خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید بروں- اوریا مقبول جان

ہم جس دور میں زندہ ہیں، جس ماحول میں جی رہے ہیں، کیا ایسی حالت اس امت مسلمہ پر گزشتہ چودہ سو سال میں پہلے کبھی آئی ہے۔ ہمارے ہاں مسلکی اختلاف صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ دو بڑے مسالک شیعہ اور سنی اپنے اپنے نظریات کے ساتھ تیونس و الجزائر کے ساحلوں سے لے کر برونائی کے جزیرے تک گلی محلے میں ایک ساتھ زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔ ان دونوں بڑے مسالک میں بھی لاتعداد فقہی اختلافات، مذاہب کی صورت زمانہ قدیم سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔

سنیوں میں حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہوں کو ماننے والے ایک تواتر سے ان چاروں اماموں کی تقلید میں علم و حکمت کے مراکز بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور ان فقہوں کو ماننے والے بھی پوری مسلم دنیا میں جابجا گروہوں کی صورت بکھرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اہل تشیع میں اثنا عشریہ، اسماعیلی، بوہرے اور زیدیہ جیسے فقہی مذاہب تقریبا اتنے ہی قدیم ہیں جتنے سنی فقہی گروہ۔

اس امت میں گذشتہ چند صدیوں سے ایک ایسا جمہود آیا، ایک ایسی علمی بے حرکتی نے جنم لیا کہ لوگوں نے خود سوچنے سمجھنے اور غور وفکر کرنے کی بجائے تقلید کا راستہ اختیار کرلیا۔ اب بس اپنے اپنے ائمہ اور اسلاف کے اقوال و ارشادات کے دفاع کے علاوہ کوئی اور علمی کاوش ہمارے دامن میں باقی نہیں رہ گئی۔

مناظرے اور مجادلے شروع ہوئے اور ایک دوسرے کے بزرگوں کی کتابوں میں کیڑے نکالنے اور ان پر کتابیں تحریر کرنے میں زندگیاں صرف ہونے لگیں۔ آپ آج کے مسلکی اختلاف اور فقہی مناظروں کو دیکھ لیں، آپ کو ان میں قرآن و حدیث سمجھنے کی بجائے صرف اپنے اپنے اسلاف کے نظریات کے دفاع میں استعمال ہوتے نظر آئیں گے۔ لیکن ان تمام اختلافات اور مسلکی گروہ بندی کے باوجود چودہ سو سال میں اس امت میں ایسی خانہ جنگی اور خون خرابہ کبھی نہ تھا جو ان دو مسالک کو مسلک کی بنیاد پر میدان جنگ میں اتار دے۔

سیدنا علیؓ کے زمانے میں لڑی جانے والی جنگ جمل، صفین اور نہروان کی بنیاد کسی طور پر مسلک کا اختلاف نہ تھا۔ سیدنا عثمان ؓ کی شہادت سے پیدا شدہ صورتحال سے ایک ایسا بگاڑ پیدا ہوا کہ دونوں جانب تلواریں سونت لی گئیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ ایک دوسرے سے شدید اختلافات کے باوجود لوگ اپنے مخالف کے پیچھے نمازیں تک ادا کرتے تھے۔

بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کے دوران سیدنا امام حسین ؓ کی مظلوم شہادت سے لے کر امام احمد بن حنبل پر ظلم و ستم کی دردناک داستان تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مسلمان بادشاہوں کے سامنے سینہ سپر ہونے والی یہ عظیم ہستیاں یکساں محترم نہ رہی ہوں۔

پوری امت میں سیدنا امام حسین ؓ کے واقعہ کربلا، زید بن علی کے خروج، نفسِ ذکیہ کی شہادت، امام ابوحنیفہ پر ظلم، جیل میں انکے انتقال اور ایسے لاتعداد واقعات اجتماعی احترام کا حصہ ہیں۔ امت نے ان روشن کرداروں کو بحیثیت مجموعی اپنا ہادی و رہنما اور اپنی مجموعی آواز کہا۔ واقعہ کربلا پر بھی سب نے غم و غصہ کا اظہار کیا اور احمد بن حنبل کی استقامت کی داستان بھی سب نے بیان کی۔

یہی وجہ ہے کہ اتنے شدید اختلافات اور نظریاتی تفریق کے باوجود بھی صدیوں مسلکی اختلاف کی بنیاد پر تلواریں نہیں نکلیں۔دونوں گروہ شانہ بشانہ، ساتھ ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ علمی زوال بھی آیا، لیکن دشمنیاں مناظروں اور مباحث سے آگے نہ بڑھ سکیں، جبکہ ہمارے مقابل میں اگر عیسایت کا جائزہ لیں تو انتہا کی خونچکاں تاریخ ہے 1517 ء میں عیسائیت میں اختلاف شروع ہوا، پروٹسٹنٹ فرقے نے جنم لیا تو پھر 1712 ء تک یورپ میں دو سو سال کشت و خون کا بازار گرم رہا۔

حکومتیں اور بادشاہتیں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذہب کے نام پر جنگیں کرتی رہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دو کروڑ لوگ ان جنگوں میں قتل کیے گئے، شہر ویران، مکان نذرآتش، بچے ذبح اور عورتیں بازاروں میں بیچی گئیں۔ ٹھیک اسی زمانے میں ایران میں صفوی شیعوں کی حکمرانی تھی جو 1501 ء سے 1736 ء تک قائم رہی جبکہ انہی دنوں ترکی سے لے کر دیگر تمام ممالک میں سنی خلافت عثمانیہ قائم تھی۔

ان دونوں حکومتوں کے درمیان مسلک فرقہ یا مذہب کی بنیاد پر ایک جنگ بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مسلمانوں سے زیادہ پرامن اور خالصتاً علمی اختلاف دنیا کے کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں میں نہیں ملتا۔ بادشاہوں نے اس اختلاف کو ہوا دے کر اپنے مخالفوں کو کچلنے کی کوشش کی لیکن یہ حکمت عملی زیادہ دیر چل نہ سکی کہ لوگوں کو اس بات کا احساس ہو جاتا کہ یہ تو ذاتی تخت و تاج کی جنگ ہے۔ اتنے شدید اختلافات کے باوجود صدیوں پرامن رہنے والی یہ امت ان دنوں ایک دوسرے کیلئے اس قدر خونخوار کیسے ہوگئی۔ نہ صرف یہ کہ شہروں اور گلی محلوں میں تو ایک دوسرے کا خون بہاتے ہی تھے بلکہ اب تو بادشاہتیں اور حکومتیں بھی آپس میں لڑنے لگ گئیں۔ عراق، شام اور یمن میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل کیتھولک اور پروٹسٹنٹ خونریزی کی یاد دلاتا ہے۔

اس امت میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ دو حکومتوں نے اپنے اختیار کو وسعت دینے کے لیے جنگ شروع کی اور سادہ لوح پیروکاروں کو اسے مذہب کی بقا، مقدس مقامات کے تحفظ اور عقیدے کی بالادستی کی جنگ بنادیا۔ ہمارے ہاں آپس کی جنگیں رہی ہیں لیکن وہ سب اقتدار کی خاطر کچھ گروہوں کی تھیں۔ ہم پر بیرونی حملہ آور بھی آتے رہے۔

ہلاکو نے بغداد کو تاخت و تاراج کردیا، چنگیز خان نے اپنی تلوار سے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ افریقہ میں فرانسیسی داخل ہوئے تو برصغیر پاک و ہند میں برطانوی۔ لیکن یہ تمام بیرونی حملہ آور بلاتفریق شیعہ و سنی قتل کا میدان سجاتے تھے اور ان کے مقابل میں لڑنے والے مسلمان شیعہ سنی اختلاف کے بغیر لڑتے تھے۔ لیکن آج بیرونی حملہ آور اس امت کے جن ممالک پر حملہ آور ہیں وہاں ہم اپنے اپنے مسالک اور مذہب کے مطابق حمایت اور مخالفت بھی کرتے ہیں اور ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔

ایک گروہ روس کیساتھ ملکر دوسرے کو قتل کرتا ہے تو دوسرا گروہ امریکہ کیساتھ ملکر اپنے مخالف کی گردنیں کاٹ رہا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس کی خبر، مخبر صادق، سید الانبیائﷺنے اس امت کو دور فتن اور آخری بڑی جنگ ( ملحم الکبریٰ) کے حوالے سے دی ہے۔حضرت عوف بن مالک ؓ فرماتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی اس امت پر دو تلواریں جمع کریں گے۔

ایک تلوار خود ان کی (آپس کی لڑائی) اور ایک تلوار ان کے دشمن کی (سنسن ابوداؤد)۔ آج کے دور کو اگر اس حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ ہم ان علامات کے بیچ کھڑے ہیں جن میں آخری معرکہ ہونے والا ہے۔ یوں تو باقی لاتعداد نشانیاں جو صرف رسول اکرم ﷺکی احادیث ہی نہیں بلکہ یہودی اور عیسائی مذاہب کی کتابوں میں موجود ہیں، اب دن بدن روزروشن ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ وہ واحد علامت ہے جو چودہ سو سال میں پہلی دفعہ کھل کر سامنے آئی ہے کہ ہم پر بیرونی دشمن بھی حملہ آور ہیں اور ہم ایک دوسرے کا گلا بھی کاٹ رہے ہیں۔

اختلاف کا یہ عالم ہے کہ آپ پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں گھوم کر دیکھ لیں آپ کو کسی سیاسی، مذہبی اور دینی قیادت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آئے گا کہ جس پر یہ امت جمع ہوسکے، جو اسے ایک پرچم تلے اکٹھا کر سکے، جس کی قیادت میں تمام مسالک اور قومیتوں کے لوگ اپنے اختلاف بھلا سکیں۔ یوں لگتا ہے اب اس شخصیت کے ظہور کی آمد قریب ہے جس کی اس امت کا ہر مسلک اور مذہب کا ماننے والا انتظار کر رہا ہے۔

علامہ اقبال مدتوں یہ تصور رکھتے تھے کہ امام مہدی کے انتظار نے امت کو کاہل، سست اور بے عمل کر دیا ہے لیکن جب ان کے سامنے احادیث کے مطابق علامات روشن ہونا شروع ہوں تو اقبال بھی رسول اکرمﷺکی حدیث کی حدیث کے مصداق پکارا تھے خضر وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آمد بروں کاروان زین وادی دور و دراز آید بروں ترجمہ:وقت یا زمانے کا خضر (امام مہدی) حجاز کے صحرا کی تنہائیوں سے برآمد ہوگا اور اس کی مدد اور نصرت کے لئے اس دوردراز وادی (ہندوخراسان) سے کاروان نکلیں گے۔

سید الانبیائﷺ کی بشارتوں کا موسم ہے۔ ملحم الکبریٰ کے آغاز کا وقت ہے۔ وقت اپنے بہاؤ کی جانب روانہ ہے۔ اس انجام کو نہ جمہوریت کا تسلسل روک سکتا ہے اور نہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی۔ اب مفاہمت نہیں غلبے کے لئے جدوجہد کا وقت ہے۔