پھر نہ کہنا مجھے کیوں نکالا؟ - جہانزیب راضی

صدر ایوب خان کی کابینہ میں خوش قسمتی سے ایک ہی سویلین وزیر تھا اور وہ بھی "لایا گیا" تھا۔ مسٹر بھٹو ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے اہم عہدے پر فائز تھے۔ سابق فارن آفیسر کرامت اللہ غوری نے اپنی کتاب "بار شناسائی" میں لکھا ہے کہ 1965 کی جنگ چھیڑنے والے بھی مسٹر بھٹو ہی تھے۔ وہ فوج کو اس کے "اصل" کام پر لگا کر اپنے "اصل" کام پر لگنا چاہتے تھے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔

لیکن بہرحال جس گملے میں بھٹو نام کا "پودا" لگا تھا وہ راولپنڈی چھاؤنی ہی تھی۔ 1970 سے 1977 تک بھٹو صاحب کو پورے ملک میں کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔ اتنا "پاور فل" اور بے خوف لیڈر آج تک پاکستان کی تاریخ میں نہیں گزرا۔ پانچ سینئیر کمانڈرز کو بائے پاس کر کے کور کمانڈر ملتان جنرل ضیاء الحق جیسے "تابعدار" آدمی کو بھٹو صاحب نے چیف آف آرمی اسٹاف بنادیا۔ لیکن "وقت" بھلا کب کسی کا دوست رہا ہے؟

ضیاء الحق نے راتوں رات بھٹو صاحب کو قبضے میں لے لیا۔ بھٹو صاحب اتنے عقلمند آدمی تھے کہ انہوں نے چوں چراں کئیے بغیر اپنے "اگانے" والوں کے سامنے سرنڈر کردیا۔ جب بھٹو صاحب کو ضیاء الحق کے سامنے پیش کیا گیا تو بھٹو صاحب نے ہاتھ باندھ کر عرض کی "سر! اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ "۔ جواب میں جنرل ضیاء الحق نے اسی تابعداری کے ساتھ جواب دیا "سر! آج کی رات آپ آرام سے بیوی بچوں کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس میں گزاریں۔ میں کل آپ کو بتاؤں گا۔"

محترم ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں تاریخی الفاظ کہے کہ "جب میں مروں گا تو ہمالیہ روئے گا"۔ہمالیہ نے تو خیر کیا رونا تھا؟ ان کی سزائے موت والے دن تو لاڑکانہ کے اندرون تک میں کوئی دوکان بھی بند نہیں ہوئی۔ نہ کوئی ٹائر جلا اور نہ ہی کوئی پتھر پھینکا گیا۔ جنہوں نے اس پھول کو پانی دے کر کھلایا تھا، انہوں نے ہی بڑی آرام سے مرجھا بھی دیا۔

یہ 1985 کی بات ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف تھے جبکہ سندھ میں غوث علی شاہ وزارت اعلیٰ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نواز شریف کو اپنا بیٹا بولا کرتے تھے اور اپنا دایاں بازو بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر میاں صاحب ضاء الحق کے دائیں جانب چلتے نظر آتے تھے۔ 1985 میں جونیجو لیگ بنائی گئی۔ جنرل جیلانی ضیاء صاحب کے کرتا دھرتا تھے۔ انہوں نے ایک میٹنگ بلائی اس میں تمام سیاستدانوں کو شمولیت کی دعوت دی گئی۔ جب پوچھا گیا کہ وزیر اعظم کا فیصلہ کیسے ہوگا؟ تو جنرل جیلانی نے دروازے پر کھڑے پگ لگائے سپاہی کو آواز دی۔ سپاہی قریب آیا تو جنرل جیلانی نے اس سے پگ لے کر محترم میاں نواز شریف صاحب کے سر پر رکھ دی۔ محفل پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور مسکراتے ہوئے بولے " لو ہوگیا وزارت عظمیٰ کا فیصلہ۔" اس طرح تو عظمیٰ کی شادی کا فیصلہ نہیں ہوا ہوگا جس طرح سے میاں صاحب کی وزارت عظمیٰ کا فیصلہ کیا گیا۔ اس واقعے کی تصدیق حافظ سلمان بٹ سے کی جاسکتی ہے۔ وہ بذات خود اس کمرے میں موجود تھے۔

تین سینئیر جنرلوں کو "بائے پاس" کر کے لگائے جانے والے جنرل پرویز مشرف نے جمہوری حکومت پر شب خون مار کر اپنی ہی "قوم" کے لگائے ہوئے پودے کو باغ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ میاں صاحب بھٹو صاحب سے زیادہ عقلمند آدمی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جو مجھے "لائے" تھے اب میں ان کی گڈ بک میں نہیں رہا ہوں۔ اس لیے اپنے " بڑوں " سے معافی مانگ کر اور نوے سوٹ کیس لے کر لانڈھی جیل سے سیدھا "پیا دیس" سدھار گئے۔ قسمت کی "دیوی" 9 سال بعد دوبارہ مہربان ہوئی۔ میاں صاحب واپس "لائے گئے"۔ ٹاس کے نتیجے میں پہلے زرداری صاحب کی باری آئی اور پھر پوری ایمانداری کے ساتھ "35 پنکچر" لگا کر اور نہ جانے کیا کیا کر کے "پگ" دوبارہ میاں صاحب کے نازک سے سر پر رکھ دی گئی۔ لیکن اس دفعہ پھر "بڑوں" کو اپنے لگائے ہوئے پودے سے اتنا تناور درخت بننے کی امید نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے بہت پیار اور آرام سے ایک دفعہ پھر پورا درخت ہی چمن سے باہر نکال دیا۔ میاں صاحب! اتنی چھوٹی سی بات پر اتنا سیخ پا کیوں ہوتے ہیں؟ جو آپ کو لائے تھے وہی تو لے کر گئے ہیں۔ جنہوں نے سہرا سجایا تھا، انہوں نے ہی طلاق دلوادی ہے۔ اس میں اتنے پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟

اب یہ دونوں "جوڑے" پہن پہن اور بدل بدل کر خاصے بوسیدہ، پرانے اور میلے ہوگئے ہیں۔ اس لیے اب یہ "پگ" کسی "اور" کے سر سجے گی۔ اس دفعہ ایمپائر صرف انگلی نہیں اٹھائے گا آپ کو "فری ہٹ" بھی دے گا۔ الیکٹیبلز کی فوج کی فوج نے پتہ لگا لیا ہے کہ اب کون سی شاخ پر بیٹھنا ہے اور جس شاخ پر سب سے زیادہ الیکٹیبلز بیٹھے ہیں "آشیانہ" اب وہیں بنے گا۔ لیکن جناب! آپ بھی اپنے پیش رو بھٹو صاحب اور میاں صاحب کی طرح سنجیدہ مت ہوجائیے گا۔ جیسے لائے جائیں گے ویسے ہی ہٹائے جائیں گے۔ پھر نہ کہنا کہ "مجھے کیوں نکالا؟"