انتخابات 2018 کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ - راجہ کاشف علی خان

2002 کے عام انتخابات میں عظیم الشان پولیٹیکل انجینئرنگ ہوئی اور "کنگ پارٹی" ق لیگ کو کامیابی سے ہمکنار کروایا گیا۔ ان عام انتخابات میں بینظیر بھٹو اور نوازشریف انتخابی عمل سے باہر رہے۔ ان عام انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی ہر طرح کی سرپرستی کے باوجود مرکزی حکومت صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے قائم ہوئی۔ وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی حیثیت ایک ربڑ سٹیمپ سے زیادہ نہیں تھی۔ اتنی بڑی انجینئرنگ کی وجہ سے یہ نتائج کس طرح بھی قابل تحسین نہیں تھے۔

2008 کے عام انتخابات سے قبل بینظیر بھٹو کی شہادت نے پورا منظر نامہ تبدیل کردیا۔ پیپلزپارٹی 87 عام نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی مدد سے مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ 2013 کے عام انتخابات میں ن لیگ مرد میدان رہی اور 124 عام نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

اب 2018 کے عام انتخابات کے لیے میدان سجنے کی امید ہے اور اسلام آباد کی گدی پر قبضہ کے لیے کنگ میکر اور سیاسی چرغے معرکہ آرائی کے لیے تیاری پکڑے ہوئے ہیں۔ اصل مقابلہ ن لیگ اور انٹی ن لیگ قوتوں کے درمیان ہوتا ہوا نظر آرہا۔ نوازشریف کے"مجھے کیوں نکالا" اور "ووٹ کو عزت دو" کے بیانیے کو بے شک تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہو لیکن نوازشریف اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔ پنجاب میں ہونے والے حالیہ جلسوں میں عوام کی شرکت سے تو یہی لگ رہا ہے۔ نوازشریف کے متنازع بیان کی وجہ سے ن لیگ کو دھچکا بھی لگا لیکن ماضی میں یہی باتیں کئی سیاسی و عسکری شخصیات کر چکی ہیں۔

انتخابات کا اصل معرکہ پنجاب میں لڑا جائے گا۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 145 عام نشستیں آئندہ قائم ہونے والی مرکزی حکومت کا فیصلہ کریں گی۔ ن لیگ کی پنجاب حکومت کی کارکردگی باقی صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں خاصی بہتر رہی۔ ن لیگ کے پاس پنجاب میں بیچنے کے لیے کافی کچھ ہے۔ اسی لیے ن لیگ کے مقابلے کے لیے جنوبی پنجاب تحریک کو غذا مہیا کی جارہی ہے یہ غذا 2013 کے عام انتخابات سے قبل بھی فراہم کرنے کی کوشش ہوئی لیکن زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ گزشتہ انتخابات میں ن لیگ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 148 عام نشستوں میں سے 121 عام نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

ان 121 نشستوں کو توڑے کر 15، 20 پر لانا آسان کام نہیں ہوگا اس کے لیے بہت بڑی پولیٹیکل انجینئرنگ کی ضرورت ہوگی۔ شاید 2002 والی پوزیشن پر ن لیگ کو لے کر جانا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہوگا کیونکہ ن لیگ کی صوبائی حکومت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے متوجہ کررہی ہے۔

انتخابات کا معرکہ سجنے سے پہلے متحدہ مجلس عمل کی تشکیل خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے لیے چیلنج کھڑا کرسکتی ہے۔ اے این پی اور ن لیگ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی باتیں بھی چل رہی ہیں۔ تحریک انصاف کا سارا زور پنجاب میں لگ رہا ہے اگر عمران خان اپنی صوبائی حکومت کی کارگردگی کچھ بہتر بنانے میں کامیاب ہوتے تو خیبر پختونخواہ میں بیچنے کے لیے کافی کچھ ہوتا لیکن ایسا کچھ ہے نہیں ایسا نہ ہو کہ تخت لاہور تاراج کرنے کے چکر میں تخت پشاور ہاتھ سے جاتا رہے۔

آئندہ مرکزی حکومت سازی کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کو کم از کم 90 عام نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ جو جماعت یہ معرکہ سر کرنے میں کامیاب رہی وزیراعظم وہی لائے گی۔

پیپلزپارٹی پنجاب میں شاید ایک آدھ نشست پر کامیابی حاصل کر لے۔ تحریک انصاف 2013 کے عام انتخابات میں پنجاب سے 5 عام نشستیں حاصل کرسکی تھی اب ان 5 کو 50 میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

جو کچھ سیاسی میدان میں چل رہا اس سے لگ رہا ہے کہ شاید کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی اور مرکز میں ایک مخلوط حکومت ہی بنے۔

سینیٹ کے انتخابات کی طرح اگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کسی مشترکہ امیدوار پر متفق ہوگئے تو حکومت بنا بھی سکتے ہیں۔ اگر اس سے بھی بڑی پولیٹیکل انجنیئرنگ ہونے میں کامیاب ہوئی تو مستقبل کے وزیر اعظم چوہدری نثار علی خان بھی ہوسکتے ہیں۔