رمضان، سراپا رحمت (1) - سلمان اسلم

رمضان کریم دراصل جوش رحمت خداوند کا مہینہ ہے۔ رب کائنات کی رحمت سب سے زیادہ جوش میں اس مہینے میں آتی ہے۔ لیکن رمضان کے اس بابرکت مہینے میں رحمت خداوندی کے حصول کے لیے مکمل ادراک اور فہم ازبس ضروری ہے۔

۱) سب سے مقدم بات اس مہینے کی تقدس کے حوالے سے کہ رب کائنات نے اپنا کلام پاک مکمل صورت میں اسی مہینے میں نازل فرمایا تھا۔ جس سے روئے زمین پہ موجود سارے علوم کی تکمیل بھی فرمائی اور اس کا دعویٰ پھر خود خالق کائنات نے قرآن پاک میں فرمایا کوئی خشک و تر چیز ایسی نہیں جس کا تذکرہ ہم نے اس میں نہ رکھ چھوڑا ہو۔ علم دراصل نور ہے اور قرآن کریم اسی علم کا سر چشمہ ہے۔ اس نور کا نزول خالق نے زمین پہ کر دیا اور خداوند کریم کی طرف سے سب سے بڑی رحمت و نعمت کا اتمام اسی بابر کت مہینے میں فرمادیا۔

۲) اور دوسرا بڑا اعزاز و تکریم و رحمت، اپنے محبوب ترین پیغمبر خاتم الرسل سلطان المرسلین علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نبوت محمدی کے اعلان بھی اسی مہینے میں فرمایا۔

۳) رحمت کی اتنہا کی دلیل اسی سے واضح ہو جاتی ہے کہ خود اللہ کریم جل شانہ نے رمضان کے مہینے کو ۳ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ عشرہ رحمت، عشرہ مغفرت، عشرہ نجات من النار۔ یہ جوش رحمت ہی تو ہے۔ خود رب کائنات اپنے محبوب ﷺ کی طرف اعلان فرما رہا ہے کہ اے مرے حبیب ترے صدقے اسی مہینے میں ہی رحمت بھی عطا کروں گا، مغفرت بھی دوں گا اور آگ سے نجات بھی۔

اتنے بڑے پیکج سے استفادہ کے لیے بس تھوڑی سی محنت کی ہی ضرورت تو ہے۔ تو ہمیں اسی مہینے میں زیادہ سے زیادہ رحمتوں کو سمیٹنا ہے۔ اب اسی مہینے میں رحمت خداوند کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لیے سب سے مقدم سوال یہ ہے کہ ا س بابرکت مہینے کا استقبال کیسے کیا جائے؟ کیونکہ یہ دراصل اسی رحمتوں کا ہی استقبال تو کرنا ہے۔ محبوب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام کا طریقہ کار کیا تھا اس مہینے کے استقبال کے حوالے سے، وہ جاننا نہایت ضروری تھے کہ نبی مہربان ﷺ کس انداز سے رحمتوں سے بھرے اس مہینے کا استقبال فرماتے تھے؟

ذرا ابتداء کی طرف چلتے ہیں جب ابھی رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کا حکم نہیں آیا تھا، ابھی تو نبوت ظاہری بھی عطا نہ ہوئی تھی، پھر بھی جب رمضان کا یہ مہینہ آن پہنچتا تو محبوب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام تھوڑی سے کھجوریں اور تھوڑا سا ستو لے کر غار حرا میں تشریف لے جاتے اور پورا مہینہ ادھر ہی گزارتے۔ اگر بیچ میں سے کچھ چیزیں کم پڑجاتی تو اماں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کچھ کھجوریں اور تھوڑا سا ستو اپنے غلام کے ہاتھوں بھجوا دیتیں۔ لیکن سوال سب سے پہلے ذہن میں یہ کھٹکتا ہے کہ تھوڑی سی کھجوریں اور تھوڑا سا ستو لے کر غار میں پورا مہینہ گزارنے کی منطق کیا تھی یا ہے؟ کمال کی بات تو یہ ہے کہ جس جگہ اللہ کے حبیب تشریف لے جاتے تھے ا س کے نام کو اعلیٰ معنی اور مفہوم سے نواز دیا۔ غار حرا کے ازخود معنی غور و فکر کرنے کی ہے اور محبوب پاک ﷺ بھی رمضان کے اس مہینے میں روزوں کی فرضیت سے قبل بھی اسی غور و فکر میں مشغول رہنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ یعنی کم کھانا، کم پینا، خاموشی، تنہائی اور غور و فکر کرنا یہی دراصل وہ گرُ ہیں جس کے ذریعے اس مہینے میں جوش رحمت خداوند کریم سے فیض یاب ہوا جا سکتا ہے۔

لیکن اب عہد حاضر میں ہمارے معاشرے پہ نظر دوڑائیں سب کچھ اس کے برعکس ہو ریا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان کے آتے ہی جیسے قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ سب سے اول دستر خوان پہ کھانوں اور چیزوں کے لیے جگہ کم پڑ جاتی ہے مگر بس ہونے کا نام نہیں لیتیں اور دسترخوان کا خرچ بھی عام دنوں سے کہیں زیادہ تجاوز کر جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وقت صدقہ فطر کا آتا ہے تب استطاعت کی دیوی آڑے آجاتی ہے۔ پھر کم کھانے کے بعد خاموشی کا ایسا روزہ تھوڑا جاتا ہے کہ ٹی وی شوز ہوں یا تاریک اندھیرے میں رات گئے تک کھیلوں کے میدان میں لوگوں کا ہجوم اتنا کہ تل دھرنے کہ جگہ بھی شاید بمشکل دستیاب آتی ہو اور تنہائی و غور فکر کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کم سے کم ظہر کے وقت تک نماز کی صفیں تک تنہائی کا شکار رہتی ہے اور غور و فکر تو بس نیند میں جاری و ساری رہتی ہے جن کی مغرب کے اذان کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے اور کسی کی اس سے قدرے پہلے۔ اب ایسے عالم میں رحمت خداوند کا فیض کیسے اور کیونکر حاصل ہوگا؟ آسان الفاظ میں اگر رمضان سے پہلے والے شیڈول کم ازکم رمضان میں بھی نہیں بدلتے وہی کے وہی رہتے ہیں تو پھر یقیناً رمضان کی برکات و فیوض سے بھی ہمیں کچھ نہیں ملے گا، اسی کے اسی طر ح ہی رہیں گے اور اسی ہی میں گرفتار ہیں ہم۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی انتہائی رحمت سے ہم رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی محروم رہتے ہیں۔ تبھی تو علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (5) - یوسف ثانی

ہم تو مائل بہ کرم ہے کوئی سائل ہی نہیں

جس طرح پانی کی بارش کا موسم ’’ساون‘‘ کہلاتا ہے اسی طرح رحمت خداوند کی بار ش کا موسم ’’رمضان‘‘ کہلاتا ہے۔ ساون کے مہینے میں بارش کے برسنے کے بعد بھی ہم خشک رہ جائیں پانی مل نہ پائے تو اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے؟ تو اسی طرح اگر رمضان کے مہینے میں رحمتوں کے بارش میں بھی ہم اللہ کے رحمت سے محروم رہ جائیں تو یقیناً اس سے بڑی ہلاکت اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ عہد حاضر میں وطن عزیز اسی صورتحال سے گزر رہاہے۔

۴) روزے کا وجود بذات خود عطا فرمایا مگر روزہ رکھنا فقط اب بھی مشن نہیں ہے بلکہ روزہ کو سبب بنایا تقویٰ کا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ تقرب الی اللہ جل شانہ حاصل کر پاؤ اور قرب الہٰی ہی در اصل کامیابی و کامرانی ہے۔

۵) اور پھر روزے کے ساتھ ایک اور رحمت عطا فرمائی۔ اس سے پچھلے قوموں یا امتوں کے لیے روزے میں سحری نہیں ہوتی تھی جبکہ ہمیں اس سحری کی نعمت بھی عطا کی۔ یعنی کہ مغرب کے بعد صبح سحری تک کھاؤ پیو اور پھر دن کے کچھ حصے میں پابندی عبادت کرکے تقویٰ کی ضمانت بھی دے دی۔ اور تقویٰ سے بڑھ کر نعمت کون سی ہو سکتی ہے؟ وقت افطار اور بذات خود افطاری کو بھی اسی سے ہی نتھی کر دیا جو کہ وہ بھی ازخود اک نعمت ہے۔ یعنی کمال حکمت دیکھیں کہ اک روزہ کی وجہ سے روحانی نشوو نما بھی کرا رہا ہے اور جسمانی توانائی کے صحت مند مواقع بھی عطا کر رہا ہے۔ یہ سب رحمت خداوند کی بارش نہیں تو اور کیا ہے؟ یاد رکھیں اگر روزہ کو اس کی اصل روح کے ساتھ، مکمل اسلوب و اصول کے ساتھ رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ جسم میں موجود ہر بیماری کی شفا یابی نہ ہو خاتمہ نہ ہو۔ لیکن ہمارے ہاں تو رمضان کے مہینے میں الٹا صحتیں بگڑ جاتی ہیں۔ معاذ اللہ اکثر اوقات جسم کی حالت قابل رحم حد تک آجاتی ہے۔ کیونکہ ہم نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ روزہ پراٹھے اور پکوڑوں کے بغیر ہوتا ہی نہیں۔ ہم نے روزے کا مطلب یہ ذہن نشین کرا چکے ہیں کہ اس میں کھانے پینے کی کھلی چوٹ ہے، جو چاہے اور جیسے چاہے بس کھاؤ کیونکہ اس مہینے میں حساب کتاب کوئی نہیں۔ ہم بد بخت بھول گئے ہیں کہ روزہ سے اگر ہمیں جسمانی صحت کی توانائی روحانی بالیدگی نصیب نہ ہوئی تو پھر روزے کا کوئی مقصد نہیں بچتا۔ آج یہی کچھ ہمارے حالات ہیں رمضان کے مہینے میں اور اکثر اوقا ت تو اس سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھیں کہ روزے کا احترام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے سے اخلاقی بیماریاں بھی دور ہوتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں حالات بالکل ہی اس کے برعکس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (6) - یوسف ثانی

۶) اس ضمن میں کمال حکمت کی بات غور و فکر کے حوالے سے کہ محبو ب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام غور و فکر کے لیے غار حرا تشریف لے جایا کرتے تھے اور ’’حرا ‘‘ کے معنی بھی غور و فکر کے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں محبوب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام کے طریق مبارک کو اپنا کر خاموشی کو اختیار کرنے سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے، شخصیت میں چھپی تمام خوبیاں، مہارتیں، ٹیلنٹ و قابلیت ابھر کر بھر پور طریقے سے سامنے آتے ہیں۔ خامو شی کوعبادت کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ محبوب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ مرے کملی والے ﷺ کی گفتگو کے اختصار کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا سب سے لمبا خطبہ حجتہ الوداع تھا جو بارہ منٹ کے دورانیے کا تھا۔ یعنی جتنی خاموشی اختیار کی جاتی ہے کام میں نکھار اتنا ہی پیداہوتا ہے۔ آج اگر عہد حاضر کے ترقی یافتہ ممالک پہ نظر ڈالیں تو وہ لوگ بھی باتیں کم کرتے ہیں اور کام زیادہ اور موثر طور پر کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جتنی فضول اور لایعنی باتیں ادھر ہمارے کی جاتی ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں کی جاتی ہوں۔

۷) تراویح کی عبادت بھی اسی مہینہ میں دی گئی ہے تاکہ مشترکہ طور پر جماعت کی صورت میں کلام پاک کو سنیں اور اس سے برکت و ثواب حاصل کر سکیں جو کہ انفرادی طور پر کھڑے ہوکر سننا یا پڑھنے شاید ہر کسی کے لیے اتنا آسان اور باعث برکت و ثواب نہ ہو جتنا کہ باجماعت کھڑے ہو کر ادا کرنا۔

۸) اب سب سے بڑھ کر نعمت لیلۃ القدر عطا کی ہو جو ہزار مہینوں سے افضل و برتر ہے۔ اس کی عظمت کی بیان کے لیے رب کائنات نے اپنے کلام پاک مجید میں اس کا تذکرہ فرمایا کہ یہ ایک رات ہزار راتوں، مہینوں سے زیادہ مکرم، معزز اور محترم ہے۔ اس رات رحمت خداوند کی جوش کا نظارہ تو دیکھیں کہ اس رات کوئی مغفرت مانگے تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ جل شانہ اس کی مغفرت نہ فرمائے۔

۹) اعتکاف، رمضان کریم کے آخری حصے میں اعتکاف کی رحمت عطا کی۔ یہ عمل اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے کہ اللہ کا بندہ اپنی ساری چیزیں، رابطے، تعلقات کو ان دنوں میں چھوڑ کر ایک کونے میں معتکف رہتا ہے۔ تاکہ غور و فکر کرسکے جیسا کہ محبوب پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام بذات خود رمضان کریم میں اعتکاف فرماتے تھے۔ بیچ میں ایک سال محبوب پاک ﷺ اعتکاف نہ کر سکے تو اس کے اگلے سال محبوب پاک ﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ صرف اس بات کو سمجھانے کہ غرض کہ غور و فکر کتنی اہم عبادت ہے اور اس کے بڑھ کوئی عبادت نہیں۔

(۱۰) اور پھر اس سے بڑھ کر نیکی اللہ کی سخاوت تو دیکھیں کہ ہر نیکی کا بدل ۷۰ گنا کر دیا۔ یعنی اک نیکی کا بدلہ ۷۰ گنا ہ ملے گا۔ جیسے کہ اک روزہ ۷۰ روزوں کے برابر ہوگا۔ ہر نیکی ۷۰ کے عدد سے ضرب دی جائے گی۔ یاد رہے عربی میں عدد ۷۰ کا مطلب لیا جاتا ہے لاتعداد جیسے کہ ہم اردو میں بولتے ہیں بے شمار۔ تو آسان لفظوں میں مطلب یہ بن جائے گا کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ فیوض و برکات بے شمار دیتے ہیں۔ (جاری ہے)