میں کس کے ہاتھ اپنا 'جوتا' تلاش کروں - اشتیاق حجازی

جیسے وطن عزیز میں کرپشن ایک عام شے بن گئی ہے اور کرنے والا اس کو جرم نہیں سمجھتا، اسی طرح ہمارے پشاور میں جوتے کا گم یا تبدیل ہونا بھی رواج بن گیا ہے اور اٹھانے والا اسے کسی رو سے مجرم نہیں سمجھتا۔

ہمارے ہاں اگر کسی شخص کے پاؤں میں دو الگ الگ قسم کے جوتے ہوں تو اس کو پاگل تصور کیا جاتا ہے جبکہ یہاں پشاور والوں کی حالت یہ ہے کہ آپ بغیر کسی شرمندگی کے رنگ برنگے جوتے پہن کے صدر جا کر Rsheen سے شاپنگ تک کر سکتے ہیں۔

جب پہلی بار ہاسٹل سے میرے جوتے گم ہوئے تو اپنے روم میٹ سے کہا یار! روم کے باہر سے کوئی جوتے لے گیا ہے، ڈھونڈ کر واپس لانے چاہیئیں تو آگے سے نوم چومسکی بنتے ہوئے کہنے لگا "بھائی! واپس وہ چیز کی جاتی ہے جو مانگ کر لی گئی ہو۔ نہ کسی نے تم سے مانگ کر لیے ہیں اور نہ کوئی اب واپس کرے گا۔ اس لیے ڈھونڈنے کا خیال دل سے نکال دو۔ اب تمہیں اپنے تو ملیں گے نہیں، اس لیے بہتر ہے پورے ہاسٹل کا چکر لگاؤ اور جس دروازے کےآگے جو جوتے اچھے لگیں وہ اٹھا لاؤ۔" ساتھ ساتھ اس نے ایک اور سر کے اوپر سے گزرنے والا فلسفہ چھوڑا کہ "اشتیاق بھائی! جوتے اور لوٹے سانجھے ہوتے ہیں جو جس کے پاس چلا گیا سمجھو اسی کا ہو گیا۔"

خیر، میں نے اس کی فلاسفی پر لعنت بھیجی اور نصیحت پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اگلے دن بڑی محبتوں، چاہتوں اور امیدوں سے پورے 350 کا نیا جوڑا خرید لایا کیونکہ میرے نکمّے ضمیر نے اس وقت یہ گوارا نہ کیا تھا کہ کسی اور کے جوتے اٹھا کے پہنوں۔

شام کو دوستوں نے پلان بنایا کہ کھانے کے لیے شینواری ریسٹورنٹ چلتے ہیں۔ جاتے ہوئے میں نے وہی نئے جوتے پہن لیے کہ مجھے لگا جوتوں والا مذاق صرف ہاسٹل تک محدود ہوگا۔ ہوٹل میں زمین پر بیٹھ کر کھانے کا انتظام تھا تو جوتے دروازے کے باہر ہی اتارنے پڑے۔ کھانا کھا کر باہر نکلے تو کیا دیکھتا ہوں میرا ایک جوتا تو وہیں بے یار و مددگار پڑا ہے جبکہ دوسرے جوتے کا کوئی اتا پتا نہیں۔ لاکھ ادھر ادھر دیکھا، ہر جوتے کو الٹ پلٹ کر دیکھا کہ شاید میرا محبوب جوتا رش میں کسی بھاری جوتے پاؤں تلے آگیا ہو لیکن سب بے سود۔ میرا بائیں پیر کا جوتا گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو چکا تھا اور دائیں پاؤں والے جوتے کی حالت ایسی تھی جیسے کوئی نیا شادی شدہ جوڑا ہنی مون منانے آیا ہو اور یہاں آ کر بیوی کو اکیلا چھوڑ کر شوہر کسی محبوبہ کے ساتھ فرار ہو جائے اور بیوی اپنے شوہر کے غم میں اداس چہرا، کھلے بال اور نمناک آنکھیں لیے بیٹھی ہو۔ اس دن کھانے کے پیسے دینے کا اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا جوتے کی بے وفائی پر ہوا۔ نظریں ادھر ادھر دوڑائیں تو ایک کونے پڑے اپنے جوتے کی طرح کے ایک اور اکلوتا جوتا نظر آیا تو سوچا چلو دو اداس دلوں کو آپس میں ملانا ہی بہتر ہے کہ ہجر کا دکھ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے؟

واپسی پر دو الگ الگ رنگ کے جوتے پہنے مجھے شرمندگی تو ہوئی پر جب کن اکھیوں سے باقی لڑکوں کے پاؤں کی طرف دیکھا تو تسلی ہوئی کہ اکثر ہاسٹل والے دوستوں کے پاؤں کا یہی حال ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں بھی اس معاشرے کے نمائندے کا فرض نبھاتے ہوئے ﮈھیٹ ہو کر اکڑ کر چل دیا۔

ویسے آپس کی بات ہے جوتوں کی ادلی بدلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو کئی دفعہ پھٹے پرانے جوتوں کے بدلے نئے جوتے بھی مل جاتے ہیں۔ ایک بار ایک دوست کے کمرے میں گیا۔ پاؤں میں روم میٹ کے پرانے جوتے تھے جن کو شاید ہاسٹل کی 10 پشتوں نے پہنا ہوگا۔ دوست کے پاس اس کا کوئی مہمان بھی آیا ہوا تھا۔ میں کچھ وقت گزار کر جب واپسی کے لیے باہر نکلا تو دیکھا میرے پرانے جوتے ہی غائب ہیں۔ میں نے جوتے اٹھانے والے کی سلیکشن پر لعنت بھیجی کہ اٹھائے بھی تو وہ جوتے کہ جن کی مارکیٹ ویلیو ہی نہیں ہے۔ خیر، میں نے ایک دفعہ پھر معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوئے چپکے سے باہر پڑے مہمان کی نئے نکور پشاوری چپل پہنی اور مطمئن بے غیرتی کی مثال قائم کرتے ہوئے واپس آگیا۔

میرا ایک اور دوست ہے نصراللہ، جو جوتوں کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی فکرمند واقع ہوا ہے۔ اس نے اپنے پاس کمرے میں ایک صندوق رکھا ہوا ہے جس میں لوبیا، چینی، نمکو، بسکٹ سے لیکر دوائیوں کی رسیدوں اور اپنی تصویر سے لیکر محبوبہ کی کلائی کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں تک پڑی ہیں۔ اس کا ایک دستور ہے کہ جب بھی چھٹی پر گھر جاتا ہے جوتے اپنے صندوق میں رکھ کر آگے سے تالا لگا کر جاتا ہے۔ پہلے میں اس پر بہت ہنستا تھا لیکن اب سوچتا ہوں اگر میرے پاس صندوق ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرنے کا سوچتا۔

جیسا کہ ملکی دولت سب سیاستدانوں کی سانجھی ہوتی ہے جسے وہ مل جل کر لوٹتے ہیں، ایسے ہی پشاور میں جوتے بھی سب کے سانجھے ہیں جو پسند آئے اٹھا لو!

ٹیگز