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ اگر اس سے دل کی بات پوچھی جائے تو وہ عیسائیت سے تثلیث کی وجہ سے کافی دور ہوچکا ہے۔ البتہ وہ ان دنوں اپنی امن و آشتی کے پیغام کی وجہ سے بدھ مت کو ایک بہتر دین تصور کرتا ہے۔

اس کی بات چیت جس شخص سے ہورہی تھی وہ کہنے لگا کہ وہ یہ تو مانتا ہے نہ کہ گوتم بدھ ایک شہزادہ تھا جو نیپال کے پاس ایک چھوٹی سی راجدھانی کپل وستو میں پیدا ہوا۔ ان کے والد صاحب سدھودھنا ایک بادشاہ تھے اور ان کی والدہ صاحبہ مایا دیوی بھی ایک شہزادی تھیں۔ ان کی شادی بھی شہزادی یشودھرا سے ہوئی تھی۔ یہ تمام شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ مہاتما گوتم بدھ بالآخر ایک انسان تھے۔ اس نے کہا یہ جو اس قہوہ خانے کی چھت ہے کیا ایک انسان اپنے ہاتھوں پر اٹھا سکتا ہے۔ طاہر عبداللہ کہنے لگا ہرگز نہیں۔ اس پر وہ شخص میرا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا اور کہنے لگا اوپر دیکھو! یہ آسمان ہے اسے کس نے تھاما ہوا ہے۔ اللہ نے ہمارے قرآن میں اس طرح کی کئی آیات ظاہر کی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔

اس گفتگو کہ بعد طاہر عبداللہ بدھ مت سے بھی دور ہوگیا۔ اس کے ذہن میں مذہب کے بارے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا جہاں اب اسلام آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنانے لگا۔ اس نے سعد کے دیے ہوئے کلام پاک کا مطالعہ شروع کردیا۔ کچھ دنوں بعد اس کی تعیناتی جرمنی میں ہوگئی۔ جرمنی میں اسے ایک ترک لڑکی سے پیار ہوگیا۔ وہ باقاعدہ حجاب پہنتی تھی اور بڑی رکھ رکھاؤ والی نیک طینت لڑکی تھی۔ یہ اگست کا مہینہ تھا۔ جب اس نے شادی کی درخواست کی تو اس نے بھی کم و بیش وہی شرائط پیش کیں جو فرانس میں لکاس کیون کو طوبیٰ نے پیش کی تھیں یعنی کہ وہ اسلام قبول کرے۔ شریعت کی پابندی کرے اور جہاد میں حصہ لے۔ اس کا معاملہ البتہ لکاس کیون کی نسبت ذرا زیادہ پیچیدہ تھا۔ وہ امریکی فوج میں تھا۔ مگر وہ جو ہمارے صوفی شاعر حضرت سچل سرمست نے کہا تھا کہ

جیں دل پیتا عشق دا جام

او دل سچلؔ مست مدام

(جس دل نے عشق کا جام پی لیا، وہ دل تو سچلؔ مست اور بے خود ہوگیا)

سو، یہ امریکی فوجی بھی دل کے ہاتھوں ہار گیا اور ٹھان لی کہ وہ اس ترک لڑکی سے شادی ضرور کرے گا۔

طاہر عبداللہ نے اجاز ت چاہی کہ وہ پہلے قرآنِ کریم کا مطالعہ اچھی طرح کرے گا اور اس کا دل اس طرف مائل ہوا تو باقی دو شرائط پر عمل کرنا کوئی ایسی بڑی مشکل نہیں۔ طاہر عبداللہ کی شادی ہوگئی اور چار بچے بھی ہوئے، وہ پاکستان ان کے ساتھ ہی آیا تھا۔ کافی دن وہ ترکی، مراکش، افغانستان اور صوبہ سرحد میں رہا تھا۔ بچوں سے خاکسار کی ملاقات ہوئی تو وہ حیراں رہ گیا کہ بچے انگریزی، جرمن، عربی، اردو، پشتو اور ترکی زبانیں روانی سے بولتے تھے۔ سات سال سے تین سال کی عمر کے یہ بچے یا تو حافظِ قرآن تھے یا قرآنِ پاک حفظ کرنے میں مصروف تھے۔

وہ ہمیشہ سے اس نظریے کا حامی رہا کہ کسی بھی زبان کا آنا ذہنی نش و نما کی خاص علامت ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ زبانیں بولنے والے عام افراد کی نسبت زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

اسے لگا کہ طاہر عبداللہ اور اس طرح کے دیگر جذباتی نوجوانوں کی سوچ درست نہیں اسلام علم اور کردار کا نام ہے، ہتھیار اٹھانے کا مرحلہ تو بہت بعد میں آتا ہے۔ پی ایل او سے لے کر طالبان تک افغانستان سے باہر ہر حربی تحریک فیل ہوگئی ہے۔

پاکستانیوں نے جنرل ضیا الحق جنرل مشرف اور اب سی پیک میں تین بڑے مواقع ضائع کردیے ہیں۔ اب بھی موقع ہے کہ ہم چین سے ضد کریں کہ وہ ہر سو میل پر ایک اسکول اور ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور تین جامعات میں کمپیوٹر کے حوالے سے مصنوعی ذہانت، جس میں چین امریکہ کو آنکھیں دکھا رہا ہے، اس کے ادارے قائم کردے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس نئی دنیا کے تقاضے ہیں۔ ہمارے سو بہترین طالب علموں کا وہ انتخاب وہ خود کریں اور اسکالر شپ پر انہیں چین اپنی جامعات میں صرف کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انڈسٹریل ڈیزائن کی تعلیم کے لیے لے جائیں۔

سنگہوا یونیورسٹی، بیجنگ

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جناب سلام علیکم
    میں آپکا خاموش مداح ہوں ۔ اور کم ازکم ایک با آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب کبھی فرصت ملے یاد فرمائیے گا۔ آپکی تحریریں بہت مثبت ہوتی ہیں۔ آجکل تشکیک اور شبہات کی نشرو اشاعت کا دور ہے۔ اس لیے آپ کی تحریریں زیادہ اچھی لگتی ہیں۔ آپ کی ذمہ داری اسلیے اور بڑھ جاتی ہے۔:
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!