ایک ’’کوفی ‘‘کا ’’سجدہ سہو‘‘ …2 سجاد میر

چلئے، اس پر گفتگو کر لیتے ہیں کہ بلوچ سردار اور پٹھان رہنما کیوں نسل در نسل منتخب ہوتے آئے ہیں اور پنجاب میں عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایک قبائلی اور فیوڈل معاشرے سے آپ اور کیا توقع کرسکتے ہیں۔ اسے ان کی عصبیت کہیں یا غلامانہ ذہنیت یہ ہمیشہ ایسے ہی نتائج لاتی ہے۔

پنجاب میں بھی کہیں کہیں ایسا ہوتا ہے۔

یہ Electable کون ہوتے ہیں۔ تاہم عمومی تجزیہ یہ ہے کہ پنجاب بالخصوص وسطی پنجاب میں یہ عصبیت کم ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اوپر میں نے 70ء کے انتخابات کا ذکر کیا تھا اور اس کا تجزیہ باندھا تھا اب ذرا غور کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ پنجاب زیادہ ترقی پسند، روشن خیال یا وسیع نظر کیسے ہوا۔ سیدھی سی بات ہے کہ پنجاب میں فیوڈل سٹرکچر خاصا ٹوٹ چکا ہے۔

آج ہم جی ٹی روڈ کی سوچ کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ کہ پنجاب کے بڑے علاقے میں شہری تہذیب پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

اس ملک میں جو زرعی اصلاحات ہوئیں ان کا اثر بھی اس علاقے پر پڑا۔ باقی ملک ’’محفوظ ‘‘ رہا۔ یہ الگ بحث ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ مثال کے طور پر انڈکس پروڈیوس یونٹ IPUکا جائزہ لینا بہت دلچسپ ہو گا۔ اس فارمولے کے تحت آپ لائلپور میں ایک ایکڑ زمین رکھ سکتے تھے تو لاڑکانہ میں 17,16ایکڑ۔ یہاں کا 160یونٹ کا ایکڑ تھا وہاں صرف نو کا تھا کیونکہ ان دنوں یہاں کی زمین زرخیز تھی۔ وہاں اس وقت بنجر تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اب یہاں سیم تھور بھی ہے اور وہاں پانی وافر موجود ہے۔

اب مگر ہم نے زرعی اصلاحات سے توبہ کر لی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ وسطی پنجاب میں فیوڈل سسٹم ٹوٹ چکا تھا۔ اس لیے یہاں کی سوچ زیادہ ترقی پسندانہ تھی(ان معنوںمیں نہیں جن معنوںمیں ہمارے ہاںکے دانشور استعمال کرتے ہیں) پنجاب نے اس لحاظ سے ایک ایسے لیڈرکو ووٹ دینے میں حرج نہ سمجھا جو غیر پنجابی تھا۔ یہ ووٹ علاقائیت کی بنیاد پر نہ تھا، قومیت کی بنیاد پر نہ تھا، قوم کی بنیاد پر تھا۔ یہ ان دنوں بہت بڑی بات تھی۔ بہت بڑی تبدیلی تھی۔ یہ الگ بات کہ یہ ووٹ ہمیں پسند نہ آیا جہاں جہاں قبائلیت ‘ جاگیرداری مضبوط زمینداری ہے‘ زرعی معیشت کا قبضہ ہے وہاں ووٹ موروثی بنیادوں پر پڑتا ہے جو کوئی اچھی بات تو نہیں۔

بھٹو ‘ لاہور سے جیت گیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود سے ہار گیا۔خود سندھ کے اندر پیپلز پارٹی کی صوبائی سندھ کی 60نشستوں میں سے صرف 28پیپلز پارٹی کی تھیں۔ لوگوں نے اپنے اپنے وڈیروں کو ووٹ دیے تھے۔ جنوبی پنجاب میں جہاں زرعی معیشت کا کنٹرول تھا، بھٹو کو مشکل ہوئی تھی۔ قبائلی اورجاگیرداری معاشروں کی عصبیت کی میں داد نہیں دے سکتا اور پنجاب کی ’’ترقی پسندی‘‘ پر لعن طعن بھی نہیں کرسکتا۔

ہمیں ان نشانیوں کو سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ایک بہت بڑے مارکسٹ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے جن کا گزشتہ دنوں کراچی میں قتل ہوا ہے وہ ان دنوں ایم کیو ایم میں تھے۔ کیا نام ہے حسن عارف، نہیں کچھ اور۔ میں نے ان سے پوچھا آپ ادھر کیا کر رہے ہیں کہنے لگے نواز شریف قومی بورژوازی ہے جو جاگیرداری سے بہتر ہے۔ اس لیے میںاس کے ساتھ ہوں۔ یہ نہیں کہ بلوچ اور پشتون نسل در نسل اپنے قائدین کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ یہ کہ ان کا معاشرہ ابھی دقیانوسی ہے۔ یہ لفظ میں نے دانستہ چھیڑنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ مطلب یہ کہ قبائلیوں سے آپ اور کیا توقع کرتے ہیں۔

وڈیروں کے زیر تسلط بسنے والے ہاری کس طرح سوچتے ہیں اگر ان میں تبدیلی آ رہی ہے تو یہ ہمارے لیے بڑا زندہ سوال ہے۔

بس انہیں سمجھنا ہو گا۔ اس حوالے سے پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلق کا بھی اندازہ لگانا ہو گا۔ پنجاب کو اپنی فوج پر فخر ہے۔

اس فوج پر تو دنیا فخر کرتی تھی۔ مشہور برطانوی جنرل منٹگمری نے کہا تھا کہ پی ایم دنیا کے بہترین پیادہ سپاہی ہیں۔ (انفنٹریرین) PMکا مطلب ہے پنجابی مسلم۔ پنجابی مسلم کا مطلب ہے کہ اس میں سکھ شامل نہیں یہی لوگ اب پاک فوج کا بڑا حصہ ہیں۔ پنجاب اور یہ فوج ایک ہے تو اس کے اسباب ہیں۔ان کے اثرات ہیں تو اس کا مطلب ہے۔ ویسے یہ اثرات پاکستان میں کہاں نہیں۔ کہیں فطری طور پر کہیں غیر فطری انداز میں۔ غصہ آئے تو آدمی کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔

لاہور ہی کے ایک شاعر نے کہا تھا: لاہور عجیب ہو گیا ہے کوفے کے قریب ہو گیا ہے میں نے بحث کو یہیں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کراچی کے بہت ہی مثبت کردار اور پنجاب بالخصوص لاہور کے ملکی سیاست پر اثرات کا تذکرہ کروں گا۔ مجھے 77 میں اپنی ایک تحریر بھی یاد آئی تھی جو میں نے انتخابات کے فوراً بعد لکھی تھی۔ کیوں نہ لگے ہاتھوں ان باتوں کا ذکر ہو جائے۔ کراچی بہت بڑے صدمے سے گزرا تھا۔

وہ جیت گیا تھا مگر تنہا رہ گیا تھا۔ پورے پاکستان میں قومی اتحاد کے حصے میں 36 نشستیں آئی تھیں جن میں 9 کراچی کی تھیں۔ صرف دو نشستیں پیپلزپارٹی کو گئی تھیں۔ اس نے باہر سے آنے والوں کو بھی ووٹ دیا۔

ایئر مارشل اصغر خان اور شیرباز مزاری اسی شہر سے جیتے تھے۔ ایئر مارشل نے تو فرزند کراچی کہلانے والے رہنما کو مات دی تھی۔ کراچی سچ مچ ایک کاسمو پولیٹن شہر تھا۔ اس کی سوچ میں وسعت تھی۔ کراچی کی یہ تنہائی نئی نہ تھی۔

آغاز 1964ء میں ہوا تھا جب مغربی پاکستان میں صرف کراچی نے ایوب خان کی آمریت کے مقابلے میں مادر ملت سے یکجہتی دکھائی تھی۔

انتخابات کے بعد گوہر ایوب نے جس طرح ایک طرح سے شہر پر چڑھائی کی تھی اسے کراچی کبھی نہ بھولا۔ میں 73ء میں اس شہر میں گیا تھا، اس وقت بھی اس کے اثرات تھے۔ لوگ راتوں کو کھمبے بجا بجا کر ایک دوسرے کو، ساتھ والی آبادیوں کو تنبیہ کرتے تھے کہ ہوشیار رہو، گویا حملہ آور آ رہے ہیں۔ ایسا سماں تو تقسیم کے وقت ہوگا۔ لوگوں کو وہ زخم یاد آگئے ہوں گے۔ اس کے بعد کی کہانی میں نہیں سنائوں گا کہ ایم کیو ایم کیسے بنی۔ کراچی کی اشرافیہ تک کیسے اس کے چنگل میں آئی۔ اس وقت صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ صنعتی معیشت، معاشی سرگرمیوں اور شہری تہذیب نے شہر کو کیسا سیاسی مزاج عطا کیا تھا۔ پھر یہ دارالحکومت بھی تھا، بندرگاہ بھی تھی۔

شہروں اور علاقوں کے مزاج ایسے بنتے ہیں۔ خود کراچی کے اندر کئی مزاج ہیں۔ رہنے دیجئے، پھر دوسری بات چھڑ جائے گی۔ قومی اتحاد کی تحریک کے دوران مجھے 9 اپریل 1977ء کا وہ دن اب بھی یاد ہے کہ جب لاہور کے شہریوں نے صوبائی اسمبلی کے سامنے خون کا نذرانہ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔

میں شام کو اپنے دو تین ساتھیوں کے ساتھ مسلم لیگ ہائوس پہنچا۔ ان دنوں گرفتاریوں کے بعد قیادت غالباً ملک قاسم کے پاس تھی۔ وہ وہاں موجود تھے۔ میں نے انہیں ان کی یہ بات یاد دلائی کہ جب تک لاہور نہیں جاگتا، ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ عرض کیا کہ حضور اب تو لاہور جاگ اٹھا ہے۔ وہ مگر ابھی تک مطمئن نہ تھے۔ کہنے لگے، یہ تمہارے امرتسری ہیں، نسبت روڈ سے آتے ہیں، اصل لاہور کو جاگنے دو۔ یہ تو مجھے نہیں معلوم کہ اصل لاہور کون سا ہے، اتنا معلوم ہے یہ لاہور کا خاصا ہے کہ وہ ملکی سیاست کا مرکز و محور ہے۔ اسے یہ حیثیت اور مقام کیسے ملا، اس کے لیے الگ تجزیہ درکار ہے جب اس نے بھٹو کو قبول کیا تو اس بات کا اعلان تھا کہ پورا ملک بھٹو کے قدموں میں آ چکا ہے۔

اور جب اس نے رد کیا تو پھر بھٹو کے نام لیوا شور مچاتے رہے مگر کچھ حاصل نہ کرسکے۔ شہروں اور علاقوں کی اپنی اپنی شان ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ میں ہندوستان کے کئی علاقوں اور شہروں کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ ان کے بارے میں کراچی میں کیا کیا مشہور تھا۔ اصل بات ہے کہ تاریخ بعض مقامات کو مخصوص حالات میں مخصوص کردار عطا کرتی ہے۔ انہیں اس سے محروم کیا جاتا ہے تو بڑی خرابی پیدا ہوتی ہے۔

کراچی کی مثال سامنے ہے۔ اس کی تنہائی نے اپنے لیے کیسے اپنی ’’اہمیت‘‘ ڈھونڈی۔ خدا نہ کرے یہ معاملہ کسی اور شہر یا علاقے کے ساتھ ہو۔ چلتے چلتے یہ بھی عرض کرتا چلوں، بصد احترام کہ پنجاب کو نہ چھیڑو، اس سے بہت بڑی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔