لسانی پریشانیاں - محمد اسماعیل ولی

زبان آوازوں کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ مجموعے کبھی طویل ہوتے ہیں کبھی مختصر اور کبھی ایک مجموعے میں کئی قسم کی ضمنی آوازیں ہوتی ہیں جن کو اہل زبان ہی صحیح انداز میں ادا کرتے ہیں۔ ہر زبان کی آوازیں مختلف ہوتی ہیں عربی میں /س/ث/ص مختلف آوازیں ہیں لیکن ہم غیر عرب ان میں فرق نہیں کرسکتے- اسی طرح ض/د/ یا /ط/ت یا ز/ذ/ظ اور یہی آوازیں کسی زبان کو منفرد بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں- اسی طرح جب یہ آوازیں علامات کی صورت میں تحریر میں آتی ہیں تو علمی مانوسیت کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی ہیں- مثال کے طور پر عربی میں ایک نام شرحبیل ہے یعنی ش، ر، ح،ب،ی اور ل لیکن لوگ اس کو شیرجیل پڑھتےاور لکھتے ہیں- عرب جب حلقیہ آوازوں کو بولتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ گلے کو صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہو- اس طرح جب انگریز بولتا ہے تو ان آوازوں کی وجہ سے اس کے منہ پر عجیب و غریب اشکال بنتی ہیں-

انگریزی اور عربی زبان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انگریزی میں کل صوتیے کم و بیش45ہیں لیکن سکولوں میں 26 کو پڑھایا جاتا ہے یعنی آوازیں زیادہ حروف کم ہیں- عربی میں جتنے حروف ہیں، اتنی آوازیں ہیں- پھر عربی میں محرک اور سکوت والی آوازوں کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں کیونکہ ان کی علامات واضح ہیں لیکن انگریزی میں سکوت کے لیے کوئی علامت نہیں ہے اور اس کا انحصار سماعت پر ہے- مثال کے طور پر اگر کو زیر زبر ڈال کر عربی میں لکھا جائے- تو "نولج" آسانی سے پڑھا جائے گا لیکن سماعی مہارت کے بغیر Knowledge کو انگریزی میں پڑھنا مضحکہ خیز بن جاتا ہے-

انگریزی میں "آئی" صوتیہ بھی ہے اور کلمہ بھی اور تلفظ بھی ایک لیکن "آنکھ" کے لیے مختلف املاء استعمال ہوتا ہے- انگریزی میں مختصر ترین کلمہ آئی (میں) ہے- اسی یک صوتی کلمہ کے گرد ہماری ذات گھومتی ہے, نفسیاتی ماہرین گھومتے ہیں اور اقبال کی خودی کا فلسفہ گھومتا ہے تو دوسری طرف لفظ ہے ڈیپارٹمنٹلائزیشن - اس میں اٹھارہ صوتیے ہیں لیکن استعمال بہت کم ہوتا ہے۔ انگریزی میں ہجے یاد کرنا، نہ صرف غیر اہل زبان کے لیے مسئلہ ہے بلکہ اہل زبان کے لیے بھی مسئلہ ہے اور انگریزی میں بعض ہجے اتنے عجیب ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے- اردو میں سگریٹ کی عادت چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا انگریزی میں اس کو لکھنا۔ انگریزی میں جی ایچ کبھی ایف کی آواز دیتے، کبھی واؤ کی آوازپیدا کرتے ہیں جیسے laugh, enough اور یہی لفظ سلیو اور سلاو بھی بولا جاتا ہے slough۔ جی ایچ right (دائیں/حق) میں بالکل خاموش ہو جاتا ہے، جیسے صدر ممنون حسین صاحب

یہ بھی پڑھیں:   تحریک نفاذ اردو - پروفیسر جمیل چودھری

بعض دفعہ ہجے اور تلفظ میں اتنا فرق ہوتا ہے جتنا الطاف حسین کے رونے اور نیت میں- مثلاً رینڈے وو Rendezvous، ڈیب یوDebut، انڈایٹ Indict، نو لجKnowledge، انایلیٹAnnihilate، سامنSalmon،، سائیکالوجیPsychology۔ یا ان الفاظ پر غور کریں Whole/hole، Right/Write/Wright، Weight/wait، Machine/mechanic/church، One/won۔

آوازوں کی طرف واپس جاتے ہیں۔ عربی، فارسی اور اردو میں واؤ ایک صوتیے کا نام ہے- لیکن کھوارمیں(جو میری مادری زبان ہے) اسی کو تھوڑا مختصر کرکے بولا جائے تو دادی یا بوڑھی بن جاتی ہے- اگر اسی کو لمبا اور زور سے پڑھا جائے- تو انگریزی میں خوشی اور حیرانگی کا اظہار ہوتا ہے- اگر اردو میں و کے سامنے ہ لگایا جائے- تو ضمیر بن جاتا ہے اور یہ ہمار ے سیاست دانوں کے ضمیر کی طرح تقریباً قیود سے ازاد ہوتا ہے- اگردرمیاں میں الف لگایا جائے تو اردو میں تعریف کے لیے استعمال ہوتا ہے جو شاعر لوگوں کی پسندیدہ آواز ہے-

زبان، ثقافت کی پہچان ہوتی ہے- جب ایک انسان کوئی زبان بولتا ہے تو اس زبان کے پیچھے تاریخ ہوتی ہے اور یہ تاریخ ان طاقتوں کی آئينہ دار ہوتی ہے جو اس زبان پر اثر انداز ہوئیں اور ان طاقتوں سے پوری ثقافت متاثر ہوتی ہے۔ انگریزی زبان پر لاطینی، فرانسیسی اور یونانی زبان کے اثرات ہیں اور اس اثر کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ الفاظ جو لاطینی یا فرنسیسی یا یونانی ماخذ سے انگریزیائے گئے ہیں ان کو اب بھی رسمی مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے یعنی ان کی اہمیت ہے- غیر رسمی اظہار کے لیے وہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو "جرمنی الا صل" انگریزی ہیں۔ یہ ا لفاظ عموماً مختصر ہوتےہیں- مثلاً Buy, help, see, take, yawn لیکن لاطینی ماخذ سے آئے ہوئے الفاظ ان کے مقابلے میں طویل اور پیچیدہ ہوتے ہیں- جس طرح Nominate, aqueous, herbivorous, flamboyant, propinquity, remuneration , circumnavigate, adjudicate, catagelophobia, bibliokleptomania, ectomorphic, filipendulous, honorificabilitudinitatibus۔ اگر یونانی یا لاطینی زبان نہ ہوتی تو معلوم نہیں علم طب والے کیا کرتے اور اپنی علمیت کا اظہار کس طریقے سے کرتے؟ مثال کے طور پر hircus، dysphagia، intra-osseous، sphygmos، xerophthalmia، cephalocaudal، hyperemesis، obdormition، sphenopalatine، ganglioneuralgia۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک نفاذ اردو - پروفیسر جمیل چودھری

اس کا مطلب یہ ہے - انگریزی میں "علمیت" بھی لاطینی کی وجہ سے ہے کیونکہ جن علماء نے ان کو عیسائیت سکھائی ان کی زبان لاطینی تھی اور لاطینی کی طرح یونانی زبان بھی علمی زبان تھی۔ اگر یونانی اور لاطینی زبان کے ذخیرے کو انگریزی زبان سے نکالا جائے تو اس کا علمی ذخیرہ ساٹھ، ستر فیصد کم ہو جائے گا۔

انگریزی سے جب عربی کی طرف آتے ہیں تو انگریز کے لیےقہوہ، قرآن، محمد، عبد المطلب کے الفاظ کو ادا کرنا اتنا مشکل ہوگا جتنا کسی مولانا کے لیے Psyche کا لفظ بولنا۔

اردو میں بول، بال، بیل آوازیں ہی ہیں اور ان کی مختصر صورتیں بھی ہیں یعنی بل زبر کے ساتھ، بل زیر کے ساتھ۔ اس طرح کی آوازیں انگریزی میں بھی ہیں لیکن ان کی معنی مختلف ہے۔

اردو میں افعال کی اکثریت ہندی الاصل ہے اور اسماء ترکی، فارسی اور عربی سے ماخوذ ہیں- اردو میں جو "علمیت" ہے وہ عربی اور فارسی کی وجہ سے ہے۔ اردو ادب کا انحصار عربی اور فارسی اصطلاحات پر ہے۔ غزل، قصیدہ، نظم، بیت، شعر، مرثیہ، بزمیہ، طربیہ، وغیرہ عربی اور فارسی سے ادھار لیے گئے ہیں اور کچھ الفاظ انگریزی سے لیے گئے ہیں جیسے ناول، ڈرامہ۔ ہمارے "علماء" انگریز زدگی کو برا سمجھتے ہیں لیکن انگریزی پرستی کا اظہار (لاشعوری طور) پر کرتے رہتے ہیں- مثال کے طور پر اسلام زندہ باد کانفرنس کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جس میں زندہ باد فارسی ہے اور کانفرنس انگریزی- ان کے ہاتھوں عربی زبان جو اپنی فصاحت و بلاغت کی اپنی مثال آپ تھی اتنی تنگ ہو گئی کہ ان کو زندہ باد اور کانفرنس کےلیے عربی میں الفاظ نہیں ملتے یا ان کی مذہبیت پر سیاست غالب آجاتی ہے اور لفظ کانفرنس کے ذریعے سیاست کھیل رہے ہیں۔ جس طرح بعض لوگ اپنے اپ کو "روشن خیال" ثابت کرنے کے لیے مغرب کے ظلمات سے "موتی" چن چن کر لاتے ہیں۔

Comments

Avatar

اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.