رمضان کی رونقیں - خرم علی عمران

ارے وہ بھی کوئی رمضان ہوا کرتے تھے، پھیکے سیٹھے! تراویح بڑھی، کچھ وقت دوست احباب میں گزارا، گلی محلوں چوراہوں میں جگہ جگہ رت جگے کا سا سماں ہوتا تھا، زیادہ تر دینی باتیں۔ محفلیں، مباحثے وغیرہ ہوا کرتی تھیں، پر دوستانہ انداز میں، پھر گھر آئے کچھ دیر سو لیے۔ سحری سے کچھ دیر پہلے بیدار ہوئے، کچھ نوافل و تلاوت میں وقت صرف کیا، سحری کی، نماز پڑھی پھر یا تو دفتر کی تیاری یا اسکول کالج کی، یا کچھ دیر اور سو کر پھر اپنے متعلقہ مشاغل زندگی میں مصروف ہو گئے۔ دن بھر یوں ہی سکون آمیز تقدس نما محول میں کٹا، پھر افطار کی رونق اور پھر وہی معمول کم و بیش دوبارہ۔ آخری عشرے کے آنے تک ذوق عبادت بڑھ جانا، راتوں کو اللہ پاک سے مانگنے اور عبادتوں میں صرف کرنے کے شوق میں اضافہ ہوجانا۔ خوش نصیب احباب کا اعتکاف میں داخل ہوکر دس دن تک یکسوئی سے اللہ سے تعلق بنانا اور بڑھانا اور یوں پھر عید کا آ جانا۔ ارے یار! صدیوں سے کم و بیش یہی ترتیب چل رہی تھی، بوریت سی ہونے لگی تھی کہ فلک کج رفتار کو ہم مسلمانوں پر رحم آیا خصوصاً پاکستانی مسلمانوں پر اور پھر کیا ہوا؟

پھر چینلز آئے، انٹرنیٹ کی نعمت عظمیٰ عطا ہوئی اور پھر سیل فونز نے تو گویا تاریخ ہی بدل ڈالی بھائی! اب رمضان کی پرنور راتیں نور علی نور بن گئی ہیں۔ اب رات پھر ہمارے پیارے راج دلارے چینلز ہمیں بڑی محنت سے اچھی اچھی دینی باتیں بتانے کے لیے اچھی اور پیاری پیاری فنکاراؤں اور مردانہ وجاہت کے شاہکار فنکاروں کو ایک مہینے کے لیے ہائر کرتے ہیں۔ یہ خواتیں و حضرات بھی اس ایک مہینے کے رمضان سٹکام کی روزانہ قسط پیش کرنے کے لیے بھاری معاوضوں پر دینی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر اور ثواب کمانے کی نیت سے بڑے ذوق و شوق سے اپنے کریکٹر میں، اپنے رول میں یوں ڈوب جاتے ہیں کہ حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ تبرک کے لیے رنگ برنگے مولوی نما حضرات کا تڑکا بھی لگایا جاتا ہے(الا ماشاء اللہ) اور یوں ایک ایسا حسین کمبینیشن جنم لیتا ہے کہ چار چاند لگ جاتے ہیں، رمضان کی رونقوں کو!

وہ تو ہماری عدالتوں اور پیمرا کو نجانے کیا تکلیف ہوگئی کہ اس مرتبہ کہ گیم شوز پر پابندی لگادی۔ بھلا بتاؤ، یہ بھی کوئی بات ہے کہ کہتے ہیں کہ ایسے شوز رمضان کریم میں قوم کو لہو و لعب اور جوئے پر لگا رہے ہیں؟ ارے یہ تو دیکھو، کیسے کیسے ریکارڈ بن رہے تھے، ایشیا میں سب سے طویل لگاتار رمضان ٹرانسمیشن کا اعزاز بھی ہمارے ایک اسکالر نما اینکر نما سیاسی ورکر نما انٹرٹینر نے بڑی محنت سے اور مشکل سے ایسے ہی ایک گیم شو پلس کے ذریعے سے حاصل کیا تھا۔ قدر کرو بھائی قدر، ناقدری سے نعمت چھن جاتی اور زحمت بڑھ جاتی ہے۔ ارے ہمارے پیارے راج دلارے چینلز سے وابستہ لوگوں کے ہزاروں رشتے دار، دوست احباب، لکھ پتی بن گئے ان شوز اور رمضان کی برکات سے۔

پھر جب دینی محفل میں حسین و جمیل اور پروقار خواتین شرکا اور اینکرز بھی جلوہ نما ہوں تو گویا ذہن و دل سے علم و دانش کے سرچشمے یوں ابلتے ہیں جیسے بے دھیانی میں چولہے پر رکھا دودھ ابل جاتا ہے۔ تفاہیم، معانی، نکات اور ایسی ایسی دینی روایات سامنے آتی ہیں اسکرین پر کہ اچھے اچھے راسخین فی العلوم کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ حضرت! فلاں مولوی صاحب نے رمضان ٹرانسمیشن کی پر نور و سرور مخلوط محفل میں یہ نکات پیش کیے کیونکہ راسخین فی العلم قسم کے حضرات نہ جانے کیوں ان چیزوں سے ذرا دور ہی رہتے ہیں، میرا مطلب ہے، ٹی وی اور نیٹ وغیرہ سے۔ بس کتابیں وغیرہ ہی پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں، چلیں جی ان کی مرضی، ہمیں کیا؟

ہاں، تو میں عرض کر رہا تھا کہ محرم نامحرم، مرد و عورت، من و تو کے دقیانوسی فرق مٹانے میں ہمارے پیارے چینلز کی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں۔ خصوصاً رمضان شریف میں۔ اچھا ایک اور بات، ہمارے چینلز نام بھی بہت اچھے اچھے رکھتے ہیں ان ٹرانسمیشنز کے، نور رمضان، کجھور رمضان، سرورِ رمضان، فتورِ رمضان وغیرہ یہ کچھ نام باقی رہ گئے ہیں، قوی امید ہے کہ یہ بھی جلد زیرِ استعمال آجائیں گے۔ رمضان ٹرانسمیشن زندہ باد!