صلاحیت ، صالحیت کے ساتھ - فیض اللہ خان

دفتر کے لیے گھر سے نکلا تو یونیورسٹی روڈ پہ بنی بالائی گزر گاہ پہ بینر پہ لکھا دیکھا کہ صوبائی و شہری نمائندوں کی جانب سے پانی کی عدم فراہمی کے خلاف اکتیس مئی یعنی جمعرات کو واٹر بورڈ کے مرکزی دفتر کے باہر جماعت اسلامی احتجاجی دھرنے پہ بیٹھ رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج کے لیے افطار کا وقت رکھا گیا ہے اور اس کے بعد تراویح کا بھی اہتمام ہے ایسا ہی ایک احتجاج گزشتہ رمضان میں کے الیکٹرک کے خلاف بھی جماعت اسلامی کرچکی ہے۔

خوش قسمتی سے میرے علاقے میں پانی کا مسئلہ کبھی نہیں رہا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جن علاقوں میں پانی کے ٹینک لبالب بھرے رہتے تھے اب وہاں بلامبالغہ ہفتوں بعد اور کہیں کہیں تو بالکل بھی پانی نہیں آتا اور اس معاملے میں علاقوں کی کوئی تخصیص نہیں رہی کچی پکی آبادی ہو یا پوش علاقے یہ معاملہ ہر جگہ موجود ہے اور بدترین شکل میں ہے۔ کراچی میں پانی مافیا اتنی منظم ہے کہ اس میں کیا خاکی کیا ناری اور کیا ہی نوری؟ ہر طرح کی مخلوق ملوث ہے (سپریم کورٹ کے حکم پہ بننے والے واٹر کمیشن کی مداخلت کے بدمعاشی تو خاصی کم ہوئی لیکن رشوت کے ریٹ مزید بڑھ چکے۔) ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ جب سے حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کراچی کی سربراہی سنبھالی ہے زمینی مسائل پہ جماعت اسلامی کی توجہ بڑھ چکی ہے۔ پہلے یہی اعتراض تھا کہ جماعت ایران توران کی بات کرتی ہے مگر مقامی مسائل کا تذکرہ بھی توہین سمجھتی ہے حالانکہ یہ ایک غلط فہمی ہے کیونکہ جب جب کراچی کی نظامت جماعت کو ملی یہاں ادارے بنے میرٹ پہ بھرتیاں ہوئیں دینی اور مہذب تہذیب کو بڑھاوا ملا۔

حافظ نعیم نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا وہ کسی نہ کسی درجے میں جاری ہے مثلاً آپ کبھی شام میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر پہنچیں تو وہاں نادرا، کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے ستائے شہریوں کا جم غفیر ملے گا رنگ نسل مذہب کی تفریق کے بغیر ان تمام انسانوں کی خدمت وہاں موجود پبلک ایڈ کمیٹی کرتی ہے، کچھ کے مسئلے حل ہوجاتے ہیں کچھ کے رہ جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم مظلوم کو رونے کے لیے کندھا تو مل ہی جاتا ہے۔ الیکشن میں کم ہی وقت باقی رہ گیا ہے ملک بھر کی طرح کراچی والوں نے بھی اپنا فیصلہ سنانا ہے میری خواہش ہے کہ اس بار کراچی کی نمائندگی جماعت اسلامی کو ملے اس خواہش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جماعت سے منسلک لوگوں میں صرف صالحیت ہی نہیں بلکہ صلاحیت بھی ہے کے پی کے وزراء اور کراچی میں عبد الستار افغانی و نعمت اللہ خان اس کی بہترین مثال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اے پاکستان کے باسیو! کراچی سسک رہا ہے - فیض اللہ خان

کراچی میں ووٹ کی طاقت کا بڑا حصہ الطاف حسین کے اشارہ ابرو کا منتظر رہا ہے اس بار ممکن ہے کہ حالات پہلے سے تبدیل ہوں ایم کیو ایم لندن بائیکاٹ کا اعلان کرچکی (الیکشن سے پہلے چیزیں بدل سکتی ہیں ممکن ہے کہ الطاف حسین نواز شریف کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کردیں) ایسے میں اردو بولنے والوں کے لیے جماعت اسلامی ایک بہترین آپشن ہے، رہی بات اختلافات کی تو وہ کہاں نہیں ہوتے؟ اگر ماضی سے نکل کر ووٹر حال و مستقبل کا سوچے تو جماعت ایک اچھا آپشن ہے اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک جماعت اسلامی کے نمائندوں یا قیادت کا انہی بستیوں میں رہنا بھی ہے، جہاں آپ ہم رہتے ہیں، سید منور حسن، حافظ نعیم الرحمن، ڈکاٹر معراج الہدیٰ صدیقی، محمد حسین محنتی، راشد نسیم اور فاروق نعمت اللہ سمیت کئی نام ہیں جو ڈیفنس کلفٹن میں نہیں بلکہ ہمارے درمیان رہتے ہیں طاقت اختیار اور مواقع ہونے کے باوجود یہ لوگ بدعنوانی سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پہ ہیں ان تک رسائی اتنی ہی آسان ہے جیسا کہ ہم اپنے کسی بے تکلف دوست تک پہنچتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف قیادت تک محدود نہیں بلکہ وہ لوگ جو جماعت سے جڑے ہیں لیکن سیاسی میدان میں پیچھے ہیں وہ بھی باکمال اور صلاحیت والے ہیں مثلاً استاد محترم زبیر منصوری اور ڈاکٹر فیاض عالم سامنے کی مثال ہیں جو جماعت اسلامی سے بھی وابستہ ہیں اور انسانوں کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات سے تو بہت سے لوگ واقف ہیں لیکن محترم زبیر منصوری جس طرح لوگوں کی مدد اور خیر کے کاموں پہ لگاتے ہیں وہ صرف ان کا رب وہ اور متعلقہ لوگ ہی جانتے ہیں۔ تحریک انصاف کی بیشتر قیادت رہتی ڈیفنس کلفٹن میں ہے اور نمائندگی وہ عزیز آباد اور میٹرو ویل کی کرنا چاھتے ہیں۔ یہ کوئی بری بات نہیں لیکن میرے لیے نارتھ ناظم آباد میں نعیم الرحمن کا گھر تلاش کرنا، علی زیدی کے ڈیفنس میں موجود مکان کی نسبت بہت آسان ہے۔ حافظ نعیم متحرک ہیں، فعال ہیں، تیز ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حقیقت میں متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کراچی کی نمائندگی کے لیے بہترین آپشن ہیں، آنے والے کل کو بہتر بنانے کے لیے انہیں منتخب کیجیے جو فلسطین تا کراچی ہر جگہ کا درد رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کے رشتہ دار نے میکا سنگھ کو کیسے بلایا؟

اپنے پانی جیسے بنیادی کے لیے نکلیں شاہراہ فیصل پہ واٹر بورڈ کے دفتر پہنیچں اور اس نعمت کو چوری کرنے والے افسروں کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا حصہ وصول کریں، جماعت اسلامی آپ کی رہنمائی بھی کرے گی افطار کرائے گی تراویح پڑھائے گی۔ جماعت اسلامی کے عملی سیاست میں بچگانہ فیصلے وغیرہ الگ موضوع ہے لیکن مجموعی طور پہ یہ اچھے لوگ ہیں۔

نوٹ: روزہ نہ رکھنے اور تراویح نہ پڑھنے والے بھی شریک ہوں حافظ نعیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.