عمران خان ناکام ہوگا - تصوّر حسین خیال

وہ کہتا ہے میں نے ناکام ہونا نہیں سیکھا، وہ کہتا ہے کہ ناکام وہ ہوتا ہے جو ناکامی مان لیتا ہے۔ یہ جذبہ ان مقاصد کے لیے واقعی میں بہت بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے جو انفرادی ہوں۔ جہاں آپ اپنے ہی مخالف ہوں یا جہاں آپ کے مخالفین کی تعداد انگلیوں پہ گنی جا سکے۔ ان دونوں صورتوں میں آپ اپنی انتھک محنت سے ایک ناکام سے کامیاب کرکٹر اور ایک گیارہ لوگوں کی کمزور ٹیم میں جیت کی روح پھونک کے ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔ فرض کریں اگر گیارہ میں سے باقی 10 عمران کے جیت کے یقین کو اپنی غرض پہ قربان کرنے پہ تل جاتے تو کپتان اکیلا اپنا خون بھی بہا دیتا تو وہ تاریخی خوشی کبھی مقدر نہ بنتی۔

ایک اجتماعی کامیابی اجتماعی کوشش کی مرہون منت ہوتی ہے۔ ایک پورے گھر کو کئی ستون سہارے رکھتے ہیں۔ کسی ایک بھی ستون کا کمزور پڑنا گھر کی سالمیت خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اجتماعی مقاصد کی کامیابی کا انحصار مشترکہ جدوجہد پہ ہوتا ہے، وہاں ایک اکیلے شخص کی ہمت اور ناکامیوں سے لڑنے کا جذبہ طوفان کو ہاتھ سے روکنے کے مترادف ہو ہے جو کہ مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔

اس ملک کو درپیش مسائل بھی کسی طوفان سے کم نہیں ہیں اور ان کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ وہی لوگ ہیں جنہیں اس طوفان سے شدید خطرہ ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں اس خطرے کا ادراک گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے مگر وہ اس سے نمٹنے کے لیے ہاتھ بننے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کو اس کا ادراک پچھلے ستّر سالوں سے ہو رہاہے۔ جب ان کا بچہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جا پاتا، جب ان کے بچے سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کے کھاتے ہیں، جب ان کے پیروں میں جوتے نہیں ہوتے، جب عید بھی بنا کپڑوں کے گزر جاتی ہے۔ جب ماں باپ گھر میں بنا دوائیوں کے بان کی چارپائیوں پہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مر جاتے ہیں، جب بیٹیاں جہیز نہ ہونے کے سبب گھر کی دہلیز پہ ہی سفید سروں کے اوپر کالی چادریں اوڈھ لیتی ہیں، جب پیٹ کی آگ انہیں اپنی عزت کسی وڈیرے کے ڈیرے پہ بھیجنے پہ مجبور کرتی ہے۔ جب کچے کوٹھے بارشوں میں گھر کے تین چار لوگوں کا بوجھ ہلکا کر جاتے ہیں۔ جب بیٹیاں پیدا ہوتے ہی ان کے جوان ماتھوں پہ فکر کی سلوٹیں ڈال جاتی ہیں۔ جب ریڑھے پہ لدا ان کا کوئی اپنا ہسپتال کے رستے میں دم توڑ جاتا ہے۔ جب کوئی جاگیردار انہیں کسی اکٹھ میں سب کے سامنے بے عزت کرتا ہے۔ جب کسی معمولی غلطی پہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر کہیں اس کی سنوائی نہیں ہوتی۔ جب اپنے ہی حق کے لیے عدالتوں کے دھکے کھاتے کھاتے ٹانگیں جواب دے جاتی ہیں اور وہ یہی دھکے وراثت میں اولاد کو سونپ کے موت کو سینے سے لگا لیتا ہے۔ جب ڈگریاں ہاتھ میں لیے کوئی در در بھٹکتا ہے مگر مایوسی کے سوا اس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اپنی اس بدحالی کے طوفان کا سامنا یہ عوام پچھلی کئی دہائیوں سے کر رہی ہے۔ مگر جب اس سے لڑنے کی باری آتی ہے تو یہ ننگے پاؤں اس کے استقبال کے لیے نکل کھڑی ہوتی ہے اور کبھی تیر سے چھلنی ہوتی ہے تو کبھی شیر ان کے تن کی بوٹیاں ادھیڑتا ہے۔ ایک نان اور ایک بریانی کے بدلے پورے پانچ سال اس طوفان کا نام لے لے کے روتی پیٹتی ہے مگر لڑتی نہیں۔ اس طوفان کے آگے جم کے کھڑے ہوؤں کا ساتھ نہیں دیتی۔ روتی ہے مگر رلانے والوں کو بار بار سینے سے لگاتی ہے۔ حالت ایسی ہی رہتی ہے، خدا بھی نہیں بدلتا کیونکہ جنہیں زنجیریں زیور لگتی ہوں ان کی مدد کو فرشتے بھی نہیں آتے۔

فیصلہ کرنا کون سا مشکل ہے؟ کسے نظر نہیں آتا کہ ہر سال شیر کی چمڑی موٹی سے موٹی ہوتی جا رہی ہے۔ دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں، ملکی خزانہ خالی ہے۔ اپنے کارخانے دن رات چل رہے ہیں، ملکی ادارے بیچنے کے درپے ہیں۔ عوام رکشوں میں مر رہی ہے، اپنے سردرد کا علاج بھی لندن کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ عوام کے بچے ہوٹلوں، ورکشاپوں پہ مزدوری کرتے ہیں، کوڑا کرکٹ اکٹھا کرتے ہیں اسی میں سے بچا کچھا اٹھا کے کھاتے ہیں مگر ان کے اپنے بچے آکسفورڈ اور کیمبرج میں جا کے پڑھتے ہیں۔ کون یہ دیکھ نہیں پاتا کہ ملک میں نواز شریف کی دلچسپی ما سوائے حکمرانی کے مزے لوٹنے، کاروبار کرنے کے علاوہ بچی ہی کیا ہے؟ اس سے بڑی شرمناک حقیقت کیا ہوگی کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم کے بچے اس ملک کو دن رات لوٹتے رہے مگر جب حساب کی باری آئی تو انہوں نے یہ کہہ کے جان چھڑائی کہ ہم تو اس ملک کے شہری ہی نہیں؟ یہ اس عوام کہ منہ پہ زور دار تمانچہ تھا جس نے انہیں بار بار حکمرانی دی مگر عوام کہ منہ ایسے تمانچوں کے عادی ہیں اس نے محسوس تک نہیں کیا۔ حکمرانوں کے سامنے یہ گاندھی گیری کی بہترین مثال ہیں، ایک گال پہ تھپڑ کھانے کے بعد بخوشی دوسرا آگے کر دیتے ہیں وہ بھی صاف کر کے کہہ کہیں بادشاہ سلامت کے ہاتھ نہ گندے ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس وجامعات کا مسئلہ - مفتی منیب الرحمن

پاناما کی بات کر لیں۔ اگر اس عوام میں ذرہ برابر بھی شعور ہوتا تو اس پورے خاندان کی نا اہلی تبھی ہو جاتی جب مریم کی وہ پراپرٹی جو تھی ہی نہیں پاکستان میں بھی نکلی اور لندن میں بھی۔ اب یہ سمجھنے کے لیے کون سی پی ایچ ڈی چاہیے کہ جھوٹ تبھی بولا جاتا ہے جب آپ کے سچ میں جان نہ ہو۔ یا جب پورے خاندان کے آپس کے بیانات میں واضح تضادات تھے۔ سچ ہوتا تو سبھی کا ایک ہوتا، جھوٹ تھا تبھی سب کا الگ تھا۔ یا عوام انہیں تب رد کر دیتی جب انہوں نے اربوں کی جائیداد کی تفصیلات کے جواب میں صرف ایک خط پیش کیا۔ کیا کوئی عام پاکستانی اپنی جائیداد کے جواب میں کسی دوست کا خط دے کے سزا سے بچ سکتا ہے؟ نواز شریف کے اسمبلی، ٹی وی اور جلسوں کی تقریروں میں موجود ذرائع نیب کے سامنے آ کے اچانک دم توڑ گئے، اب روز کے ان کے جلسوں میں شیر شیر کے نعرے لگانے والوں میں اتنی اخلاقی غیرت ہے کہ اُن سے پوچھ سکیں کہ میاں صاحب! وہ ذرائع اب کہاں مر گئے، کہاں گیا اسمبلی میں دیا گیا بیان؟ سیاسی تھا تو کسی شیر میں اتنی جرات ہوئی کہ میاں صاحب سے پوچھے کہ سیاسی بیان کے نام پہ جھوٹ بولنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟ جواب دیتے دیتے اچانک آپ نے اپنے ہی بچوں کی جائیداد سے لا تعلقی کیوں اختیار کرنی پڑی یا مریم شیرنی کے نام کے نعرے لگانے والے کبھی اس سے یہ بھی پوچھیں کہ آپ کے جمع کرائے گئے سبھی کاغذات جعلی کیوں نکلے؟ اور اب فیصلہ خلاف آنے کے ڈر سے کبھی سازش کا الزام کسی ادارے پہ دھرا جاتا ہے تو کبھی کسی کو بدنام کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔ نواز شریف کے نشے میں مبتلا سبھی کسی دن ایک ایک گلاس لیموں کا پی کے اس سے سوال تو کریں کہ جب آپ اربوں اکٹھے کر کے باہر جائیدادیں بنا رہے تھے، تب کون سے فوجی یا جج نے آپ کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کے آپ کے بچوں کے نام پہ یہ سب خریدی تھیں اور اگر آپ کو اپنے بچوں کے معاملات کی ہی خبر نہیں تو کیا اتنا بڑا ملک چلانے کے اہل ہیں؟ اس کیس میں عدالتی حکم کی ضرورت نہیں تھی، پاکستانی قوم کی جگہ کوئی با شعور اور مہذب قوم ہوتی تو صرف جھوٹ بولنے پہ یوکرین کے لوگوں کی طرح اٹھا کے ان لٹیروں کو کوڑے دان میں پھینک دیتی مگر جس قوم کی سوچ یہ ہو کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے تو اُس مردہ قوم سے ایسی بہادری کی توقع کیا کرنا؟ جسے بریانی کی پلیٹ پہ خریدا جا سکے اس نے تو ہر پانچ سال کے بعد پھر موقع مانگنے والوں کو تو موقع دینا ہی ہے۔

تین طرح کے لوگ ووٹ ڈالتے ہیں۔ ایک وہ جن کے ہاتھوں کے انگوٹھے مذہب، نسل، چوہدری، سائیں، پیر و مرشد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ ان کا انتخاب وہی ہوتے ہیں جو ان کے مندرجہ بالا معیار پہ پورا اتر سکے۔ بھیڑوں کا ریوڑ ہے، جدھر ہانکا گیا ادھر چل پڑیں گے۔ ان کی پنجروں میں بند سوچ اتنی ہی پنپ پاتی ہے جتنا کہ ایک لوہے کے فریم میں جکڑا دولے شاہ کے چوہوں کا سر۔ ان کا ووٹ، ووٹ نہیں ہوتا، حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ یہ ناخواندہ اور نیم خواندہ دونوں ورائیٹز میں دستیاب ہیں۔ ان کا اتنا ہی قصور ہے جتنا کسی پاگل کا کسی کو پتھر مارنا۔ دوسری قسم میں پڑھے لکھے تو ہیں مگر یہ وہ لوگ ہیں جو اس کرپٹ نظام سے استفادہ کرتے رہے ہیں، کر رہے ہیں یا انہیں امید ہے کے آئندہ کریں گے۔ ان میں نوکر پیشہ، بیوروکریٹس، وکیل، جج، صحافی، نام نہاد دانش ور اور اینکرز سبھی شامل ہیں۔ کچھ کو رشوت زدہ معاشرہ ہی راس ہے، کسی کو پیسے دے دلا کے اس نظام نے ایک آدھ نوکری دے دی، کسی کا تھانے میں رکا کام کرا دیا گیا۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں خود آج تک سمجھ نہیں آ ئی کہہ وہ عمران خان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ ان میں کچھ تو وہی ہیں جو صبح شام مختلف چینلز پہ بیٹھ کے اپنی پھولی رگوں سے پوری شریف فیلمی کو شریف ثابت کرنے کے چکر میں احسان فراموشوں کی طرح ملک کے فوج جیسے با وقار اداروں کو داغدار کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ فوج کی غلطیوں سے کسے انکار ہے مگر ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ آج اگر ملک سلامت ہے تو خاکی سے نکلے خون کے دم سے ورنہ سیاست دان تو اسے اپنے مفادات کی خاطر جتنا ہاتھ میں آتا بیچ کے کھا چکے ہوتے۔

ان دانش وران اور سیاہی کی جگہ قلم میں پیسے بھر کے لکھنے والوں سے اتنی گزارش ہے کہ اپنے گلے اور روح کو زخمی نہ کریں، اپنے آقاؤں سے رسیدوں کی ایک ایک کاپی لے کے اپنے کالمز میں اور شوز میں ہمیں بھی دکھا دیں تاکہ ہم بھی شیر شیر کے نعرے لگانے کا ثواب حاصل کر سکیں اور انڈیا اور بین الاقوامی طاقتوں کے بیانئے کو مقبول کر سکیں اور چیخ چیخ کر کہیں کہ فوج نے فلیٹس خریدے، پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنائیں مگر اب اتنے عظیم لیڈر کو سازش کے تحت نا اہل کروا یا اور اب وہ بیچارہ گلی گلی سوکھے گلے اور رندھی آواز میں صدائیں لگا رہا ہے مجھے کیوں نکالا، کیوں نکالا مجھے۔ اسی فوجی سازش کے تحت اسے ملکی راز کھولنے پہ بھی کنپٹی پہ پستول رکھ کے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہائے بھولا نواز شریف! کہتا ہے ووٹ کو عزت دو جسے اگر شریف ڈکشنری میں دیکھا جائے تو سیدھا سادھا مطلب ہے میرے کیس ختم کرو ورنہ میں نے "اوپر" شکایت لگا دینی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ، بہت خوب - آصف محمود

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی سوچ میں آزاد ہیں۔ جو اپنی رائے رکھتے ہیں۔ جو سیدھا سادھا یہ سوال بھی کر لیتے ہیں کہ چھوڑو کرپشن کو ہمیں نواز شریف میں کوئی ایک ایسی لیڈرشپ کوالٹی دکھاؤ جو ایک عام سی ۱۰ سے ۱۵ ہزار کی نوکری کے لیے امیدوار میں دیکھی جاتی ہے یا کم سے کم پوچھا جاتا ہے۔ موٹرویز اور میٹرو سے قومیں نہیں بنتیں یہ جاننے کے لیے انہیں کسی بھاشن کی ضرورت نہیں۔ ۳۵ سال حکومت کرنے والا اگر ہر الیکشن میں ووٹ موٹر وے کے نام پہ لے تو انہیں سمجھ آ جاتی ہے کہ یہ کوئی لیڈر نہیں ٹھیکے دار یا شعبدے باز ہے جو صرف وہی سوچتا ہے جو انسانی آنکھ دیکھ سکے۔ پل، انڈر پاس، سڑکیں وغیرہ مگر اس تیسری قسم کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ اپنے ووٹ سے کسی کو وزیر اعظم نہیں بنا سکتے اور عمران خان کی سیاست میں اٹھارہ سالہ جدوجہد نے یہ ثابت کیا کہ اس ملک کی اکثریت کا شعور سے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا ورنہ فرق کرنا کونسا مشکل ہے وہ بھی نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کا۔ پانچ منٹ لگتے ہیں یہ موازنہ کرنے میں کہ دونوں نے ملک سے لیا کیا اور اسے لوٹایا کیا؟ جتنا عمران نے اقتدار میں نہ آ کے دیا ہے اتنا یہ اپنی ۳۵ سالہ حکومتوں میں نہ دے سکے مگر یہ دیکھنے کے لیے پہلے زنجیریں توڑنی پڑیں گی۔ جو کھاتا نہیں صرف لگاتا ہے اسے موقع دینا پڑے گا۔

اب کی بار عمران کا فوکس دو طبقوں پہ لگتا ہے۔ ایک پہلے والے اور تیسرے والے کیونکہ درمیان والوں کو فرق نہیں پڑتا۔ ان کے بچے ابھی بھی انگلش میڈیم میں جاتے ہیں پھر بھی جائیں گے، ان کی جیبیں اب بھی آسودہ ہیں پھر بھی رہیں گی کیونکہ ان کی آمدنی کے دروازے دو دو ہیں۔ وہ سفید لفافے بھی لیتے ہیں اور کالے بھی۔ ان کو سننے اور پڑھنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ جن کی تنخواہیں چالیس سے پچاس لاکھ ہیں انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پسنا تو اس مزدور نے ہے جو چھٹی کر لے تو گھر کا چولہا نہیں جلتا۔ الیکٹیبلز پہلی قسم کے ووٹرز کو کافی حد تک رام کر پائیں گے، ان کی وجہ سے سیٹوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اول تو جیتنا اس لیےمشکل ہے کہ جن سے مقابلہ ہے اُن کا تجربہ تو مردے کے ووٹ بھی ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اگر جیت بھی گئے تو ان جتوانے والوں کے خمیر سے کون نمٹے گا جو سیاست میں فقط ذاتی مفاد کی خاطر ہیں۔ جو الیکشنز کو سرمایا کاری سمجھ کے لڑتے ہیں۔ یہ کوشش تو کریں گے دگنا وصولنے کی، ان کو لگام کون ڈالے گا؟ کتنوں کو نکالا جائے گا؟ کتنوں کو نکالا جا سکتا ہے۔ یہ بلیک میل کریں گے کیونکہ ہماری سیاست کی یونیورسٹی نے مفاد پرست گریجویٹ ہی پیدا کیے ہیں۔ اکثریت ہمارے ہاں ایسوں کی ہی ہے تو ان سے ٹکر لینے کی ہمت کون کرے گا؟ آخر قوانین تو انہی کے ووٹوں سے پاس ہوں گے۔ ایسے ہم خیال، ہم خیال گروپ بناتے دیر نہیں لگاتے اور آخر یہ اپنی وفاداریاں اسی کی جھولی میں جا ڈالیں گے جو ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ آخر عمران اکیلا رہ جائے گا۔ عمران کے علاوہ تحریک انصاف میں ویسے بھی چند ہی ہیں جو واقعتاً کسی نظریئے کے پیرو کار ہیں۔ جنہوں نے 18 سال بغیر کسی لالچ کے اُس کا ساتھ دیا ہے۔ ایسے میں یہ چند کیا کریں گے؟ ناکامی سامنے کھڑی ہوگی، تب ہار ماننا پڑے گی کیونکہ یہ مقصد اجتماعی تھا جو چند لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ عمران شاید پہلی بار ناکام ہو، اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ لوگوں کو سمجھ آ جائے کہ یہ جنگ عمران کی نہیں ان کی اپنی ہے لیکن اگر ایسا ہوگیا اور عمران ناکام ہوگیا تو شاید پھر اس قوم کو یہ سمجھ آنے میں دیر لگے کہ وہ ہار عمران خان کی نہیں بلکہ ایک مزدور، ایک کسان، ایک ریڑھی والے ایک عام پاکستانی کی ہار تھی، پاکستان کی ہار تھی مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ کیونکہ شوکت خانم جیسی مائیں اور عمران خان جیسے بیٹے پیدا کرنے میں پاکستان جیسے ملک کو ستر سال چاہیئیں۔ ستر سال!