طریقہ واردات - امجد طفیل بھٹی

کسی کا اعتبار کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہے مگر پھر بھی ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کسی نہ کسی کا اعتبار کرنا ہی پڑتا ہے۔ اب آگے آپ کی قسمت ہے کہ بچ جائیں یا “ رگڑے جائیں “۔

یہاں اگر ہم بات کریں پاکستانی سیاست کی تو پچھلے ستّر سالوں سے “رگڑے“ والا سلسلہ ہی چل رہا ہے یعنی ہمارے بھولے بھالے عوام جو کہ اپنے ملک کے سیاسی رہنماؤں کے بڑے بڑے وعدوں، دعووں، قسموں، دلائل اور باتوں کے جال میں باآسانی پھنس جاتے ہیں۔ یہاں کسی ایک پارٹی کا حوالہ دینا ضروری نہیں اور مناسب بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے سیاستدانوں میں “نظریاتی“ ہونے کا شدید فقدان ہے۔ مطلب ہر سیاستدان کبھی بھی ایک پارٹی کو اپنا پکا گھر نہیں سمجھتا بلکہ وہ پارٹیوں کے حالات اور پوزیشن دیکھ کر “اُڈاری“ لگاتا ہے، کبھی ایک شاخ پہ تو کبھی دوسری شاخ پہ جا بیٹھتا ہے مگر جب اگلی شاخ وزن برداشت نہ کر سکے تو پھر “آزاد پنچھی“ کی حیثیت سے قلابازیاں لگانا اُس کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اس سارے عمل کو بھی ایک طرح کا “طریقہ واردات“ ہی کا نام دیا جائے تو بہتر ہوگا۔

یہ تو ہو گیا طریقہ واردات کا ایک رُخ! اب دوسرا رُخ شروع ہوتا ہے الیکشن کے دنوں میں جب ہر چھوٹے بڑے سیاسی لیڈر کو اپنی جیت سے زیادہ کچھ عزیز نہیں ہوتا چاہے، اس کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑے مثلاً ہر طرح کا وعدہ اور جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔

یہاں اگر بات کی جائے میاں برادران کی تو ہم باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ ہر جگہ موٹروے، پُل، سڑکیں اور میٹرو بسیں چلانے کا وعدہ کرتے جاتے ہیں مگر جونہی الیکشن کا دن گزرتا ہے اس کے بعد یہ ساری چیزیں صرف اور صرف لاہور کے حصے میں ہی آتی ہیں جبکہ باقی شہر اور گاؤں اپنی پہلے والی قسمت اور مقدر پر ہی گزارہ کرتے ہیں۔ تقریباً پچھلے تیس سال سے شریف خاندان اور بھٹو خاندان پاکستانی سیاست پر چھایا ہوئے ہیں اور وقتاً فوقتاً حسب استطاعت ملک کو نفع اور نقصان پہنچایا ہے مگر آج تک اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کیا جبکہ ملک کے اصل حالات سب کے سامنے ہیں بیرونی قرضے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں، بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ گھر میں ایک یا دو کمانے والے ہیں اور بیس کھانے والے ہیں، سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ نہ بلڈنگ مکمل ہے، نہ ڈاکٹر پورے ہیں اور نہ ہی باقی سہولیات مہیا ہیں، سرکاری سکولوں کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ کئی دور دراز کے علاقوں کے سکوں بھینسوں کے باڑے یا پھر وڈیروں کے ڈیرے بنے ہوئے ہیں، بجلی کی صورتحال قدرے بہتر ہے مگر بجلی کی قیمت عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہے، جبکہ ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈر عوامی اجتماعات میں خطاب کے دوران عوام کو مفت تعلیم، مفت صحت کارڈ، بجلی پر سبسڈی، مفت بیج، مفت کھادیں، نوکریاں، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور نہ جانے کیا کیا سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کر آتے ہیں جو کہ کسی طرح سے بھی قابلِ عمل نہیں ہوتے۔

ہمارے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جو اب تک ملک پر حکومت کرتی آئی ہیں ان کا مقصد صرف اور صرف اپنے مفادات کا رہا ہے۔ یہاں حکومت میں آ کر ان جماعتوں کا طریقہ واردات ایک جیسا ہوتا ہے بس تھوڑا بہت اُنیس بیس کا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ کبھی بھی کسی جماعت نے ملک کے اداروں کو سنبھالنے اور انہیں نقصان سے باہر نکالنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان سرکاری اداروں کو اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کی خاطر خوب اچھی طرح نچوڑا ہے، کوئی بھی پراجیکٹ کمیشن کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا، ہر پراجیکٹ اپنی قیمت سے کئی گنا زیادہ پیسوں میں اور اپنے مقررہ وقت سے دگنے وقت میں جا کر مکمل ہوتا ہے۔ ہر سرکاری ادارے میں (ماسوائے فوج کے) اپنے چہیتوں کو سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ پولیس میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ سیاسی اثرورسوخ کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ طرح طرح کے انکم سپورٹ پروگرامز، قرضہ کی سکیمیں، لیپ ٹاپ اور ٹیکسیاں دے کر سبسڈی کے نام پر ملکی خزانے پہ ہاتھ صاف کیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزیر اور مشیر اپنے دورِ حکومت میں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز عوام کے نام پر لے کر عوام کی دسترس سے باہر ہی رکھتے ہیں۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ٹی اے ڈی اے کی مد میں کروڑوں روپے اراکین اسمبلی کے اکاوئنٹس میں جاتے ہیں، دیگر سہولیات کا حساب لگانا شروع کر دیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وزیر اور مشیر وغیرہ کسی ترقی یافتہ ملک کے عوامی نمائندے ہیں جہاں پر ملک و قوم خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے ہوں، مگر بدقسمتی سے حالات اس سے اُلٹ ہیں۔ ملک آئے روز معاشی دباؤ کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے مگر پالیسی سازوں کو صرف اور صرف اپنی ترجیحات عزیز ہیں مثلاً کس طرح بیرون ملک دولت کو بچانا ہے؟ کس طرح اپنے آپ کو احتساب سے دُور رکھنا ہے؟ اور کس طرح اپنے اقتدار کو طُول دینا ہے؟

جبکہ دوسری جانب پاکستان پر بیرونی طاقتوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، امریکہ اور اسرائیل بھارت کی پشت پناہی کر کے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے درپے ہیں جس میں ہمارے ملک کے کچھ بھٹکے ہوئے لوگ بھی ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، مگر ہمارے سیاستدانوں کا ہر “طریقہ واردات “ صرف اور صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے ہوتا ہے ناں کہ سیاست کے ذریعے ملک کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی وضع کی جاتی۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */