پاکستان میں بجلی کی طلب و رسد: اعداد و شمار کی روشنی میں - محمد زاہد صدیق مغل

سن 2001ء تا 2017ء تک بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب (Peak Load)، بجلی بنانے کی زیادہ سے زیادہ قابل بھروسہ صلاحیت (Capability)، شارٹ فال (پیک لوڈ و صلاحیت کا فرق) اور لوڈ مینیجمنٹ (طلب و اصل پیداوار کا فرق) کے اعداد و شمار کی روشنی میں درج ذیل گراف بنایا گیا ہے۔

شارٹ فال اور لوڈ مینیجمنٹ کا فرق پیداواری صلاحیت و حقیقی پیداوارمیں فرق ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے مگر یہ عام طور پر زیادہ نہیں ہوتا جیسا کہ گراف سے واضح ہے۔ اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں:
1) مشرف دور کی ابتداء میں بجلی بنانے کی صلاحیت بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب کے مقابلے میں زیادہ تھی، اور لوڈ مینیجمنٹ (آسان لفظوں میں لوڈ شیڈنگ) تقریباً نہ ہونے کا برابر تھا

Source: Power Data Reference Book, NTDC

2) مشرف دور کے آخر تک:
- بجلی کے Peak Load میں 6729 (تقریباً 66 فیصد) میگاواٹس کا اضافہ ہوا۔

- پیداواری صلاحیت میں صرف 1782 (تقریباً 17 فیصد) میگاواٹس کا اضافہ ہوا۔ دھیان رہے، اس دور میں غازی بروتھا پراجیکٹ کی تکمیل کی وجہ سے سسٹم میں 1200 میگاواٹ صلاحیت کا اضافہ ہوا تھا اور یہ پراجیکٹ 90 کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔

- یہ وہ دور ہے جب بجلی کا شارٹ فال بڑھنا شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے اس کے دور کے آخر تک لوڈ مینیجمنٹ تقریباً 5000 میگاواٹ تک پہنچ گیا، جو مجموعی طلب کا تقریباً 30 فیصد تک تھا

3) پھر آیا پی پی پی کا دور جس میں:
- 5 سالوں کے دوران بجلی کے پیک لوڈ میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ یونٹس کا اضافہ ہوا (یعنی ہر سال اوسطا 200 یونٹس)

- جبکہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 60 میگاواٹ یونٹس کمی آئی، اور 2013 تک لوڈ مینیجمنٹ بڑھ کر 5615 میگاواٹ یونٹس تک پہنچ گیا جو 30 فیصد سے بڑھ کر مجموعی طلب کا تقریباً 36 فیصد تک ہوچکا تھا

4) پھر شروع ہوتا ہے ن لیگ کی حکومت کا دور جس کے اب تک آخری سال کے اعداد و شمار ادارے نے شائع نہیں کئے (وہ سال مکمل ہونے پر جون 2018 کے بعد شائع ہونگے)۔ چار سال کے عرصے میں اب تک:

- سسٹم کے اندر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 3897 میگاواٹ یونٹس کا اضافہ ہوچکا ہے (تقریباً 27 فیصد)

- جبکہ ان چار سالوں کے دوران طلب (پیک لوڈ) میں 5151 میگاواٹ یونٹس کا اضافہ ہوا ہے، یعنی ہر سال اوسطا 1300 میگاواٹس کا اضافہ (بجلی کی طلب کا بڑھنا اکنامک ایکٹویٹی زیادہ ہونے کا ایک انڈیکیٹر مانا جاتا ہے)!

- پیدواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ چونکہ بجلی کی طلب میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے لہذا 2017 میں لوڈ مینیجمنٹ بڑھ کر 7748 میگاواٹ یونٹس تک پہنچ گیا جو مجموعی طلب کا تقریباً 31 فیصد ہے۔

5) یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مشرف و پی پی پی دور میں بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر بالکل توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے لوڈ مینیجمنٹ بڑھ کر 36 فیصد تک پہنچ گیا۔ موجودہ دور میں بجلی کے تحاشا اضافے کے باوجود بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے سبب 2017 تک لوڈ مینیجمنٹ کی شرح کم ہو کر 30 فیصد پر آگئی ہے۔ موجودہ حکومت کو پچھلے 15 سالوں کی کسر نکالنے کے ساتھ ساتھ طلب میں ہونے والے اضافے کا چیلنج بھی درپیش تھا۔

- سن 2018 کے اعداد شمار کے شائع ہونے پر معلوم ہوگا کہ آخری سال میں بجلی کی طلب و رسد کی موجودہ صورت حال کیا رہی کیونکہ حکومت کے شروع کردہ زیادہ تر پراجیکٹس اسی دور میں مکمل ہوکر سسٹم میں شامل ہوئے ہیں۔ البتہ بجلی کی موجودہ صورت حال سے محسوس ہوتا ہے کہ طلب و رسد کا یہ توازن خاصی حد تک بہتر ہوچکا ہے۔

بجلی کیوں جاتی ہے؟

برادر مشتاق صاحب نے شکوہ کیا ہے کہ میری پوسٹ کے بعد کل سے اسلام آباد میں بجلی جانا شروع ہوگئی ہے تو ان کی اس پوسٹ پر جو گزارشات پیش کیں، وہ کچھ تفصیل کے ساتھ پیش خدمت ہیں:

بجلی کی بندش کی وجوہات متعدد ہوتی ہیں جن میں سے بعض عارضی اور بعض دیرپا نوعیت کی ہوتی ہیں، زیادہ تفصیل میں جائے بغیر کچھ عرض کئے دیتا ہوں:

1) پروڈکشن کیپیسٹی ہی نہ ہونا: حکومت نے اسے بڑھانے پر پچھلے پانچ سالوں میں بالخصوص کام کیا ہے اور وہ اسی کا کریڈٹ لیتی ہے

2) سپلائی لائنز میں لوڈ لے سکنے کی کم صلاحیت: لائنوں کی اپ گریڈیشن کا کام 2007 سے جاری ہے اور موجودہ حکومت نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور زیادہ تر مقامات پر یہ کام مکمل ہوچکا ہے، البتہ کچھ جگہوں پر ابھی یہ کام مکمل نہیں ہوسکا

3) بجلی کی چوری: یہ تو مشہور وجہ ہے، اس کے نتیجے میں سرکلر ڈیٹ جمع ہوتا چلا جاتا ہے۔ محکمے کے مطابق اس وقت لگ بھگ 8 ہزار فیڈرز میں سے 5 ھزار فیڈرز پر بجلی کی چوری کے تناسب سے 2 سے 10 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی جارہی ہے (دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ والے علاقوں میں لاسز 80 فیصد سے بھی زیادہ ہیں!)۔ موجودہ حکومت اس فرنٹ پر خاطر خواہ کام نہیں کرسکی۔ اس کی وجوھات تیکنیکی سے زیادہ ادارہ جاتی مسائل و سٹرکچر اور سیاسی کشاکش (باالفاظ دیگر "گورننس" سے متعلق) ہیں۔ ادارہ جاتی مسائل کی مثال انفرادی سطح کی کرپشن ہے (مثلا پیسے لے کر کنڈے والا کنکشن لگوا دیا)، ادارہ جاتی سٹرکچر کی مثال ایک سرکاری ادارے کا دوسرے سرکاری ادارے کی ادائیگیاں نہ کرنا ہے اور سیاسی کشاکش کی صورتیں متعدد ہیں کہ مثلا بجلی کا ریونیو اکٹھا کرنے کی ذمہ داری وفاقی ادارے کی ہے مگر پولیس صوبائی ہے، تو جب بجلی چوری کے خلاف ایکشن لینے کی باری آتی ہے (خصوصا کسی تگڑے کاروباری یا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے بندے کے علاقے کے خلاف) تو سیاسی و غیر سیاسی دونوں طرح کی صوبائی پولیس کے ھاتھ کھڑے کروا دئیے جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے بجلی والے ادارے کے پاس اپنی پولیس تو ہوتی نہیں۔ اب اگر وفاق اس معاملے میں بجلی بند کرکے سختی کرے تو اسے "وفاق بمقابلہ چھوٹے صوبے" کا مسئلہ بنا کر اچھالا جاتا ہے، پھر محکمے پر پریشر ڈالنے کے لئے اہل علاقہ سے مظاہرے بھی کروائے جاتے ہیں، یا کم از کم انہیں خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے۔ پھر اگر پنجاب کے اکثر علاقوں میں چوری کم ہونے کے سبب بجلی کی سپلائی نسبتا زیادہ ہو تو اسے بھی چھوٹے صوبے کے ساتھ تعصب کا عنوان بنایا جاتا ہے۔ این ٹی ڈی سی کے اعداد و شمار (POWER SYSTEM STATISTICS 2016-2017, NTDC) کے مطابق ملک کے مختلف صوبوں بجلی کے میں چوری ہونے والے یونٹس کی شرح کچھ یوں ہے:

پنجاب

2013-14 = 13.02

2014-15 = 13.03

2015-16 = 12.65

2016-17 = 12.68

سندھ (پنجاب کے یونٹس سولڈ کا 19 فیصد٭)

2013-14 = 20.41

2014-15 = 20.67

2015-16 = 20.46

2016-17 = 22.4

بلوچستان (پنجاب کے یونٹس سولڈ کا 7 فیصد٭)

2013-14 = 24

2014-15 = 24

2015-16 = 24

2016-17 = 23.08

کے پی کے (پنجاب کے یونٹس سولڈ کا 16 فیصد٭)

2013-14 = 32.41

2014-15 = 33.37

2015-16 = 32.32

2016-17 = 30.82

(٭ پنجاب کی بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں جتنے یونٹس بیچتی ہیں اگر انہیں 100 فرض کیا جائے تو سندھ کی کمپنیاں (علاوہ کے الیکٹرک) اس تناسب سے 19 یونٹس بیچتی ہیں، کے پی کے کی 16 جبکہ بلوچستان کی 7)

الغرض یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا تعلق انفرادی و سیاسی رویوں سے ہے۔

4) فنی خرابیاں: کل چشمہ نیوکلئیر پلانٹس (آٹامک انرجی کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ) کے تمام یونٹس سے مین لائن کو بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی تھی اور اب آھستہ آھستہ ایک ایک کرکے انہیں دوبارہ مین لائن سے منسلک کیا جارہا ہے (دھیان رہے، میں فی الوقت کسی سازشی نظرئیے کی طرف اشارہ نہیں کررہا)۔ اسی طرح بعض اوقات آندھی وغیرہ کے سبب لائن ٹرپ کرجاتی ہے یا کھمبے گر جاتے ہیں جن سے جزو وقتی اتار چڑھاؤ آجاتے ہیں۔

5) ڈیمانڈ پراجیکشن میں غلطی کا امکان: بجلی سپلائی کرنے والے ادارے متعدد ہیں (جنہیں اب DESCOs کہا جاتا ہے)۔ ہر علاقے کا ادارہ اپنی ڈیمانڈ پراجیکشن کی بنیاد پر بجلی کی ڈیمانڈ کرتا ہے جس کی بنا پر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے معاھدے کئے جاتے ہیں۔ اب اگر ڈیمانڈ پراجیکشن غلط ہو (مثلا آن گراؤنڈ ڈیمانڈ 20000 میگاواٹ ہو لیکن کمپنیوں کا تخمینہ 18000 ہو) تو فوری طور پر 2000 کا شارٹ فال پیدا ہوجائے گا۔ اس کے بعد یہ کمپنیاں نئے تخمینے کی بنا پر نئی ڈیمانڈ کرتی ہیں اور پھر کمپنیوں سے پیداوار کا نیا معاھدہ کرنا ہوتا ہے۔ اس پراسس میں کچھ ٹائم لیگ ہوتا ہے جو بجلی کی سپلائی میں تھوڑے اتار چڑھاؤ کا باعث بنتا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.