عزتِ نفس! عزتِ نفس!! محمد اظہارالحق

میری لینڈ امریکہ میں چھ ایکڑ زمین، مختلف کمپنیوں میں شیئرز۔ بھائی کو دو لاکھ ڈالر(دو کروڑ سے زائد) بیرون ملک بھجوائے۔ نیو گارڈن ٹائون میں گھر۔

سرگودھا کے گائوں میں 272کنال زمین۔ کوٹ مومن میں 20کنال زمین۔ دو سو تولے سونا، ایل ڈی اے میں پلاٹ نمبر 701 ڈی بینک الفلاح سوسائٹی میں دو پلاٹ۔

حافظ آباد میں ایک سو چودہ کنال زمین ایمپلائز کواپریٹو ساسائٹی اسلام آباد میں پلاٹ۔ کرباٹھ لاہور میں تین کنال زمین۔

کرباٹھ ہی میں چودہ کنال کا پلاٹ۔ کرباٹھ ہی میں تین کنال 12مرلے کا ایک اور پلاٹ۔ گائوں ٹھیرا میں آٹھ کنال زمین بھائی کے نام منتقل کی۔

موضع ڈوھری میں 21کنال چار مرلے کی زمین۔ دو ٹریکٹر بھی نام پر ہیں۔ اسلام آباد میں ہِل لاک ویو میں فلیٹ نمبر 1004ملکیت میں ہے۔

ایف آئی اے سوسائٹی میں دو پلاٹ ہیں۔ اسلام آباد کی ایک اور سوسائٹی(ایف جی ای سی ایچ ہائوسنگ) میں دو پلاٹ بیگم کے نام پر۔ موضع جلکے میں 17کنال زمین۔

زیڈیم ڈی ویلیپر میں دو پلاٹ۔ ایک کروڑ کی اَن رجسٹرڈ گاڑی پراڈو ملکیت میں، دو ہونڈا وی ٹی آئی اور دو ہونڈا سٹی اپنے نام بُک کروائی ہوئی ہیں۔ دو آئل ٹینکر بھی ملکیت میں ہیں۔

30لاکھ کی سرمایہ کاری میوچل فنڈز میں کی ہوئی ہے۔ یہ تفصیلات اُس نوجوان افسر کے حوالے سے مبینہ طور پر سامنے آئی ہیں جو اِن دنوں سلاخوں کے پیچھے ہے۔

شاید اُس کی کل سرکاری ملازمت کا عرصہ بیس سال بھی نہیں ہوا۔ دقت یہ ہے کہ خادمِ اعلیٰ پنجاب سے یہ پوچھے کون کہ ان کے پسندیدہ ماتحت کے پاس یہ سارا مال، زمینیں، پلاٹ، گاڑیاں، ٹریکٹر، شیئر، کیسے آئے؟ کہاں سے آئے؟ دونوں شریف برادران کا ریکارڈ یہ ہے کہ کسی سوال کا جواب نہیں دیتے۔

یہ جو ہر روز زرداری کی دولت کے تذکرے کرتے ہیں تو اُن سے پوچھنا چاہیے کہ جب نواز شریف کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے زرداری کی گاڑی خود ڈرائیو کی اور ستر سے زیادہ پکوان پکائے گئے، کیا اُس وقت زرداری کی دولت ملک سے باہر نہیں تھی؟ میراسی جوا کھیل رہا تھا۔

پیسہ ختم ہوا تو مکان دائو پر لگا دیا۔ وہ بھی چلا گیا تو بیوی کو دائو پر لگا دیا۔ بیوی نے کہا ہار گئے تو یہ مجھے لے جائیں گے۔ میراسی بولا، کیسے لے جائیں گے؟ میں ہارمانوں گا تو جبھی لے جائیں گے نا! میں تو مانوں گا ہی نہیں! شہباز شریف کوئی بات مانتے ہی نہیں! بیورو کریسی کو دونوں بھائی دیمک کی طرح چاٹ گئے۔ افسروں سے یہاں تک کہ اہلکاروں سے بھی دوستیاں لگائیں اور کرپٹ کیا۔ اب خادمِ اعلیٰ کے انتہائی قریبی عزیز کی سنیے۔

ان کے اکائونٹ میں کروڑوں روپے گئے۔

پاور ڈی ویلپمنٹ کمپنی کے بارہ کروڑ کسی معاہدے کے بغیر اکائونٹ میں منتقل ہوئے۔ پچھلے دنوں لاہور میں بیان دیا کہ ہم سکھائیں گے یونیورسٹیاں کیسے بناتے ہیں۔

کوئی پوچھے کہ کتنی یونیورسٹیاں بنائی ہیں؟ ایک دو ہی کے نام بتا دیجیے۔

دوسری طرف بڑے میاں صاحب نے یہ کہہ کر کہ ان کی بیٹی کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، اپنے آپ کو ایک اور گڑھے میں گرا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے خاص طور پر جواب آںغزل کے طور پر بتایا ہے کہ خود نواز شریف صاحب بے نظیر بھٹو کو عدالتوں میں گھسیٹتے رہے۔ خود اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ ان بھائیوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔

معروف کالم نگار انجم نیاز نے ایک واقعہ لکھا جو اُن کے ساتھ براہِ راست پیش آیا۔ 23مارچ 1990ء کو وزیر اعظم بے نظیربھٹو نے مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ امریکہ سے تین خواتین صحافی بھی مدعو تھیں۔ یہ خواتین انجم کے ہمراہ جلسہ گاہ کی طرف جا رہی تھیں کہ پیچھے مردوں کا ایک جتھہ آ گیا جس نے غیر مناسب حرکتیں شروع کر دیں۔ پھر ان حرکتوں میں شدت آنے لگی۔ ان مردوں کے ہاتھ ہر سمت میں حرکت کر رہے تھے۔

اذیت کا یہ دورانیہ بیس منٹ جاری رہا۔ غیر ملکی خواتین چیخ چیخ کر انہیں اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ڈائس پر پہنچنے کے بعد یہ لوگ تتربتر ہوئے۔ جلسہ ختم ہوا تو یہ غنڈے پھر نمودار ہو گئے۔ مگر اُس وقت کے سیکرٹری اطلاعات نے اپنے ساتھیوں سمیت مہمان خواتین کے گرد حصار بنا لیا۔ انجم نیاز لکھتی ہیں کہ پریس سیکرٹری نے بتایا۔ ’’وہ لوگ پنجاب حکومت کے کرائے کے غنڈے تھے جنہیں اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کر کے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے وزیر اعظم کو شرمندہ کریں۔‘‘ آج نواز شریف صاحب رونا روتے ہیں کہ ماضی کے وزرائے اعظم کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔

مرکز میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور میاں صاحب پنجاب میں وزیر اعلیٰ تھے تو ہر ممکن عدم تعاون انہوں نے کیا۔ تیری پگ تے لگ گیا داغ۔ کا نعرہ لگا کر صوبائیت کو ہوا دی۔ کبھی پنجاب بنک کا ڈول ڈالا۔ کبھی اپنے الگ ٹی وی چینل کی بات کی۔ وزیر اعظم جس پروٹوکول کی مستحق تھیں، نہ دیا۔ ججوں کے ساتھ ان کی خفیہ گفتگو منظرِ عام پر آچکی ہے۔ کروڑوں افراد نے اس شرم ناک گفتگو کو سنا اور سن رہے ہیں۔

مگر میاں صاحب سے ان سب واقعات کے بارے میں، براہِ راست کسی پریس کانفرنس میں، یا کسی انٹرویو میں، کچھ پوچھنا ممکن ہی نہیں۔ ایک عام انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے یہ سوچ کر کہ جب نواز شریف صاحب اپنی بیٹی کی تکلیف کا ذکر کرتے ہیں تو کیا واقعی انہیں ماضی بالکل یاد نہیں رہتا؟ یا سب کچھ یاد رکھتے ہوئے بھی، اعصاب اس قدر مضبوط ہیں کہ ایسی گفتگو کیے جاتے ہیں؟ عزتِ نفس! عزتِ نفس!! ایک عام شہری یا دیہاتی پر یہ نوبت آتی ہے کہ عزتِ نفس کا مسئلہ درپیش ہو جائے تو وہ سب کچھ بھاڑ میں جھونک کر عزتِ نفس بچا لیتا ہے۔ ماں بیٹی بہن یا بیوی کو کچہری نہیں چڑھاتا۔

سب کچھ تج دیتا ہے۔ صلح کر لیتا ہے یا متنازع مال اسباب زمین زیور سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ مگر میاں صاحب کی تھیوری یہ ہے کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ پراپرٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا۔ دروغ گوئی تو کوئی مسئلہ ہی نہیں! گھر کی خواتین عدالتوں میں آتی جاتی رہیں، بس یہ ہے کہ دولت بچ جائے۔

کیا کوئی صحیح الدماغ شخص یہ سودا خریدے گا کہ بیٹوں کی جائیداد سے باپ کا کوئی تعلق نہیں؟ زرپرستی کا عالم یہ ہے کہ خاندان کا ایک ایک فرد جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے۔ کوئی عام شہری مقدموں کا سامنا کر رہا ہوتا تو اس کے بیٹے ایک ثانیہ بیرونِ ملک نہ بیٹھتے۔ واپس آ کر سیدھے عدالت میں آتے، اپنے آپ کو پیش کرتے اور کہتے کہ ہم حاضر ہیں۔ ہم مجرم ہیں۔ سب کچھ بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر ہمارے محترم والد کو کچھ نہ کہیے۔ ہمیں ان کی عزت عزیز ہے۔

عدالت میں ہم پیش ہوں گے۔ ازراہِ کرم انہیں اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔ مگر یہاں چشمِ فلک ایک عجیب منظر دیکھ رہی ہے۔

باپ اور بہن ہر روز پیشیاں بھگت رہے ہیں اور دونوں بھائی ہزاروں کوس دور لندن کی پرکیف فضا میں عیش کر رہے ہیں کہ ہم تو پاکستانی ہی نہیں! ہم پر پاکستانی قانون کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ ہمارے والد اور ہماری بہن سے پوچھیے جو پوچھنا ہے۔ وہی بھگتیں گی! کون ہے جسے اس مقام پر وہ عبرت ناک لطیفہ یاد نہ آئے گا۔ بیٹا ہانپتا کانپتا گھر میں داخل ہوا کہ عزت بچا کر بھاگا ہوں۔ شکر ہے گھر پہنچ گیا۔ پچھلے چوک پر لوگ والد صاحب کو مار رہے ہیں! خود میاں صاحب بھی یہی کھیل کھیل رہے ہیں۔

سب کچھ اپنے مرحوم والد گرامی کے ذمے لگا رہے ہیں۔ آگے، اُن کے بیٹے، اپنے والد کے ساتھ یہی کچھ کر رہے ہیں۔ ایک کم ظرف نے بیٹے کو پرانا، پھٹا ہوا کمبل دیا کہ جائو دادا کو دے آئو۔ بیٹے نے قینچی سے کمبل کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ لیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو یہ کہنے لگا۔ آپ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

زمانہ 1530ء کا تھا۔ مقام سنبھل تھا۔ ہمایوں بیمار پڑ گیا۔ بہت زیادہ بیمار۔ جان کے لالے پڑ گئے۔ اسے دارالحکومت آگرہ منتقل کیا گیا۔ وقت کے نامی گرامی ڈاکٹر حاضر کیے گئے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ پھر ایک فقیر نے بابر سے کہا تم اپنی گراں بہا شے اللہ کے راستے میں قربان کرو۔ کیا خبر اللہ تعالیٰ شفا دے دے۔ بابر نے پوچھا مثلاً کیا؟ نیک شخص نے جواب دیا مثلاً کوہ نور ہیرا! مگر بابر کا استدلال تھا کہ ہیرا تو ہمایوں کی ملکیت ہے۔

اس کا ہے ہی نہیں! پھر بابر نے کہا کہ ساری دولت، ساری سلطنت سارا خزانہ بھی دے دوں تو قیمتی شے تو پھر بھی میرے پاس ہی رہے گی اور وہ میری جان ہے! میں اپنی جان کی قربانی دوں گا۔ پھر بابر نے بیمار بیٹے کے بستر کا طواف کیا اور پروردگار کے حضور اپنی جان پیش کی! کرنا خدا کا کیا ہوا، ہمایوں رُوبہ صحت ہونے لگا اور بابر بیمار پڑ گیا۔ خالقِ کائنات نے قربانی منظور فرمالی تھی!! آج میاں صاحب کی رفیقِ زندگی بیمار ہیں۔

ہر پاکستانی، سیاسی علائق سے قطعِ نظر۔ ان کی صحت کے لیے دعا گو ہے۔ ہم بھی دست بدعا ہیں کہ خداوندِ قدوس بیگم صاحبہ صاحبہ کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور وہ جلد صحت مند ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزاریں! کیا ایسا ممکن نہیں کہ میاں صاحب پروردگار کے ساتھ عہد کریں کہ میں اپنی دولت کے ذرائع قوم کو اور عدالتوں کو بتانے کے لیے تیار ہوں۔

میں بیرون ملک سے سب کچھ سمیٹ کر واپس وطن لاتا ہوں۔ میں اپنے بیٹے کو بھی اپنے وطن کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ ملک میں رہ کر ملک کی خدمت کریں۔ اس کے بدلے میں اے صحت اور بیماری کے مالک! میری اہلیہ کوصحت کی دولت سے نواز دے! آمین ثم آمین! قدرت کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں! بابر بادشاہ تھا۔ قدرت نے اس کی قربانی منظور فرمالی! میاں صاحب بھی بادشاہ ہیں! کیا عجب قدرت ان کی یہ پیشکش قبول فرما لے! ہم آخر میں بیگم صاحبہ کی صحت کے لیے ایک بار پھر دست بدعا ہیں!