سیاست اور عورت - طلحہ زبیر بن ضیا

بچوں کو مطالعہ پاکستان پڑھا رہے تھے، یہ ہماری قسمت کہ ہمیں ایوب خان سے لیکر نواز شریف تک ہر ایک کو پڑھانا پڑتا ہے۔ جب ہم بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کرپشن کی ایک مثال ہمیں بھی قائم کرنا پڑتی ہے کہ پاکستان میں جنگلات 5 فیصد ہیں جبکہ پاکستان میں جنگلات صرف ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تک رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں ہر سیاست دان کو ایک بہترین انسان ثابت کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک نہایت کٹھن مرحلہ ہے۔

یوں ہی ایک فری پیریڈ میں مجھ سے سیاست پر بات کرتے ہوئے بچے نے کہا کہ سر آپ کے مطابق ہر جماعت وہی برے سیاست دان لا رہی ہے تو اچھا سیاست دان کون ہوسکتا ہے یا اچھی سیاسی پارٹی کیسی ہو سکتی ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ جو اہل ہو۔ کلاس میں ایک قہقہ گونجا کہ "مجھے کیوں نکالا؟"ہم نے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا کہ نہیں! بات نواز شریف کی نہیں۔ سیاسی پارٹی صرف وہ ہے جو بہترین دماغوں کو سامنے لے کر آئے۔ سر! یہ عمران خان نے کہا تھا، ایک آواز آئی۔ ہم نے بات جاری رکھی کہ اگر وزیر قانون کسی اٹارنی جنرل کو بنایا جائے جو کہ ایک بہترین دماغ اور ایک وژن بھی رکھتا ہو، وزیر خارجہ اس کو بنایا جائے جو بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) میں ایم ایس سی کر چکا ہو، وزیر دفاع کوئی ریٹائر جنرل ہو جو کہ دفاع کے لیے اپنی تمام خدمات پیش کر چکا ہو، غرض یہ کہ جو بھی وزارت کسی شخص کو دی جائے وہ اس کی صلاحیت اور تعلیم کے عین مطابق ہو۔ یہ کسی پارٹی میں نہیں، ہم نے ہر شاخ پر الّو کو بٹھایا ہے اور گلستاں میں بہار کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ عوامی خدمت کا جذبہ ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے جو کہ ہر سیاست دان میں ناپید ہے۔ یہ اصل سیاست ہے اور اس کے بعد ہی جمہوریت کو ہم ملک دوست نظام کہہ سکتے ہیں ورنہ جو صورت حال آج کل ہے، اس جمہوریت میں صرف سیاست دان ہی اپنی مرضی کر سکتا ہے، ان کے علاوہ کوئی بھی کرے گا تو جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

یہ سیاست دان کون ہیں؟ یہ واقعی ملکی مفاد کا سوچتے ہیں؟ اس کے لیے ایک سیاسی رہنما سے بات ہوئی تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہمارا یہ حال کیوں ہے؟ چند ایک سیاسی لوگوں سے ملنے کے بعد مجھے اندازہ ہوگیا کہ سیاست میں انتہائی گری ہوئی باتیں ذاتیات اور دوسروں کی عزتوں کو اچھالنا کیوں سامنے آتا ہے؟ یہی بات چند سٹودنٹس کم دوست نما بچوں میں ڈسکس ہو رہی تھی کہ ہم نے اقبال کا ایک شعر پڑھا

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار

بحث میں جب آتا ہے فلسفہِ ذات و صفات

ہر سیاسی جماعت کی اپنی سوچ کا ایک دائرہ ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی جماعت غنڈوں اور مافیا پر چلتی ہے اور کوئی وڈیروں اور جاگیرداروں پر اور کوئی جماعت ان کا مکسچر ہے، یہ لوگ عوام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ان کو اپنی دولت سے پیار ہوتا ہے۔ تعلیم بھی فقط ڈگری کے حصول تک حاصل کرتے ہیں اور تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی لوگ خواتین کی عزت اچھالنا یا خواتین کو استعمال کرنا جانتے ہیں، عائشہ گلالئی ہو یا ریحام خان مریم نواز، جمائمہ خان، یا نصرت بھٹو یا تمام عام خواتین جو سیاست دانوں کے گرے ہوئے لہجوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ یہاں فقط خواتین ہی نہیں معاشرے کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اس طرح کے لوگ پیدا کہاں ہوتے ہیں جو سیاست میں خواتین کی عزت اچھالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں سے عام عوام کیسے متاثر ہوتی ہے؟ اب اشکوں کے سمندر میں بے شمار مشاہدات موجود ہیں ان میں سے ایک سچا واقعہ بیان کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   "عارضہ" احسان کوہاٹی

کالجز کے داخلے ہو چکے تھے، کلاسز شروع ہو چکی تھیں۔ انہی دنوں کا واقعہ ہے ایک کلاس میں ایک لڑکی داخل ہوئی مسکرا کر سلام کیا اور اپنا تعارف کروایا اور ایک سیٹ پر براجمان ہو گئی۔ کافی ہنس مکھ تھی اور خود اعتمادی کی وجہ سے جلد ہی کلاس کی لڑکیوں میں گھل مل گئی۔ کافی خوش مزاج تھی تو پوری کلاس میں نمایاں رہتی۔ پھر ایک دن اس نے چند لڑکیوں کو پارٹی دی جو انہوں نے قبول کی اور کافی انجوائے بھی کیا۔ اگلے دن اس کی پارٹی کے چرچے پوری کلاس میں تھے۔ پھر اس نے چند پارٹیوں میں لڑکیوں کو اپنی ایک آنٹی سے بھی ملوایا، وہ بھی کافی مزاح پسند تھی۔ یوں لڑکیاں اس کی آنٹی کے حس مزاح کی بھی قائل ہوئیں اور ان کا ایک گروپ بن گیا۔ پھر یوں اکثر پارٹیاں چلتیں اور آنٹی ان کو زندگی کو انجوائے کرنے کا درس دیتیں اور چونکہ برائی میں لذت ہے اس لیے وہ پورا گروپ ان کے مزاح کو انجوائے کرتا۔ ایک دن آنٹی نے ان کو ایک آئسکریم پارٹی دی۔ کالج لائف تھی، ماں باپ کی بھی یہ سوچ تھی کہ بچی اب بڑی ہو رہی ہے دوستوں سے مل کر تھوڑا انجوائے کر لے پھر اس کی شادی ہی تو ہونی ہے تو پیا گھر سدھار جائے گی۔ سو، آنٹی پورے گروپ کو ایک وین میں لے کر ایک جگہ جا پہنچیں وہاں آئسکریم کھلائی اور پھر ایک اپنی دوست سے ملوانے لے پہنچیں اور اس خاتون کا کام لڑکیوں کو ورغلا کر غلطی پر آمادہ کرنا اور پھر بلیک میل کرنا تھا۔ ان تمام لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کھیل کھیلا جا چکا ہے لیکن ایک بچی نے جب محسوس کیا کہ ایک پورشن پر کچھ مرد موجود ہیں جو شکل سے شریف نہیں لگتے تو اس کو خطرہ محسوس ہوا اس نے فورا گھر کال کی اور سارا کچھ بتا ڈالا۔ اتنے میں وہ خاتون ان کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگیں اور لوہا تو کافی عرصے سے گرم ہو رہا تھا۔ بس اس کو موڑنا باقی تھا ان لڑکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کو بیچا جا رہا ہے جس کے بعد ان کو ساری زندگی اس عذاب سے گزرنا پڑے گا۔ جس بچی نے فون کیا تھا اس کے گھر والے فوراً پولیس سٹیشن پہنچے اور پولیس کے ساتھ اس جگہ پر چھاپا مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا اور وہاں موجود تمام مواد بھی قبضے میں لے لیا لیکن۔۔۔ وہ طوائف، جس کا تعلق ڈائریکت سیاست دانوں کے ساتھ تھا اس نے فوراً ایک بڑی شخصیت کو فون گھمایا اور اطلاع دے دی کہ آپ کے کارنامے بھی منظر عام پر آ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انسپکٹر کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اس کو فوری طور پر جگہ خالی کرنے کا حکم ملا جو اس نے احتراماً آفیشل آرڈر سرکاری مہر کے ساتھ مانگا تو اس کو چند گھنٹوں میں آفیشل کاغذات پر اس کی معطلی نوٹیفیکیشن موصول ہو گیا اور یوں وہ گروہ دوبارہ آزاد ہو گیا۔ اسی طرح نہ جانے کتنے واقعات جو کہ مشاہدے سے گزرے جن میں سیاست دانوں کے شہر کی ان خواتین کے ساتھ تعلقات ہیں بلکہ ان خواتین کو رشوت بھی دی جاتی ہے کہ "صاحب کو کہہ کر ہمارا یہ کام کروا دیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   لبرلزم کی انتہا پسندی: "زنا بہ زنِ غیر" بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایسے واقعات کے بعد زینب ہو یا عاصمہ، یا وہ ننھے 300 پھول جو کہ قصور میں درندوں کی بھینٹ چڑھے یا وہ بے شمار 12 سال کی لڑکیاں جو جنوبی پنجاب میں "چند مہمانوں کی میزبانی میں قربان ہوئیں" اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو کہ ایک مذہبی جماعت 12 سال کی بچی کی شادی 40 سال کے کمانڈر سے کروا دیتی ہیں اور دلیل یہ دیتی ہے کہ ہم چونکہ ہر کام ایجنسی کے لیے کرتے ہیں یہ شادی بھی ہم نے ان کے کہنے پر کروائی۔ ہنسی آتی ہے اس لاجک پر!

یہ مسائل کہاں سے جنم لیتے ہیں جس نے ہماری تہذیب کے پردے اس بری طرح چاک کیا ہے کہ ہم جیسوں کے پاس چھپانے کو کچھ نہ بچا؟ یہ درد دل ہے جو کہ الفاظ میں اتارنا ممکن نہیں۔ ہم نے اپنے بچوں کی تربیت میں سے احترام کا لفظ نکال دیا ہے خواہ کسی کا بھی ہو۔ ایک لوکل بس میں ہمیں ایک چھوٹے بچے کے منہ سے گالی سنی جو وہ چھوٹی بچی کو دے رہا تھا ور اس کا باپ ہنس رہا تھا، یہی وہ مسائل ہیں جو ہم بچپن میں دور نہیں کرتے بلکہ ان کو پروان چڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ شادی کرنا ایک بہت بڑی زمہ داری ہے عورت کی عزت سے لیکر بچے کی تربیت تک، اس میں کہیں بھی چھوٹی سی چُوک آپ کا ہی نہیں ملک کا بھی نقصان کروا سکتی ہے۔ خواتین کو جتنا بھی برقعوں میں لپیٹ دیں آج کل کی ہوس زدہ نظریں ہر عورت کو دیکھتے ہیں اس کا ایکسرے کر ڈالتی ہیں۔ ان نظروں کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمارے مولانا حضرات کی باتیں فقظ ظاہر کی ہیں اگر فقط نعرے اور باتوں سے زندگی بدلتی تو کیا ضرورت تھی انبیا کو بکریاں چرانے کی؟ انبیا کو اللہ نے تربیت کرنے بھیجا تھا اور اسلام تربیت کا مکمل نظام دیتا ہے جس میں ہر انسان کی تربیت اس حد تک ہوتی ہے کہ وہ خواتین کو عزت دینا سیکھے، اس کے بعد اسلام پردے کا حکم دیتا ہے۔ ہم خواتین کو پردوں لپیٹ کر خود اسلام کے ہر حکم سے آزاد ہو جاتے ہیں یہ تربیت کسی منبر پر بیٹھ کر گالیاں نکال کر یہ کہنے سے نہیں ہو سکتی کہ خواتین کو پردے میں رہنا چاہیے اور بس!

ہمارا نظام تعلیم جس میں ان تمام اسباب کا نام و نشان نہیں، ہمیں وہ بدلنا ہوگا دوبارہ ایک ایسا نصاب بنانا ہوگا جو کہ انسان کو انسان بنائے نہ ایک ناکام شخص پیدا کرے۔ آخر میں ایک بات کرتا چلوں کہ ہارورڈ میں ایم بے اے پروگرام کرنے کے بعد پاس آؤٹ ہونے والے بہت سے نوجوان 15 سال بعد شادیوں میں ناکامی، بچوں کی نافرمانی، ڈپریشن اور بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے تھے اور پروفیسر صاحب جو کہ ان کے استاد تھے فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ایک کروڑ روپے میں ایم بے اے کرنے کے بعد کیا سیکھا؟ اور یونیورسٹی نے ان کو ایک کروڑ کے بدلے کیا دیا؟ اس کا جواب فقط اتنا ہے کہ پوری دنیا کا نظام تعلیم انسانوں کو انسان نہیں جانوروں سے بھی بدتر بنا رہا ہے۔

اگر مستقبل اچھا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو خواتین کی عزت کرنا سکھائیے، ان کی تربیت اچھی طرح سے کریں کہ کل وہ اگر سیاست میں آئیں تو ا ن کا دست شفقت بیواؤں کی مدد کے لیے اٹھے نہ کہ سیاست میں موجود خواتین سے لیکر عام خواتین تک کی عزت سے کھیلتے پھریں۔