وائے ناکامی مری سنجیدگی جاتی رہی - کاشف شکیل

میں نے بارہا محسوس کیا ہے کہ میری غیر سنجیدگی کو لے کر کچھ لوگ سنجیدہ بلکہ رنجیدہ ہو جاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ صفتِ متانت کا میں نے قتل کردیا ہے۔ اس سلسلے میں بعض تکلیف دہ کمنٹس بھی پڑھنے کو ملتے ہیں، کیا مرض کی طرح اپنے اوپر سنجیدگی کو مسلط کر لینا تقویٰ ہے؟ کیا مسکراہٹوں کا گلا گھونٹنا بزرگی ہے؟ کیا جائز طنز و مزاح اور مباح تفریحات سے اجتناب کرنا پارسائی ہے؟ نہیں اور بالکل نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی طرح دنیا کا ہر فرد اپنی تمام تر تفریحات پر متانت کی چھری چلا دے، اپنے بانکپن کو رہبانیت کی بھینٹ چڑھا دے، ساری خوش گپیوں کو بالائے طاق رکھ دے، رجائیت کو قنوطیت کے ہاتھوں شکست خوردہ ہو جانے دے، خشک مزاجی کی چادر اوڑھ لے، تمام رعنائیوں کو ذہن سے محو کردے، پژمردگی کو شگفتگی پر غالب کردے، ظرافت کو ظاہری شرافت کا کفن پہنا کر سنجیدگی کی قبر میں دفن کر دے، غنچہ دہنی ترک کردے، تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ آپ اپنی مرضی سب پر کیوں تھوپنا چاہتے ہیں؟

اگر کوئی آپ جیسا بددل نہیں بلکہ شگفتہ خاطر ہے، بد ذوقی کے بجائے خوش ذوقی کا حامل ہے، وہ آپ کی طرح کوئی نیم کا پیڑ نہیں بلکہ شگفتہ کلی ہے جس کی رعنائیوں سے تمام گلستاں اس پر نازاں ہے، اگر کسی میں بلبل کی خوش الحانی، گلوں کی شگفتگی، غنچوں کی سی تازگی اور کلیوں جیسی رعنائی ہے تو آپ کو برا کیوں لگتا ہے؟

اگر کوئی آرٹسٹک ہو، اس میں پھولوں کی مہک، بہار کی روانی اور شبنم کا تبسم ہو تو آپ کا کیا بگڑتا ہے؟ اگر کوئی غموں سے گھری ہوئی اس دنیا میں ذرا سا خوش ہو اور خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرے تو آپ سیخ پا کیوں ہو جاتے ہیں؟ حالانکہ کسی مفکر نے کہا ہے کہ اس دنیا میں خوشی تقریباً ناممکن الحصول ہے۔

اگر کوئی جمالیاتی حس رکھتا ہو، اس کو بلبل کی چہک، کوئل کی کوک، شیرینی شہد، رنگینی قوسِ قزح، جمالِ لالہ زار غرضیکہ حسن کائنات سے لگاؤ ہو، وہ خلاقِ ازل کی جمال آفرینی پر ایمان رکھتا ہو، عروس کائنات کی مشاطگی میں مصور عالم کے ذوقِ حسن کا قائل ہو، تو اس میں کیا قباحت ہے، کیا یہ کوئی زہد شکن اور ایمان سوز عمل ہے؟

اگر کوئی تتلیوں کے رنگین پروں کی حرکت میں پریوں کے خوشنما پنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ محسوس کرے، اگر وہ کلیوں کی شگفتگی میں طلوع آفتاب کا منظر دیکھے، اگر وہ پت جھڑ کو باران رحمت سمجھے، بجلی کو آسمان کا تبسم اور رعد کو اس کی کھلکھلاہٹ سے تعبیر کرے، بارش کو بادل کے اشکوں سے اور قوس قزح کو اس کے رنگین آنچل سے تشبیہ دے تو یہ اس کا حسنِ نظر ہے۔ اگر اس کو موجِ بحر بل کھاتی ہوئی سیمیں کمر، افق کی زردی زریں قبا اور شام کا اندھیرا گیسوئے حسینہ کے مشابہ لگتا ہے، وہ چھلکتے اشکوں میں موتی اور سحر کی مسکراتی شبنم دیکھے تو یہ اس کی جمالیاتی حس ہے اور نعمتِ الہی کی قدردانی اور اعلیٰ تخیل کا مظہر ہے...........

اے زاہدانِ خشک نگاہ! آپ ذرا سورہ یوسف اور سورہ نمل پڑھ کر دیکھیں، زلیخا و بلقیس کے سلسلے میں کتب تفسیر کا مطالعہ کریں، عدی بن حاتم طائی کی بہن سفانہ کے سلسلے میں سیدنا علی کا تبصرہ پڑھیں (بشرطِ صحت)، حدیث اُمّ زرع کو پیشِ نظر رکھیں پھر بتائیں کہ شرعی مزاج کیا ہے؟

رعنائیِ خیال کو ٹھہرا لیا گناہ

واعظ بھی کس قدر ہے مذاقِ سخن سے دور