بے ہودہ گوئی اور دیندار طبقہ - بشارت حمید

مصر کی ایک یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر نے کلاس میں آخرت کے موضوع پر لیکچر دیا اور روز محشر کی ایسی منظر کشی کی کہ کلاس پر رقت طاری ہوگئی اور طلباء کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ لیکچر ختم ہو گیا، وقفے کے دوران پروفیسر صاحب کینٹین میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ان کی کلاس کے چند طلباء بھی وہاں آئے تو دیکھا کہ پروفیسر صاحب شراب کا جام نوش کر رہے ہیں۔ طلباء بہت حیران ہوئے اور پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ نے کلاس میں فکر آخرت پر لیکچر دے کر سب کو رُلا دیا تھا اور اب یہاں بیٹھ کر شراب پی رہے ہیں؟ پروفیسر صاحب نے جواب دیا کہ میں اسلامیات کا پروفیسر ہوں، یہ میری جاب ہے اور میں تم لوگوں کو پڑھانے کی تنخواہ لیتا ہوں۔ کلاس روم میں ‌اس وقت میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا لیکن اب میری ذاتی زندگی ہے اور اپنی ذاتی زندگی میں جو مرضی کروں اس کا اُس جاب سے کوئی تعلق نہیں۔

حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا کہ قیامت کے نزدیک علماء سُو کی کثرت ہوگی اور صحیح علم رکھنے والے لوگ بہت کم ہوں گے۔ اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو اکثریت بالکل ویسا ہی عملی مظاہرہ پیش کرتی نظر آتی ہے جیسا اوپر بیان کیے گئے واقعے میں نظر آیا۔ منبر رسول پر بیٹھ کر سامعین کو اللہ اور آخرت سے اس طرح ڈرانا جیسے سب کچھ سامنے دیکھ رہے ہوں لیکن تقریر یا درس ختم ہوتے ہی ایک دم جیسے ٹی وی کا چینل تبدیل کر دیا جائے، اس طرح محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ دیر پہلے خطاب کرنے والا کوئی اور ہی شخص تھا۔ اس سے مزید آگے بڑھ کر ذاتی زندگی میں ایسے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جو اس خطابت کی تعلیم سے بالکل برعکس ہوتے ہیں جو یہ حضرات منبر پر بیٹھ کر بیان فرماتے ہیں کہ شاید جاب اور ذاتی زندگی کا معاملہ یہاں بھی الگ الگ رکھا جاتا ہے۔

اسی ضمن میں ایک بہت اہم مسئلہ اپنے حلقے میں بیٹھ کر لطائف اور ظرافت کے نام پر فحش گوئی اور بے ہودہ کلامی کرکے اس پر قہقہے لگانا اور اس کو انجوائے کرنے کا ہے۔ فحاشی اور عریانی کے بارے ہمارے معاشرے میں مختلف آراء رہی ہیں۔ لبرل طبقہ جسے جدت اور فیشن قرار دیتا ہے دینی طبقہ اسے فحاشی کہتا ہے۔ اسّی کی دہائی کے آخر میں جب میڈیا اس قدر مادر پدر آزاد نہیں تھا اور علماء کا طبقہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بطور وزیراعظم دوسرے ممالک کے سربراہان سے ملاقات کرتے وقت ان سے ہاتھ ملانے کی بھی سخت مخالفت کرتا تھا۔ اسی دور حکومت میں پی ٹی وی پر موسیقی کا ایک پروگرام میوزک 89ء کے نام سے نشر ہوا تو ملک میں شور مچ گیا کہ ایسے بے ہودہ ناچ گانے کے پروگرام ہمارے معاشرے کو تباہ کر دیں‌گے، ان کو بند کیا جائے۔ پھر خاتون کی حکمرانی کے ناجائز ہونے پر بہت سخت آراء سامنے آئیں لیکن آہستہ آہستہ یہ حساسیت کم ہوتے ہوتے اب اس درجے تک آ پہنچی ہے کہ اب علماء اور دینی مدارس کے طلباء سوشل میڈیا پر کھلے عام جنسی لطائف بیان کرتے ان پر ہنستے اور آگے شیئر کرتے نظر آتے ہیں، الٹا یہ کہ اگر کوئی ان کو پوائنٹ آؤٹ کرے تو اس پر برسنے لگتے ہیں کہ اس میں کیا غلط ہے؟

مزاحیہ گفتگو کے نام پر واہیات قصے سنانا اور پھر اس کو معیوب بھی نہ سمجھنا بلکہ ان لغویات سے روکنے والوں پر طعن و تشنیع شروع کر دینا یہ کس دین کی تعلیم ہے؟ اگر دینی مدارس سے منسلک لوگوں کی فحاشی کے حوالے سے ایمانی حساسیت مردہ ہو چکی ہے تو پھر کون اس سیلاب کے آگے بند باندھ کر کھڑا ہوگا؟ اس بے ہودہ گوئی پر توجہ دلانے والوں کو تنگ نظر کم فہم اور فن لطیفہ سے نابلد قرار دے کر آپ دنیا میں تو اپنی برتری ثابت کر سکتے ہیں لیکن کل قیامت کو اللہ رب العالمین کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ جب اللہ یہ پوچھے گا کہ تم لوگ جو دین کے حاملین تھے کیا تمہاری نظریں قرآن کے احکام سے اندھی ہو گئی تھیں جن میں حکم دیا گیا تھا کہ بے حیائی کے کاموں کے نزدیک بھی نہ جانا چاہے کُھلے ہوں یا چُھپے اور اللہ بےحیائی سے منع فرماتا ہے۔ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں جنتی لوگ کوئی لغو اور بے ہودہ بات نہیں سنیں گے یعنی لغو بات سے دور رہنا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

جس انسان کی فطرت سلیم ہو اور ماحول کے زیر اثر مسخ نہ ہو چکی ہو، وہ لغو باتوں کے پاس سے بھی نہیں گزر سکتا۔ سورہ فرقان میں اللہ نے اپنے بندوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ "رحمان کے بندے وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کبھی لغو بات پر سے ان کا گزر ہو تو دامن بچا کر گزر جاتے ہیں"۔ ایسا نہیں کہ ہوتا کہ وہ کسی غلط اور لغو بات کی توجیہہ پیش کرنے لگیں بلکہ وہ تو ان باتوں ‌سے کنّی کترا کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو! سچے لوگوں کا ساتھ اپناؤ۔ جب گواہی دو تو حق اور سچ کی گواہی دیا کرو چاہے وہ تمہارے عزیز رشتہ دار، والدین، اولاد اور یہاں تک کہ تمہارے اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ پڑ رہی ہو۔

پچھلے چند روز سے ایک عالم دین کا کلپ سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہا ہے جس میں وہ درس قرآن کے دوران ظرافت کے نام پر کچھ بے مقصد گفتگو کرتے ہیں جبکہ ایسی ہی گفگو کوئی لبرل یا سیکولر کرتا پایا جائے تو ہمارے دینی بھائی اس پر فتوے لگا دیں۔ لیکن کیونکہ یہاں‌اپنے بھائی بندوں کا معاملہ ہے تو اس پر تنقید کرنے والوں کو طعنہ دیا جا رہا ہے کہ تم انہیں نہیں جانتے، وہ بہت بڑے شیخ الحدیث ہیں، بہت بڑے عالم دین ہیں، انہوں نے تو معاشرے کا گند بیان کیا ہے، بے راہ روی کو ڈسکس کیا ہے اس میں کیا غلط ہے؟ اگر آپ کو غلط لگ رہا ہے تو آپ کی عقل اور فہم کم ہے آپ کو مزاح کا نہیں پتہ۔ اگر یہ لغو ہے تو قرآن و حدیث میں جو میاں بیوی کے مسائل بیان ہوئے ہیں وہ کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ

قرآن مجید میں جو بھی مسائل بیان ہوئے ہیں وہ مسلمان میاں بیوی کے عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل ہیں اور کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی چٹخارے دار بات یا واقعہ نقل کیا گیا ہو۔ جہاں بھی بات ہوئی ہے 'ٹو دی پوائنٹ' ہوئی ہے اور ہماری ہدایت کے لیے ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں بیان کیے گئے مسائل اور آپ کے حضرت صاحب کے بیان کیے گئے چسکے دار لطائف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان بے ہودہ لطائف میں اگر کسی کو کوئی ہدایت کا پہلو نظر آیا ہو تو بتائے یا کسی نے یہ باتیں سن کر کوئی برا عمل ترک کر دیا ہو تب تو بات بھی بنے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی اس طرح کی بے مقصد گفتگو قرآن کے مدرس کو زیب ہی دیتی ہے تو پھر ان باتوں‌کا دفاع کن دلائل سے کیا جا رہا ہے۔کیا صرف اس لیے کہ وہ حضرت میرے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے مسلک کی بدنامی ہو گی؟ کیا اللہ اور اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی بے مقصد بات کہیں ارشاد فرمائی یا اس کو مباح قرار دیا؟

سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے دیندار طبقے سے وابستہ لوگ ہیں جو چند لائکس لینے کے لیے چٹخارے دار تحریر لکھتے ہیں اسی گروہ کے لوگ اس طرح کے واقعات کا دفاع کر رہے ہیں یہ نہایت غلط طرزعمل ہے۔ مسئلہ یہ ہے اگر آپ کا ایمانی لیول اب اس درجے تک نیچے آ چکا ہے کہ آپ کو فحش اور لغو بات اب ظرافت طبع محسوس ہوتی ہے تو پھر اپنا فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ میرا اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کس درجے کا ہے۔ یہ ایمان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ دین سے وابستہ لوگ لغویات کو اپنا لیں اور اس کو برا بھی نہ سمجھیں۔ اگر دل سے احساس ختم ہو چکا ہے تو اپنے "ایمانومیٹر" کو ایمرجنسی طور پر ری فریش کروانے کی ضرورت ہے۔اس کی فکر کیجیے اس سے پہلے کہ مہلت عمل ختم ہو جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */