عمران خان وزیر اعظم تو بن جائیں گے مگر - آصف محمود

روز کسی سیاست دان کا ضمیر انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کی غیرت و حمیت بھی ضمیر بھائی جان کے ساتھ ہی آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ندامت کے اس کربناک احساس کو ساتھ لیے توبہ کے لیے وہ بنی گالہ حاضر ہوتا ہے۔ یہاں اس کو اصطباغ دیا جاتا ہے۔ اس کے گلے میں زہد و تقوی کی علامت کے طور پر پارٹی پرچم ڈالا جاتا ہے، تالیاں بجتی ہیں، مبارک سلامت کا شور اٹھتا ہے، اور اس کے سارے گناہ پل بھر میں جھڑ جاتے ہیں۔ اس کے نامہ اعمال کی ساری سیاہی عمران خان کی پہلی نظر کرم سے دھل جاتی ہے اور وہ نقیب صبح صداقت بن جاتا ہے۔ وہ جب اس بارگاہ سے باہر آتا ہے تو اس کا قلب منور ہو چکا ہوتا ہے، اس کی آنکھوں میں خواب اتر چکے ہوتے ہیں اور اس کا وجود عزیمت بن چکا ہوتا ہے۔ اب وہ کرپٹ سیاست کا روایتی کردار نہیں ہوتا اب وہ ایک چھوٹا سا قائد انقلاب ہوتا ہے۔ نئے پاکستان کا معمار۔ اس کامیاب واردات کے بعد کپتان خان کے جلسے کے بغیر بھی اس کا ’نچنے کو دل‘ کر رہا ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے کارکنان نے عمران خان کے ساتھ ایک طویل جدو جہد کی ہے۔ یہ معمولی جدوجہد نہیں تھی۔ یہ ایک طویل ریاضت تھی۔ کارکنان نے اپنے اپنے حلقے میں سیاست کے روایتی اور ابن الوقت چہروں کی برسوں اس امید پر مخالفت کی اور مقابلہ کیا کہ عنقریب وقت کا موسم بدلے گا ، عمران خان آئے گا اور سیاست ان ابن الوقتوں کے چنگل سے آزاد ہو گی۔ اب مگر صورت حال یہ ہے کہ روز ان کارکنان کو معلوم ہوتا ہے کہ برسوں جن کرداروں کے خلاف انہوں نے روشن صبح کی امید پر مزاحمت اور جدوجہد کی، وہ اب تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں اور نہ صرف شامل ہو چکے ہیں بلکہ آج سے وہ اس قافلہ انقلاب کے قائد بھی ہیں۔ قریب قریب ہر شہر کی اب یہی کہانی ہے اور تحریک انصاف کے تعلیم یافتہ وابستگان اب کمزور اور بے ہودہ دلائل سے خود کو تسلی دیتے پائے جاتے ہیں۔ ان کی آنکھیں مگر چغلی کھا رہی ہوتی ہیں کہ اب ان کی حیثیت پرائی بارات میں عبد اللہ دیوانوں سے زیادہ نہیں رہی۔ پہلے ان کا صرف ’عمران دے جلسے اچ نچنے نوں دل کردا‘ تھا اب یہ ہر حلقے میں پرائی بارات میں دولہوں کے آگے محو رقص ہیں۔

نوید خان نے، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، بھری محفل میں روایت کیا کہ پہلے الیکشن میں بد ترین شکست کے بعد اگلی صبح جب وہ بنی گالہ پہنچے تو عمران خان نوافل ادا کر رہے تھے۔ فارغ ہو ئے تو نوید سے کہنے لگے: ’’نوید ہم کرکٹ کا میچ ہاکی کے کھلاڑیوں سے کھیلتے رہے۔ اب کرکٹ کا میچ کرکٹ کے کھلاڑیوں سے کھیلیں گے۔ اب ہمیں کرکٹ کے کھلاڑی ڈھونڈنا ہوں گے‘‘۔ یہ گویا ایک اشارہ تھا کہ اگر با معنی سیاست کرنی ہے تو وہ پیسے اور الیکٹیبلز کے بغیر ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دو ملاقاتیں (2) - روبینہ فیصل

مروجہ سیاست میں الیکٹیبلز کی اپنی اہمیت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ناگزیر برائی ہے۔ جہالت، تعصب، محرومیوں اور مجبوریوں میں گھرے معاشرے میں اس ناگزیر برائی کے بغیر فی الوقت کامیابی کا کوئی تصور نہیں۔ نظریاتی کارکن اور اس ناگزیر برائی میں اگر ایک توازن قائم رکھتے ہوئے چلا جائے تو شاید اس ناگزیر برائی کو حکمت عملی سمجھ کر گوارا کر لیا جائے لیکن یہ توازن لمحہ لمحہ ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔ کچھ عجب نہیں نامہِ سیاہ کی یہ تیرگی ہی کل تحریک انصاف کا حسن کہلائے۔

راولپنڈی سے عمران خان قومی اسمبلی کی نشست جیتے۔ اس کے بعد سے حلقہ کے لوگ اپنے قائد کا دیدار نہیں کر سکے۔ بنی گالہ کے آہنی دروازے کبھی ان لوگوں پر نہ کھل سکے۔ اس حلقے میں عمران خان کوئی کیمپ آفس تک نہ بنا سکے۔ دوسری طرف روز روایتی سیاست کا کوئی چہرہ بنی گالہ میں ایک چاند کی طرح طلوع ہوتا ہے اور اس کی بلائیں لی جاتی ہیں۔ نظریاتی کارکنان پریشان ہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ ابھی تک کسی کا ٹکٹ فائنل نہیں ہو سکا، بے یقینی کی کیفیت ہے۔ پارٹی کے اندر ایک کشمکش ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ خوف بھی ہے کہ کہیں اچانک روایتی سیاست کے کسی کرپٹ چہرے کا ضمیر جاگ گیا اور وہ پارٹی میں شامل ہو گیا تو ٹکٹ کہیں اس کو نہ مل جائے۔

نواز شریف تو بہت برا ہے، صادق ہے نہ امین۔ عدالت سے اسے نا اہل قرار دے رکھا ہے۔ لیکن ذرا بتائیے تو، یہ جہانگیر ترین کون سے زہد و تقوے کا علم لے کر داد شجاعت دے رہے ہیں۔ اسد عمر اب کاغذات نامزدگی لے کر نا اہل جہانگیر ترین کی صادق اور امین بارگاہ میں پیش ہو کر پارٹی ٹکٹ کے لیے اپنی اہلیت ثابت کر نے کے لیے انٹرویو دیں گے تو سوال تو اٹھے گا کہ ایک تاحیات نا اہل شخص اتنا اہم اور اتنا ناگزیر کیوں ہو گیا؟ جو اصول نواز شریف کے لیے وضع کیا جاتا ہے اسی اصول کا اطلاق اپنے جہانگیر ترین پر کیوں نہیں کیا جاتا؟ دیرینہ کارکنان کے ٹکٹ کا ابھی کچھ پتا نہیں انہیں ملے گا یا کوئی لوٹا آئے گا ااور اچک کر لے جائے گا۔ لیکن ایک نا اہل شخص پارٹی ٹکٹ کے معاملے میں انٹرویو کر رہا ہے۔ حامد خان نے تو کہہ دیا کہ نا اہل شخص خود ہی کچھ خیال کر لے۔ حامد خان بالکل درست بات کہہ رہے ہیں اور یہ اکیلے حامد خان کی آواز نہیں۔ اس آواز میں بہت سے آوازیں شامل ہیں۔ جہانگیر ترین کی تو پھر تجوری کا سائز بہت بڑا ہے۔ کارکنان تو حیران ہیں کہ یہ نعیم الحق کے پاس آخر کون سا ایسا فن ہے کہ یہ قائد محترم کا لاڈلا بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ناکام ہوگا - تصوّر حسین خیال

فوزیہ قصوری اور جسٹس وجیہہ الدین احمد جیسے لوگوں کو پارٹی چھوڑنا پڑتی ہے اور عامر لیاقت اور نعیم الحق سے لے کر عون چودھری اور نذر گوندل جیسے کردار معتبر ہوئے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ کوئی معمولی المیہ ہے۔ یہ اخلاقی وجود سے خوفناک بے نیازی ہے۔ یہ انتہائی غلط سوچ ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین جیسوں کا کیا کرنا ہے کہ ان کا تو کوئی حلقہ انتخاب نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگ پورے ملک کے ہر حلقے پر اثر انداز ہوتے ہیں کیوں کہ ان کی شکل میں رومان قائم رہتا ہے۔ نظریے اور مجبوری میں ایک توازن رہتا ہے کہ ہمارے پاس عامر لیاقت اور نعیم الحق ہی نہیں حامد خان اور جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگ بھی ہیں۔

عمران خان اس توازن سے شاید بے نیاز ہو چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ موسمی پرندے جو آج اڑ اڑ کر ان کی منڈیر پر آ کر بیٹھ رہے ہیں، موسم بدلا تو ایک اشارے پر یہ پُھر سے واپس اپنے گھونسلوں کو اڑ جائیں گے۔ یہ وہ بوجھ ہوگا جو قدم قدم انہیں بلیک میل کرے گا۔ پارلیمانی سیاست اعداد و شمار کا کھیل ہے اور موسمی پرندے معلوم نہیں کب الٹی گنتی شروع کر دیں۔

اس بوجھ کے ساتھ عمران خان شاید وزیر اعظم تو بن جائیں لیکن کیا ان کرداروں کے ساتھ کیا وہ کوئی معنوی تبدیلی بھی لا سکیں گے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک اور نواز شریف بن جائیں گے۔ لیکن وہ کسی تبدیلی کا عنوان نہیں بن سکیں گے۔ کیا کروں، اب داغ دہلوی یاد آگئے:
’’ حسرتیں دل کی مٹی جاتی ہیں
قافلہ ہے کہ لُٹا جاتا ہے‘‘

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.