رمضان المبارک اور ہمارے رویے - محمد سلیم جباری

ماہِ رمضان المبارک اپنی بھر پور برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ عنایاتِ ربانی کی برکھا تسلسل کے ساتھ موسلا دھار برس رہی ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ جو ان ساعتوں سے اپنے دامن تر کر رہے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرکے سعادتیں سمیٹ رہے ہیں۔ کوئی غریبوں کے لیے راشن کا اہتمام کر رہا ہے تو کوئی افطاریاں کرواکے ثواب سمیٹنے میں مصروف ہے۔ کوئی راتوں کے قیام سے لطف اندوز ہو رہا ہے تو کوئی تلاوت قرآن سے لذت پا رہا ہے۔ نیکیوں کے اس موسم بہار کی خوشبوئیں پورے کرہ ارض کو معطر کیے ہوئے ہیں، مومنوں کو ان رعنائیوں سے فیض یاب ہونے کے لیے ان کے ازلی اور ابدی دشمن شیطانِ لعین کو بھاری زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے تاکہ تجلیات ربانی سے اپنے من کو اجالنے والی سعادت مند روحوں کے سامنے کوئی سدِ راہ نہ بن پائے۔ مگر افسوس کہ اس دشمن ِقلب و روح کے کچھ پیروکار ایسے ہیں کہ جو ان مقدس ساعتوں کو بھی آلودہ کرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔

ماہ مقدس کی آمد سے قبل دو طرح کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ ایک طرف تو اللہ والے اس کی رضا کے حصول کی راہیں تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ریٹنگ کے موذی مرض میں مبتلا ٹی وی چینلز لاشعوری طور پر ’’رمضان ٹرانسمیشن‘‘ کے نام پر اس ماہ مقدس کے تقدس کو پامال کرنے کی پلاننگ میں مصروف ہوتے ہیں، جو سحرو افطار کی بابرکت ساعتوں کو بھی آلودہ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اللہ بھلا کرے جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہ جنہوں نے رمضان المبارک سے قبل ہی از خود نوٹس لیتے ہوئے کچھ پابندیاں عائد کیں۔ انہوں نے برائی کو روکنے میں اپنا مومنانہ کردار ادا کرتے ہوئے ان پروگراموں کو ’’سرکس‘‘ سے موسوم کیا اور تاریخی فیصلہ سنایا کہ اداکاروں اور کرکٹروں کو ایسے پروگراموں کی میزبانی کی اجازت نہ ہوگی بلکہ ڈاکٹریٹ ڈگری کے حامل تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے سکالرز یہ ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ مگر افسوس کہ جسٹس صاحب کے فیصلے کے نتیجے میں کہیں معمولی بھی تبدیلی دکھائی نہیں پڑی۔ وہی بے ہنگم’’سرکس‘‘ اور مادر پدر آزاد میڈیا کے جشن جاری ہیں، اس لیے کہ استعماری طاقتیں اپنے ایجنڈے پر کار بند اور ان کے ’’مُہرے‘‘ اس کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان خود ہی ان چینلز کا بائیکاٹ کردیں۔ خود بھی تو سوچیں جج صاحب کا فیصلہ سر آنکھوں پر، انہوں نے قوم کو ایک سوچ تو فراہم کی ہے ہم اس سے استفادہ کرتے ہوئے خود ہی ان مقدس ساعتوں میں کیبل بند کیوں نہیں کردیتے؟ آئیے عزم کریں کہ کم از کم اس ماہ مقدس میں ٹی وی آن نہیں کریں گے۔ نوافل، تلاوت ِقرآن اور اللہ کے ذکر سے اپنے اذہان وقلوب کو معطر کریں گے۔

اسی طرح ہمارے معاشرے کا ایک نہایت تکلیف دہ رویہ مصنوعی قلت پیدا کرنا ہے۔ بحیثیت امت محمدیہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے سانجھی بھی ہوتے ہیں اور باہم پیار اور محبت کے خوگر بھی۔ یہ کیا ہے کہ جیسے ہی رمضان المبارک کی آمد یا کسی تہوار کا موقع ہوتا ہے تو ہم اپنے ہی بھائی بندوں کی جیبیں کاٹنے کے لیے اپنے گوداموں اور دکانوں پر پڑی چیزوں کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کردیتے ہیں کہ غریب تو کیا متوسط طبقہ بھی خریدنے سے معذور دکھائی دیتا ہے؟ بجائے اس کے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے سہولتیں بہم پہنچائیں، ہم مزید مشکلات کھڑی کر دیتے ہیں جو اپنے ہی جسم کو نوچنے کے مترادف ہے۔ ہم اشیائے خورونوش سے لے کر تمام ضروریاتِ زندگی تک مصنوعی قلت اور قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کرکے ’’خود غرضی‘‘ کا بزنس کرتے ہیں بلکہ گوداموں میں پڑا ناقص اور پرانا سامان بھی انہی دنوں کے لیے بچا کررکھ لیتے ہیں جبکہ غیر مسلم ممالک میں کاروباری ادار ے اور دکاندار اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کے لیے منظم منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات کی قیمتیں نصف سے بھی کم سطح پر لے آتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارا طرز ِعمل، یقین جانیے یہ آپ کے قلب وروح کو سکون سے ایسا محروم کردیتا ہے کہ لاکھوں لوٹ مار کرکے بھی مہینے کے آخر میں آپ غیر مطمئن دکھائی دیں گے کہ ’’سیزن جیسے لگنا چاہیے تھا ویسے نہیں لگا‘‘۔ ایسے رویوں سے ہم عذاب ِالٰہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر متنفس دوسرے کو داؤ لگانے کی سوچ میں مبتلا ہے، ہر سو نفرتیں اور بے چینیاں ہیں کہ بڑھتی ہی جا رہی ہیں اور نفسا نفسی کا عالم ہے۔ حکمرانوں کو تو اپنی پڑی ہے، کسی کو اقتدار کے حصول کی ہوس ہے تو کسی کو اقتدار حاصل کرنے کی خواہش، انہیں عوام کے مسائل اور مشکلات سے کیا واسطہ؟ ہم حکومتی احکامات یا کسی از خود نوٹس کا انتظار کیوں کریں۔ آئیے خود سوچیں!، جہاں تک ہمارا بس چلے اور ہماری آواز پہنچ سکے ہم ان عناصر کو احساس دلائیں کہ جنہیں تم دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہو وہ بھی تمہارے ہی بھائی ہیں۔ اسی معاشرے کے فرد اور اسی وطن کے شہری ہیں اور سب سے بڑھ کر بحیثیت مسلمان تمہارے ہی جسم کا حصہ ہیں۔ کس کس بات کاماتم کریں؟ رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں جب ہر متنفس اللہ تعالیٰ سے مناجات کی جستجو میں مصروف ہے، ایسے میں ایک روح فرسا خبر پڑھنے کو ملی جس نے قلب وروح کو زخمی کردیا کہ ’’ملک بھرکے تمام بڑے شہروں میں 130سینماگھر تعمیر کیے جارہے ہیں اور انہیں ٹیکس سے بھی چھوٹ ہوگی‘‘۔

آئیے اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھائیں کہ الٰہی ہمارے حکمرانوں کو ہدایت نصیب فرما، اگر ہدایت ان کا نصیب نہیں تو ہمیں ان سے نجات عطا فرما دے اور اچھے حکمران نصیب فرما جو سینماؤں کی بجائے مساجد کی تعمیر اور سرپرستی کرنے والے ہوں۔ آمین!