فیصلہ آپ کا - خرم علی عمران

حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے اپنی شہرۂ آفاق نظم جوابِ شکوہ میں ایک بڑا زبردست شعر لکھا ہے۔ اس میں شاعر ایک طرح سے ندائے غیبی کے ذریعے اس شکوے کا جواب دے رہا ہے جو مسلمانوں کی پستی اور زبوں حالی پر خداوند تبارک و تعالیٰ سے کیا گیا تھا۔ شعر کچھ یوں ہے:

تھے تو وہ آبا ہی تمہارے مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

واقعی ہم اب تک بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں۔ کیا لوگ ہیں ہم، کیسے کیسے گمان پال کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ کوئی آئے گا، کوئی بے مثال صفات کا حامل لیڈر اور قائد، کوئی عبقری، کوئی ایسا جینیئس، جو بس آئے گا اور چھا جائے گا۔ سارے مسائل یعنی غربت، روز افزوں جہالت، مہیگائی، بے روزگاری، بدامنی، بےچینی، قوموں کی برادری میں ہماری گمشدہ عزت، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بڑھتا ہوا انبار وغیرہ وغیرہ، ایسے حل کر دے گا جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ اسی چکر میں عوام بے چارے کبھی ایک کے پیچھے اسے اپنا خوابوں کا آئیڈیل لیڈر سمجھ کر بھاگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے اور انجام میں صورتِ حال بگاڑ در بگاڑ کی جانب ہی گامزن نظر آتی ہے۔

کئی تجربے ہوگئے، کئی ماڈل آزما لیے گئے، ایک سے ایک تراکیب استعمال کرکے دیکھ لی گئیں، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ کئی قسم کے قائدین تشریف لائے اور ابھی کئی مزید متوقع بھی ہیں، مگر وہ ککھ بھی نہ ہلا سکے۔ ہاں! خود ضرور خوشحال اور شاد و آباد ہوتے چلے گئے مع چند اپنی ہمنواؤں کے اور ہم بے نوا عوام حسرت و یاس کی تصویر بنے دیکھتے رہے، دیکھ رہے ہیں اور شاید دیکھتے ہی رہیں گے۔

اب اس بگاڑ، اس ابتری، اس زوال سے نکلنے کی کوئی راہ کوئی طریقہ کوئی صورت ہے کہ نہیں؟ تو جناب ہے تو، مگر ذرا سی محنت مانگتی ہے، کچھ ہلنا جلنا پڑے گا، کچھ خود کو بدلنا بھی پڑے گا۔ چین کے مشہور و معروف فلسفی کنفیوشش نے کہا تھا کہ "اگر کوئی ساری دنیا کی اصلاح کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے ملک کی اصلاح سے شروع کرے اور اگر کوئی اپنے ملک کی اصلاح کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے شہر کی اصلاح سے شروع کرے اور اگر کوئی اپنے شہر کی اصلاح کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے قصبے یا علاقے کی اصلاح سے شروع کرے۔ اور اگر کوئی اپنے علاقے کی اصلاح کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے محلے کی اصلاح سے شروع کرے۔ اگر کوئی اپنے محلے کی اصلاح کرنے کا ڈول ڈالے تو پہلے اپنے گھر سے شروع کرے اور جو اپنے گھر کی اصلاح کرنا چاہے وہ اپنی ذات کی اصلاح سے شروع کرے۔ یعنی اس فارمولے کی کلید اپنی ذاتی اصلاح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش قسمت کون؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان؟ آصف محمود

تو بھائیو اور بہنو! نہ کوئی آئے گا مسیحا ابھی آسمانوں سے فی الحال، نہ کسی دیدہ ور کا ابھی زمیں سے نکلنا ہوگا۔ اگر چاہتے ہو بہتری کچھ حالات میں اپنے، تو تمہیں سب سے پہلے خود ہی کو بدلنا ہوگا۔ کہیے جناب، تو تیار ہیں آپ خود کو بدلنے کے لیے؟ یا ابھی کچھ اور غفلت کی میٹھی نیند سوتے رہنے کا ارادہ ہے؟ فیصلہ آپ کا ہے۔