جنت کے محل کی ایک اینٹ - گلزار فاطمہ

فضل کی باتوں نے اسے چند لمحوں کے لیے سن سا کر دیا تھا اور گھر کی طرف اس کے بڑھتے قدم سست ہو گئے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی نہ چاہنے کے باوجود رافعہ اور بچوں کی عید کی تیاری رمضان سے پہلے مکمل نہ ہو سکی تھی اور بالآخر اسے فضل کے جوتوں کے لیے رمضان میں بازار کا چکر لگا نا ہی پڑا۔ وہ افطاری کے کام نمٹا کر فضل کے ساتھ اپنے علاقے کی مشہور اور پررونق مارکٹ کی جانب روانہ ہوئی۔ ابھی افطاری میں تقریباً ایک گھنٹہ باقی تھا، دکانوں پر رش ایسا تھا کہ جیسے اشیاء مفت بانٹی جارہی ہوں اورجن دکانوں پر غلطی سے رمضان کے مہینے میں ڈسکاؤنٹ سیل لگی ہوئی تھی وہاں تو حشر برپا تھا۔ رافعہ جلدی سے خضر کا ہاتھ تھامے ایک دکان کی جانب بڑھی۔

فضل کی عادت تھی کہ وہ ہر چیز کا بغو ر مشاہدہ کرتا تھا۔راستے میں بھی وہ ماں سے گزشتہ رات نشر ہونے والے مولانا صاحب کے بیان کے بارے میں بات چیت کرتا رہا جس میں انہوں نے روزے کے فضائل اور اس مہینے کی برکات اور اجر کا ذکر کیا تھا اور بالخصوص ناپ تول میں کوتاہی کو اپنا موضوع بنایا تھا۔ ابھی خضر کے سوال جواب چل ہی رہے تھے کر اس کو اپنی مطلوبہ دکان نظر آگئی اور وہ جلدی سے جگہ بناتی ہوئی دکان کے اندر داخل ہو گئی۔ یہ اور بات ہے کہ کتنے لوگوں کی کہنیاں اس کا مقدر بنیں۔ بالآخر رافعہ نے خضر کا جوتا خرید ہی لیا و ہ جب تک جوتے پیک کروا رہی تھی۔ فضل کاؤنٹر پر جا کر کھڑا ہوگیا اور کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کے حرکات و سکنات پر غور کرتا رہا۔ رافعہ جلدی سے کاؤنٹر تک پہنچی کیوں کہ افطاری میں صرف آدھا گھنٹہ بچا تھا کاؤنٹر پر بیٹھا شخص سر پر ٹوپی جمائے ہاتھ میں تسبیح لیے ایک مشہور کلام پر سر دھن رہا تھا:

دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے

طے کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے

اس کلام نے تو رافعہ کے دل کو بھی گداز کر دیا تھااسی نے دل کی کیفیت کو سنبھالتے ہوئے دکاندار کو آواز لگائی بھائی! جلدی سے میرے جوتوں کے پیسے کاٹ لیجیے، جس پر دکاندار نے جواب دیا بہن مجھے پتا ہے روزہ کھلنے والا ہے، ہمیں بھی اتنی جلدی ہے بسم اللہ کہتے ہوئے 500 کا نوٹ تھاما اور جوتے کا ڈبہ رافعہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ رافعہ نے جلدی سے فضل کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور خود بھی باہر کی جانب قدم بڑھا دیے ابھی وہ دو قدم ہی دور گئے ہوں گے کہ خضر نے اس کا کندھا ہلا کر سوال کیا امی اس جوتے کی قیمت کیا تھی؟

اس نے عجلت میں جواب دیا 495 روپے!

امی! آ پ نے پانچ روپے پھر واپس کیوں نہیں لیے؟

ارے بیٹا لینا بھول گئی پانچ روپے ہی تو تھے۔

دکان والے انکل نے کیوں نہیں واپس کیے؟ فضل نے سوال کیا۔

اب رافعہ کو غصہ آگیا تھا مگر اسے یاد آیا کہ اس کا تو روزہ ہے چنانچہ اس نے تحمل کے ساتھ جواب دیا، بیٹا! وہ دینا بھول گئے ہوں گے اور تمہیں پانچ روپے کی فکر کیوں ستا رہی ہے؟

امی آپ کو پتہ ہے وہ دکان والے انکل کسی کو بھی پانچ روپے واپس نہیں کر رہے تھے اور نہ ہی وہاں کوئی چندے کا ڈبہ تھا جس میں وہ پیسے ڈال رہے ہوں۔ وہ ایک لمحے کو رکی اور پھر اس نے فضل سے پوچھا تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ کیا میں5 روپے کے لیے لڑوں ؟

نہیں، امی میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کیا یہ عمل ناپ تول کی کمی میں نہیں شمار ہوگا؟ کل ہی مولوی صاحب نے بتایا ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے اورآپ اپنے جائز پیسے چھوڑ کر کر اس گناہ میں برابر کی شریک ہو رہی ہیں۔ وہ بھی روزے کی حالت میں۔ 12سال کے بیٹے کی باتوں نے اسے لمحے بھر کو سن کر دیا تھا۔ ایک لمحہ لگا اسے فیصلہ کرنے میں اور وہ فضل کے ساتھ دوبارہ دکان پر جا کھڑی ہوئی۔ فضل ایک قدم آگے بڑھا دکاندار سے مخاطب ہوا

انکل! آپ نے ہمارے بقیہ پانچ روپے واپس نہیں کیے تھے دکاندار نے حیرت اور غصے سے فضل کو دیکھا کیونکہ اسے دکان بند کر نے کی پڑی تھی، وہ نہایت طنزیہ انداز میں فضل سے مخاطب ہوا بیٹا! اس پانچ روپے سے محل بناؤ گے کیا؟

انکل معذرت کے ساتھ اس 5روپے سے محل تو نہیں بنے گا لیکن ہاں میں آپ کا اور شاید اپنی امی کا بھی دوزخ میں ایک کمرا بننے سے ضرور بچا لوں گا، ان شاء اللہ!

اس کی یہ بات سنتے ہی دکاندار نے فوراً پانچ روپے لوٹا دیے۔ فضل نے مسکرا کر دکاندار کی طرف دیکھا اور کہا انکل! ایسا بھی ہو سکتا کہ رمضان کی برکت سے اس غلطی کو سدھارنے کے باعث جنت میں ہمارے محل کی ایک اینٹ میں اضافہ ضرور ہوا ہوگا۔ رافعہ اور دکاندار نے مسکرا کر اس بچے کو دیکھا جس نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں اور اس گناہ سے بچا لیا تھا جسےوہ اب تک گناہ سمجھتے ہی نہیں تھے۔

رافعہ کے دل کا سکون اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کی مٹھی میں دبا یہ پانچ کا سکہ ان کے لیے ضرور جنت میں موجود محل کی ایک اینٹ ثابت ہوگا اور مطئن ہو کر گھر کی جانب قدم بڑھا دیے۔