لڑائی کے بعد والے مکے یا اقدار کی سیاست - یاسر محمود آرائیں

میاں نواز شریف نے شاید اس سوال کا جواب دینے کی کوشش شروع کر دی ہے کہ انہیں کیوں نکالا؟ اپنے نا اہلی کے فیصلے کے بعد وہ بارہا یہ سوال پوچھ چکے ہیں۔ اس سوال اور اپنے دیگر بیانات سے وہ یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف فیصلہ کسی سازش کا نتیجہ ہے۔ ان کی بات کو بہت سے لوگوں کی جانب سے قومی اداروں پر الزام تراشی اور ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش بھی کہا گیا۔ اس سب کے باوجود مگر میاں صاحب کے الزامات کو مکمل طور پر جھٹلایا نہیں جا سکتا کیونکہ واضح نظر آتا ہے کہ ان کی حالیہ حکومت کو اول روز سے ہی بعض معاملات کے باعث دباؤ میں لینے کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہ باتیں بھی اب کوئی راز نہیں رہی کہ ان کی حکومت کے خلاف دھرنے خودبخود پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت دلوائے گئے تھے۔ ان دھرنوں کے پیش نظر کیا مقاصد تھے اور ان کے اسپانسرز کون تھے، اب قوم کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے۔

مشکلات کے ان دنوں میں جب میاں صاحب کی حکومت کی کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی تھی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی اسی قسم کی باتیں ڈھکے چھپے انداز میں ہوتی رہیں۔ خود حکومت کے بعض وزیروں نے ان سازشوں کے پس پردہ محرکات اور کرداروں سے قوم کو آگاہی دینے کی کوشش بھی کی۔ جس کے باعث سینیئر حکومتی وزیر اور مسلم لیگ کے سرد و گرم چشیدہ رکن مشاہداللہ خان صاحب کو اپنی وزارت کی قربانی دینی پڑی۔ اس کے باوجود کہ ان تمام سازشوں کا مقصد صرف میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ سے الگ کروانا تھا، قابل افسوس بات مگر یہ ہے کہ میاں صاحب پھر بھی انہیں جھٹلاتے رہے اور اس وقت کبھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ان کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو وہ سازشی عناصر کے دفاع کا فریضہ بھی خود ہی انجام دیتے نظر آئے۔ انہوں نے بطور وزیراعظم غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر اتنے سمجھوتے کیے کہ یقینا ملکی تاریخ میں کسی دیگر وزیراعظم نے نہیں کیے ہوں گے۔ وہ اگر اس وقت اپنے اقدامات پر ڈٹے رہتے اور کوئی سمجھوتہ نہ کرتے تو شاید اقتدار سے محرومی کا صدمہ انہیں پھر بھی برداشت کرنا پڑتا لیکن آج ان کے بجائے خلق خدا یہ سوال اٹھا رہی ہوتی کہ میاں صاحب کو کیوں نکالا؟

کہا جا سکتا ہے کہ اب جبکہ میاں صاحب وزارت عظمیٰ سے بھی فارغ ہو چکے، ان سے پارٹی صدارت بھی چھن چکی، غرضیکہ عملا وہ ہر طرح کی سیاست سے دور کر دیے گئے ہیں اور ان کے پاس گنوانے کو مزید کچھ باقی نہیں بچا تو وہ کچھ سچ (اس کے علاوہ بھی کیونکہ چند دیگر وجوہات تھیں جو شاید وہ اب تک کسی مصلحت یا فساد خلق کے خوف سے نہیں بتا رہے) بیان کرنا شروع ہوئے ہیں کہ ان کی حکومت پر عتاب ایک آئین شکن ڈکٹیٹر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کے سبب نازل ہوا۔ ان کی حکومت کے خلاف دھرنے اسی لیے دلوائے گئے تاکہ اس آمر کو غداری کے مقدمے سے ریلیف ممکن ہو سکے۔ ان کا مزید یہ کہنا ہے کہ ان کے ماتحت ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے انہیں پیغام دیا کہ وہ محاذ آرائی سے بچنے کے لیے اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں یا پھر طویل رخصت لے کر گھر چلے جائیں۔ انہوں نے نام واضح کیے بغیر یہ بھی کہا کہ انہیں ادھر ادھر سے اور اپنے قریبی لوگوں سے یہ مشورے بھی ملے کہ اس بھاری پتھر کو چومنے کی ضد چھوڑ دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومتی ترجمان فردوس اعوان، سلام - حبیب الرحمن

یہ سب بیان کرنے کے بعد میاں صاحب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مواخذہ صرف سویلینز کا ہونا چاہیے؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب انہیں خود دینا چاہیے کہ انہوں نے محض چوم کر ہی یہ پتھر واپس کیوں رکھ دیا؟ کیا ان کے نزدیک اس وقت اصول اور انصاف سے زیادہ اقتدار کی اہمیت تھی؟ آج جو باتیں وہ بیان فرما رہے ہیں اگر ان میں سچائی ہے اور پوری دنیا جان چکی ہے کہ واقعتاً ان میں سچائی ہے تو پھر انہوں نے ناحق مشاہد اللہ خان صاحب کو وزارت سے علیحدہ کیوں کیا؟ آج وہ سویلین سپرمیسی، آئینی لحاظ سے وزارت عظمیٰ کے منصب کو عزت دلوانے اور ووٹ کے تقدس کی باتیں کرتے ہیں لیکن اس وقت جب ان کے ماتحت ادارے کا سربراہ ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا تو انہوں نے نتائج سے ماورا ہو کر اپنے منصب کے وقار کے تحفظ کے لیے اس کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کارروائی کیوں نہ کی؟

کہا جاتا ہے کہ لڑائی کے بعد جو مکا یاد آئے وہ انسان کو اپنے منہ پر مارنا چاہیے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ وہی مکے ہیں جو میاں صاحب کو لڑائی کے بعد یاد آ رہے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کے نزدیک میاں صاحب کا شکوہ جائز ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف سازشیں چلتی رہیں لیکن، اگر میاں صاحب اور مسلم لیگ کی حکومت کچھ تدبر، حکمت، ظرف اور حوصلے سے کام لیتی تو ان پس پردہ چھیڑ خانیوں کا جواز با آسانی ختم کیا جا سکتا تھا۔ مثلا انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزام کو جواز بنا کر عمران خان نے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ اور یہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر انہوں نے 126 دنوں تک دھرنہ دیکر حکومت کو مفلوج کیے رکھا۔ بعد میں حکومت کو یہ مطالبہ تسلیم کرنا پڑا لیکن، اگر ان دھرنوں سے قبل ہی یہ کام کر لیا جاتا تو حکومت ان مشکلات سے بچ سکتی تھی۔ اسی طرح اپنی نا اہلی کی بنیاد بننے والے پانامہ اسکینڈل کو بھی خود میاں صاحب عدالت لیکر گئے اور انہیں اس سے احتراز کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔ یہ مشورہ رد کرنے کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے۔ یہ رویہ صرف میاں صاحب کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ مسلم لیگ کی مجموعی نفسیات یہی ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک اکڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب معاملہ بگڑ جائے تو پھر اپنی اصل پوزیشن سے بھی چار قدم پیچھے ہٹتے دیر نہیں لگاتے۔ چند ماہ قبل پارلیمنٹ کی جانب سے ایک حساس قانون سے چھیڑ چھاڑ کی مبینہ کوشش کے خلاف جب احتجاج جاری تھا تو حکومت اس مسئلے پر بھی حسب سابق اکڑ دکھاتی رہی۔ حالانکہ اس مسئلے میں تمام پارلیمانی جماعتیں برابر کی شریک کار تھیں لیکن مسلم لیگی قیادت نے اپنی کوتاہ فہمی کے باعث تمام تر انتقامی جذبات کا رخ اپنی جانب موڑ لیا اور اسی باعث آج اس کے امیداروں کا انتخابی مہم چلانا اسی طرح مشکل ہو چکا ہے جیسے گذشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے لیے ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ مذاق ہے کیا - مسزجمشیدخاکوانی

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوا کرتی ہے لہٰذا اگر میاں صاحب اپنی ماضی کی غلطیوں پر نادم ہیں تو انہیں اپنی اصلاح کا موقع ملنا چاہیے۔ جہاں تک یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے میں اتنی دیر کیوں کی تو، بقول منیر نیازی صاحب کے کچھ لوگ ہر کام میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں۔ بہر حال دیر آید درست آید اگر میاں صاحب اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر نادم ہیں تو انہیں اعلان کرنا چاہیے کہ آئندہ کے لیے ان کی سیاست اقتدار کی خاطر نہیں بلکہ اقدار کی خاطر ہوگی۔ اپنی جماعت کی قیادت اور سیاست مکمل اختیار کے ساتھ شہاز شریف صاحب کے سپرد کر کے وہ آئندہ اپنی ذات کا مقصد غیر جمہوری قوتوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو روکنا قرار دیں۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے بھی مگر وہ کوئی ایسا راستہ ہرگز اختیار نہ کریں جس سے ملک میں عدم استحکام کا خطرہ ہو، بلکہ وہ سیمنارز کا انعقاد کریں جس میں اپنے چار دہائیوں پر محیط سیاسی تجربات کی بدولت حاصل ہوئے نچوڑ بیان کریں کہ سیاسی عدم استحکام کے بطور ریاست کیا مضمرات ہو سکتے ہیں اور عوام میں شعور بیدار کریں کہ ایک شہری اپنے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی استحکام کے لیے کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.