آخری پھول - ریحان خان

روزانہ کے ایک موڑ پر ترتیب سے پھول فروشوں کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ ان میں کچھ بڑی ہیں، کچھ لوگ زمین کاغذ بچھا کر پھول فروخت کرتے ہیں اور اس کے عین مقابل برانڈڈ جوتوں کا ایک شو روم ہے، پھول گرد آلود زمین پر فروخت ہوتے ہیں اور جوتے چمکدار شوکیس میں سجے ہوتے ہیں۔ وہی پھول جو ابراہیم پر نمرودی آگ میں کھلے تھے اور وہی جوتے جن کے بارے میں خدا نے موسی سے کہا کہ اپنے جوتے اتار دو کہ تم ایک مقدس وادی میں ہو۔

ان پھول فروشوں میں ایک آٹھ نو سال کی ویران آنکھوں والی میلی کچیلی بچی بھی ہوتی ہے جو دن کے اوقات میں اپنے ہاتھوں میں شفاف موگرے کی لڑیاں تھامے کھڑی ہوتی ہے۔ اس کے پھول تازہ اور خوشبو دار ہوتے ہیں، وہی خوشبو مجھے مختصر راستہ چھوڑ کر طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ شاعر لکھنوی یاد آتے ہیں جن کی ایک غزل کو استاد مہدی حسن نے امر کر دیا ہے۔
جو کھلے ہوئے ہیں روش روش، وہ ہزار حسن چمن سہی
مگر ان گلوں کا جواب کیا، جو قدم قدم پہ کچل گئے

پہلے مصرعے کی رو سے ان صاف ستھری پھول کی دکانوں کو دیکھتا ہوں جہاں پھول دیدہ زیب مگر خوشبو سے محروم ہوتے ہیں، دوسرا مصرع اس بچی کی جانب دیکھنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے جو اسے موگرے کی لڑیاں فروخت کرنے کے لیے موسم کے سرد و گرم سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ یہی سوچتا میں گزر جاتا ہوں۔

واپسی میں پھولوں کی بڑی دکانیں اور سامنے جوتوں کا شوروم بند ملتا ہے لیکن وہ لڑکی موجود ہوتی ہے، البتہ اس وقت اس کے پاس موگرے کی لڑیوں کے بجائے ایک سرخ یا سفید گلاب ہوتا ہے۔ میں نے کبھی پھول نہیں خریدے، کبھی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوئی، البتہ ایک روز واپسی کے وقت میں نے اس سے گلاب خریدنا چاہا مگر اس نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرے اور تیسرے روز بھی یہی ہوا کہ اس نے مسکرا کر آخری پھول فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ چوتھے روز اس کے ہاتھ میں دو گلاب تھے لیکن میں پھول خریدنے کے بجائے اس سے چھپ کر اسے دیکھنے لگا، نصف گھنٹے بعد ایک جانب سے چمچماتی ہوئی کار آئی، اس کا شیشہ کھلا اور اس میں سے ایک مردانہ ہاتھ شاید پانچ سو روپے کا نوٹ تھامے باہر نکلا، بچی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے ایک پھول اسے دے دیا، ایک گلاب اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا، مجھے معاملہ کچھ سمجھ میں آیا اور لپک کر اس بچی کی جانب لپکا، وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی گویا میری منتظر رہی ہو، اس نے آخری پھول مجھے دے دیا۔ اس کی قیمت میں نے اتنی ہی دی جتنی میری جیب روزانہ ایک پھول خریدنے کی اجازت دیتی تھی، اس نے کچھ نہیں کہا اور ایک جانب چلی گئی، شاید ادھر اس کا گھر تھا۔

دوسرے روز پھر اس کے ہاتھ میں دو گلاب نظر آئے، ایک پھول خرید کر میں پھر ایک تاریک گوشے میں کھڑا ہوگیا۔ کار آئی اور بچی کی آنکھیں چمک اٹھیں، پتہ نہیں اس کار میں کون رئیس ہوتا ہے، شاید وہ بھی اس بچی کی آنکھوں میں آخری پھول بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی چمک دیکھنے آتا ہے۔ پھر میں روزانہ اپنا پھول خرید کر اس قریب ہی چھپ جاتا ہوں کہ اس بچی کی آنکھوں میں آخری پھول فروخت ہونے کی چمک دیکھ سکوں۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک منچلا موٹر سائیکل سے آیا اور بچی کا آخری پھول اچک کر فرار ہوگیا، اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، میں قریب ہی تھا، میں نے اپنا پھول اس بچی کو دیا تو آنسو پوچھتے ہوئے وہ مسکرانے لگی،، پھول لیتے وقت اس کی آنکھوں میں آخری پھول فروخت کرنے کی چمک تھی، اور شاید میری آنکھوں میں بھی۔ اس نے بتایا کہ موگرے کی لڑیاں فروخت کرنے کے بعد وہ ایک دکان سے گلاب خریدتی ہے کہ چمچماتی کار والے کو فروخت کرسکے، اس آخری پھول میں خوشبو تھی۔ وہی گلاب جب دکان پر موجود تھا تو غالباً خوشبو سے محروم تھا، شاید بچی کے میلے کچیلے ہاتھوں کے لمس سے اس میں خوشبو آگئی تھی۔