بان بند رکھنے کا موسم ! عطا ء الحق قاسمی

قیام پاکستان سے قبل ایک معروف شاعر کی ایک نظم اس وقت کے ایک مقبول ادبی پرچے میں شائع ہوئی تھی۔ یہ نظم گزشتہ روز ایک دوست نے مجھے سنائی ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

چھم چھم چھم
چھم
چھم چھم چھم چھم چھم چھم
چھم چھم
چھم.... چھم.... چھم.... چھم
میں نے اپنے دوست سے یہ نظم سنی تو پریشان ہو کر پوچھا ’’یہ کیسی نظم ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟‘‘ دوست نے بتایا کہ جب یہ نظم متذکرہ پرچے کے ایڈیٹر کو موصول ہوئی، تو وہ بھی پریشان ہوا تھا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تھا جس پر شاعر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا عنوان ’’برہن‘‘ ہے اور اب اس حوالے سے نظم پڑھی جائے تو سمجھ میں آ سکتی ہے۔

ایڈیٹر نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘ اس پر شاعر نے نظم کی تشریح کرتے ہوئے کہا پہلی لائن میں یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ایک جدائی کی ماری ہوئی دوشیزہ اپنے گھر میں بیٹھی ہے اور اس دوران کوئی دروازے کی کنڈی کھڑکاتا ہے۔ چھم چھم چھم، اس پر وہ چونکتی ہے۔

چھم، کہ شاید اس کا محبوب آ گیا۔ چنانچہ وہ تیزی سے دروازے کی طرف جاتی ہے۔ چھم۔ چھم۔ چھم۔ چھم۔ چھم۔ چھم۔ وہ کنڈی کھولتی ہے چھم چھم! مگر سامنے دودھ والا ہوتا ہے جس پر اس کی ساری خوشیاں خاک میں مل جاتی ہیں چھم! اور پھر وہ اسی مایوسی کے عالم میں ہولے ہولے چلتی واپس اپنی جگہ آ جاتی ہے چھم چھم چھم

چھم!
ظاہر ہے اس وضاحت کے بعد ایڈیٹر کو یہ نظم نہ صرف سمجھ میں آ گئی بلکہ اسے اپنی ناسمجھی پر رونا بھی آیا چنانچہ اس نے یہ نظم بڑے اہتمام کے ساتھ اپنے رسالے میں شائع کی۔ میرے دوست کے مطابق جب یہ نظم شائع ہوئی تو پطرس بخاری مرحوم کو بہت پسند آئی، چنانچہ اس پیٹرن پر انہوں نے بھی دو تین مختصر سی نظمیں لکھیں جن میں سے ایک درج ذیل ہے۔

میائوں
میائوں میائوں میائوں
عف
ایک بار قتیل شفائی نے دو لفظوں کی نظم لکھی
پیسے ۔۔۔۔۔کیسے؟

ستم ظریف سید محمد کاظم نے ایک لفظ مزید اضافہ کر کے نظم کو ایک نیا رنگ دے دیا اور وہ لفظ تھا
ایسے!

بہرحال جب میں اپنے دوست سے اول الذکر نظم کی تشریح، پس منظر اور پیش منظر نیز اسی اسلوب میں لکھی گئی پطرس کی نظم سن چکا تو میں نے پوچھا کہ اے عزیز! تجھے آج یہ نظم اور اس کا ’’فالو اپ‘‘ کیوں یاد آیا، تو اس نے بتایا کہ دراصل ان دنوں وہ بھی شاعری کے اس تجربے سے گزر رہا ہے جس میں لفظ ساکت ہو جاتے ہیں اور منظر متحرک نظر آتے ہیں چنانچہ اس پیٹرن پر چند ایک نظمیں اس نے بھی لکھی ہیں۔ میری فرمائش پر جو ایک نظم اس نے سنائی وہ بھی سن لیں
ا ا ا ا
ب ب ب ب ب
ج ج ج ج ج ج
د د د د د د
مگر سچی بات یہ ہے کہ میں یہ نظم پوری نہ سن سکا چنانچہ ’’د‘‘ کی تختی سن کر میں نے اسے روک دیا اور بہت اضطراب کے عالم میں اس نظم کا مطلب پوچھا۔ دوست نے یہ سن کر نظریں نیچی کر لیں اور کہا ’’وہ جو نظم میں نے شروع میں تمہیں سنائی تھی شاعر کو اس کا مطلب پتہ تھا مگر اس کے اتنے برس بعد جو نظم میں نے کہی ہے، اس کا مطلب مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے۔ اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ دوست نے کہا ’’مطلب یہ کہ لفظ پہلے سے زیادہ گونگے ہو کر رہ گئے ہیں۔

وہ تو ٹھیک ہے مگر تم اس نظم میں کیا کہنا چاہتے ہو۔ دوست نے سگریٹ سلگایا اور کہا ’’اس نظم میں، میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ میں ایک غریب آدمی ہوں اور زبان کھولنے کا زمانہ نہیں ہے۔

سو آج کل میرے کچھ دوست ہیں جو اپنی نظموں میں یہی کہنا چاہتے ہیں۔ ان سے اگر ابلاغ کی بات کریں تو وہ منیر نیازی کو ’’کوٹ‘‘ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابلاغ کی حیثیت بلغم جیسی ہو کر رہ گئی ہے لہٰذا بات وہی اچھی اور شمار اسی کا اعلیٰ ادب میں جو نہ صید کی سمجھ میں آئے نہ صیاد کی۔ میں اگر کبھی ان سے سفارش کرتا ہوں کہ کم از کم صید کو اپنے حلقۂ معافی میں شامل کر لو تو وہ تڑپ تڑپ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں سیاستدان نہیں شاعر ہوں۔ مجھے تمہارے حلقۂ معافی سے کوئی الیکشن نہیں لڑنا۔