حقیقی روزے دار کون؟ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے (بمطابق رؤیت 9) 10- رمضان - 1439 کا خطبہ جمعہ بعنوان "حقیقی روزے دار کون؟" مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ رمضان کا عشرہ مکمل ہونے والا ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، یہ لوگ جنت اور مغفرت کی تمنا تو رکھتے ہیں لیکن اس کے لیے عملی اقدامات سے عاری ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بد دعا ہے،  مزید انہوں نے یہ بھی کہا کہ: کچھ لوگ بڑے بڑے پاپوں میں ملوث ہونے کے باوجود بھی معمولی معمولی چیزوں کے بارے میں پوچھیں گے کہ ان سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا!؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کا بھی بھلا کوئی روزہ ہے جو اپنی اولاد ، بیوی اور اہل خانہ کا خیال نہ کریں، والدین سے قطع تعلقی، نمازوں سے لا پرواہی برتیں، بھائیوں بہنوں کی وراثت ہڑپ کر جائیں،  یتیموں مساکین کا حق ماریں اور اوقاف کے مال پر قبضہ کریں، بھلا ان کا کوئی روزہ ہے؟ ان کا صرف واجبی روزہ ہے! انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روزے کے دوران آنکھ، کان اور زبان کا بھی روزہ ہونا چاہیے، وگرنہ روزے  کا بدلہ بھوک پیاس اور تراویح میں تھکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا، دوسرے خطبے میں انہوں نے بارگاہ الہی میں حاضر ہو کر توبہ تائب ہونے کی ترغیب دلائی کہ یہ ماہ رمضان کی امتیازی خوبی ہے، پھر آخر میں سب کے جامع دعا فرمائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ، نبی، چنیدہ، راز دار، ولی، پسندیدہ اور برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے جب تک صبح کا اجالا چمکتا رہے اور پو پھوٹتی رہے۔

روزے دارو!

اللہ تعالی سے ڈرو اور اس کے لیے اللہ تعالی کے پسندیدہ کام کرو، اس کی نافرمانی سے بچو، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔ [البقرة: 183]

روزے دارو!

رمضان کے ابتدائی ایام گزر چکے ہیں اور ایک عشرہ مکمل ہونے والا ہے، اس لیے نیکیوں کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لو، بھر پور محنت اور تگ و دو کرو، اس سے پہلے کہ یہ بابرکت مہینہ گزر جائے اور رخت سفر باندھ لے نیکیاں کما لو۔

روزے دارو!

تعجب کی بات ہے کہ روزے کچھ لوگوں کی رمضان میں بھی اصلاح نہیں کر پاتے، نہ ہی رمضان کا قیام اسے جھنجھوڑتا ہے، اور اس کے شب و روز میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آتی!

ان لوگوں پر بھی تعجب ہے جو رمضان پا کر جنت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کی تمنا تو رکھتے ہیں لیکن پھر بھی پورا رمضان لہو و لعب، ممنوعہ اور حرام امور میں گزار دیتے ہیں!

رمضان کی خیر و بھلائی اکارت کرنے والے کا نقصان گراں ہے! اور ماہ رمضان کو اجاڑنے والے کی بد بختی بھیانک ہے!

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اس شخص کا ستیاناس ہو جائے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے، اور اس شخص کا بھی ستیاناس ہو جائے جس کی زندگی میں رمضان آئے اور اس کی مغفرت سے پہلے چلا جائے، اور اس شخص کا بھی ستیاناس ہو جو بڑھاپے میں اپنے والدین کو پائے اور وہ دونوں اسے جنت میں داخل نہ کر سکیں۔) ترمذی

اے راستے میں اڑنے والی دھول، آٹے کے غبار، اور تھوک نگلنے کے بارے میں پوچھنے والے کہ ان سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا؟! اتنے معمولی اور باریک مسائل پوچھ رہے ہو لیکن بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہو! ان بڑے گناہوں سے دور رہو، لہذا اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرنے سے بچو، کسی مسلمان کی ہتک عزت مت کرو، دھوکہ دہی، ظلم، فراڈ، اور مسلمان کے خلاف حیلے بازی سے دور رہو۔

کیا اس کا بھی کوئی روزہ ہے جو رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے سے تو باز رہے لیکن اپنی مطلقہ کے زیر پرورش اپنے بچوں کے بارے میں لا پرواہی سے باز نہ آئے؛ انہیں مطلق العنان کھلا چھوڑ دے، ان کے ساتھ شفقت اور نرمی سے پیش نہ آئے، ان کی خبر کی گیری نہ کرے اور نان و نفقہ نہ دے!؟

کیا اس عورت کا بھی روزہ ہے جو اپنے بچوں کو طلاق دہندہ باپ سے ملنے نہیں دیتی، دیکھنے نہیں دیتی، بلکہ انہیں نفرت اور لا تعلقی پر اکساتی ہے!؟

کیا اس مرد کا بھی روزہ ہے جو اپنے بچوں کو طلاق یافتہ ماں سے ملنے نہیں دیتا!؟ حالانکہ ماں کی خوشبو اور مہک کے بغیر زندگی کا کیا مزہ ؟ ماں کے مکھڑے کے دیدار اور پیار کے بغیر بھی بھلا کوئی زندگی ہے؟!

کیا اس شخص کا بھی روزہ ہے جو ظلم کرتے ہوئے اپنی بیوی درمیان میں لٹکائے رکھے، نہ اسے حقیقی بیوی بنائے اور نہ ہی اسے طلاق دے کر فارغ کرے!؟

بھلا اس کا بھی کوئی روزہ ہے جو اپنے والدین سے قطع تعلقی کر لے!؟ ان پر زبان درازی کرے، ان کی خدمت سے تنگ آ جائے، اگر والدین اس سے مانگیں تو بخیلی کرے، اگر اسے سمجھایا جائے تو مزید بگڑے، اگر کوئی امید لگائے تو اس کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوں، اور اگر اس کی ضرورت پڑے تو ڈھونڈنے میں نہ آئے۔ جواب دے تو سختی سے! ہر وقت ڈرانے دھمکانے پر لگا رہے، کبھی کوئی کام وقت پر نہ کرے، ہمیشہ تسویف سے کام لے۔

کیا اس کا بھی کوئی روزہ ہے جو فرض نماز چھوڑ کر سویا رہے، وقت گزار کر نماز پڑھے، ظہر اور عصر کی نماز وقت کے بعد پڑھے، اور پورے رمضان میں اس کی یہی عادت ہو!؟

کیا اس شخص کا بھی کوئی روزہ ہے جو اپنے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت ہڑپ کر جائے، یتیموں اور مساکین کا حق غصب کر لے، اوقاف کے اناج پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے اور مستحقین کو ان کے حق سے محروم کر دے۔

ہاں ان سب لوگوں کا صرف اتنا سا روزہ ہے کہ ان کی روزے سے متعلق واجبی سی ذمہ داری پوری ہو جائے گی، لیکن ان کا روزہ خلاف شریعت کاموں، گناہوں، ظلم اور کبیرہ پاپوں سے آلودہ  ہو گا۔

بلکہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس کے روزوں کا ثواب ان ظلموں اور جرائم کے گناہوں کا مقابلہ ہی نہ کر سکے۔

اس لیے اللہ سے ڈور! روزہ خوری سے بچنے والو! اور روزہ توڑنے والی اشیاء سے اجتناب کرنے والو! تم ایسے کاموں میں ملوث ہو جنہیں دائمی طور پر ہمیشہ کے لیے ترک کرنا ضروری ہے۔

يَا ذَا الَّذِيْ صَامَ عَنِ الطُّعْمِ

لَيْتَكَ صُمْتَ عَنِ الظُّلْمِ

کھانے سے روزہ رکھنے والے کاش کہ تم نے ظلم سے بھی روزہ رکھ لیا ہوتا

هَلْ يَنْفَعُ الصَّوْمُ امْرَءًا ظَالِمًا

أَحْشَاؤُهُ مَلآى مِنَ الْإِثْمِ

کیا کسی ظالم انسان کو بھی روزہ فائدہ دیتا ہے جس کا باطن گناہوں سے بھرا ہوا ہو؟!

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص خلاف شرع بات کہنے یا اس پر عمل کرنے سے باز نہیں آتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) بخاری

سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "جب تم روزہ رکھو تو تمہارے ساتھ تمہارے کان، آنکھ اور زبان کا بھی جھوٹ اور گناہ سے روزہ ہونا چاہے، اپنے خادم کو اذیت مت دو، روزے کے دوران تم پر وقار اور سکینت عیاں ہونی چاہیے، اپنے روزے کے دن کو عام دنوں جیسا مت بناؤ"

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بہت سے روزے داروں کو روزے سے صرف بھوک پیاس ملتی ہے، اور بہت سے قیام کرنے والوں کو قیام کے بدلے صرف بے خوابی ملتی ہے۔) احمد

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جو رمضان کے روزے رکھ کر ان کی حفاظت کرتے ہیں، اور نیکیوں اور عبادات کو کسی بھی قسم کے گناہوں سے گدلا نہیں ہونے دیتے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کی بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں،  اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نا فرمانی مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

مسلمانو!

یہ توبہ تائب ہونے کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مغفرت بڑی ہی آسانی سے میسر ہوتی ہے۔ اس مہینے میں قیدیوں کو آزاد کیا جاتا ہے، مجرموں کو چھوڑ دیتا جاتا ہے، نافرمانوں کو رہائی دے دی جاتی ہے۔

اے گناہوں اور جرائم کے دلدادہ!

اپنی غلطیوں پر نادم اور پشیمان ہو جانے والے!

توبہ کر لو! مطلوبہ ہدف اور کامیابی تمہارے سامنے ہے!

اللہ تعالی سخاوت اور رحمت کرنا چاہتا ہے۔

اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو اپنے فضل و کرم سے معافی بھی دے دیتا ہے۔

تو ایسے شخص کے لیے خوشخبری ہے جو رمضان میں توبہ کے ذریعے گناہوں کا میل کچیل دھو لے اور وقت نکلنے سے پہلے گناہوں سے باز آ جائے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، اور تمام مسلم ممالک کو مستحکم، مضبوط اور امن و امان کا گہوارہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرمائی، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں پر مامور ہماری افواج کو غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! سکیورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعا مسترد مت فرمانا، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، قیدیوں کو رہا فرما، اور ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا رحیم! یا عظیم!

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.