انسانیت کے ٹھیکیداروں کی Selective Humanity - ربیعہ فاطمہ بخاری

انسان اس کائناتِ ارضی کا مرکز و محور ہے۔ ربِ کائنات نے انسان کو اس کائنات میں اپنی خلافت کے لیے چنا اور باقی ہر ایک مخلوق اور مظہرِ کائنات چاہے وہ جانور ہوں یا پودے، سورج ہو یا چاند، باقی کے اجرامِ فلکی ہوں یا پہاڑ، صحرا ہوں یا سمندر باقی کے ہر ایک چیز کو اس ایک انسان کی دسترس میں دے دیا کہ وہ جیسے چاہے اور جب چاہے ان میں سے جس بھی مخلوق سے چاہے مستفید ہو۔ ظاہر ہے کہ جب انسان خود نظامِ کائنات میں اس قدر اہمیت کا حامل ہے تو انسانیت کی بھی اس ذاتِ بابرکات کے ہاں بہت ہی ارفع و اعلٰی اور مسلّمہ حیثیت ہوگی؟ انسانیت کی عظمت اور رفعت کے بے بہا نمونے ہمیں ربِ کائنات کے الہامی صحائف اور کتبِ سماویہ میں ملتے ہیں۔ قرآنِ کریم اور اسلام چونکہ ایک ہمہ گیر اور قیامت تک کے لیے آنے والے انسانوں کے لیے ایک رہنمائی، ہدایت اور فیض کا سر چشمہ تھا، اس میں اللہ تعالٰی نے انسان اور انسانیت کو ہی موضوعِ بحث رکھا۔ ایک آیۂ کریمہ ''جس نے ایک انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا'' محض ایک نمونہ ہے۔

اس طرح کی بے شمار آیات مقدسات اور احادیثِ مبارکہ مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ربِ کائنات نے انسان کی ہی اصلاحِ احوال کی غرض سے انسانوں میں سے ہی کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا، سب ہی انبیاء کرام نے ہمیشہ انسان کی فلاح اور انسانیت کی بہتری کی کاوشیں فرمائیں۔ ان انبیاء کرام کو جو ادیان عطا کیے گئے ان میں سے بڑے بڑے ادیان جو آج بھی ارب ہا لوگ follow کرتے ہیں ان میں بڑے اور اہم ادیان اسلام، عیسائیت اور یہودیت ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دین نے اپنے اپنے انداز میں انسانیت کو ہی address کرنے کی کوشش کی ہے۔

آج کل وطنِ عزیز میں ایک اور ''مذہب'' کے پیرو کار جا بجا نظر آتے ہیں، خاص طور پر کچھ آن لائن websites پر تو تھوک کے حساب سے ''انسانیت سب سے بڑا مذہب'' کی پیروکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو پڑھ اور سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان سے پہلے ''انسانیت'' نام کی چیز اس کائناتِ ارضی میں وجود ہی نہیں رکھتی تھی اور یہ ہی وہ'' فرستادہ'' ہیں جن کے ذریعے یہ ''عظیم الشان'' مذہب اتارا گیا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ان انسانیت کے پرستاروں اور ٹھیکیداروں کی انسانیت کہیں تو ایک شعلے کی طرح بھڑک بھڑک جاتی ہے اور کہیں یہ محض راکھ کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔

چلیے تھوڑا سا ان کی انسانیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہمارے ان انسانیت زدہ دوستوں کو محمد بن قاسم ایک بہت بڑا ڈاکو، لٹیرا اور راہزن نظر آتا ہے، جس نے سندھ کے عوام کے ساتھ اسلام کی بنیاد رکھ کر بہت بڑی زیادتی کی لیکن یہی لوگ برصغیر پاک و ہند میں نو انگریز کی نو آبادی کو عین انسانیت نوازی قرار دیتے ہیں اور لارڈ میکالے کو اس دھرتی کے نجات دھندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے اس طبقے کی نظر میں بڑے بڑے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کو پھانسی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنا انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہے جبکہ سلمان تاثیر کے قتل کے مجرم ممتاز قادری کو پھانسی دینا عین انسانیت۔ ان انسانیت نوازوں کے نزدیک ایک ہم جنس پرست اپنی زندگی اپنے انداز سے سے گزارنے کا پورا حق رکھتا ہےکہ یہ فعلِ قبیح ان کے نزدیک عین فطرتِ انسانی ہے لیکن شرم و حیا کو ان کی انسانیت سے دور دور تک کوئی علاقہ نہیں۔ شرم و حیا اور غیرت کے الفاظ نکالنے والوں کے لیے یہاں تضحیک کے لیے ''غیرت بریگیڈ'' کی استعمال ہوتی ہیں۔ کسی دینی ادارے میں خدانخواستہ کوئی فعلِ قبیح سر زد ہو جائے تو اس سارے سیٹ اپ کو ہی ''جہالت کی فیکٹریاں'' قرار دے کر اس نظام کو بنیادوں سے ہی تاخت و تاراج کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں، جبکہ اسی طرح کا کوئی عملِ قبیح کسی کالج یا یو نیورسٹی میں سر زد ہو جائے تو ان کی زبانوں پہ آبلے پڑ جا تے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کی آمد کے دو سال کے دوران مرتب کی گئی احادیث مبارکہ ہر گز قابلِ اعتبار نہیں جبکہ حقیقتاً احادیث اورسنن کے مرتب کرنے کا کام عہدِ نبویؐ میں ''صحیفہء صادقہ"سے شروع ہو چکا تھا اور احادیث کی ثقاہت اور authenticity کو یقینی بنانے کے لیے علمائے اسلام ''اسماء الرجال'' جیسا عظیم الشان علم معرضِ وجود میں لائے۔ ان کی انسانیت کا چودھویں صدی ہجری میں اٹھنے والے فتنہ گر "غلام احمد پرویز" کے عقائد پر یقین ہے، اور ہاں اس کے باوجود بوقتِ ضرورت یہ سلمان تاثیر اور عاصمہ جہانگیر کو justify کرنے کے لیے ''انما الاعمال بالنیّات'' کا ورد کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اپنی انسانیت سے لبریز زندگیوں میں یہ لوگ اسلام نامی چیز کو ایسے دیس نکالا دیے رکھتے ہیں جیسے یہ کوئی شجرِ ممنوعہ ہو، اسلام کی تعلیمات، شعائرِ اسلام کی کھلم کھلا بھد اڑانا اپنا "دینی اور اخلاقی فریضہ" سمجھتے ہیں لیکن جونہی کوئی اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو چاہے تو چاہے وہ قندیل بلوچ ہو یا سلمان تاثیر جھٹ شہید کا لقب عطا کر دیتے ہیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کے طلبگار بن جاتے ہیں۔

اسی قسم کی selective humanity کا مظاہرہ اس طبقے نے اس وقت کیا جب افغانستان میں قندوز کے مقام پر ایک مدرسے کی دستار بندی کی تقریب میں سو سے زیادہ معصوم بچے، جو سب کے سب حفاظِ کرام تھے امریکی بمباری کا نشانہ بن گئے اور میں انتظار ہی کرتی رہ گئی کہ کوئی انسانیت کا علمبردار اپنی ڈی پی تبدیل کرے گا، کوئی تو احتجاج کرے گا لیکن کیا ہے ناکہ وہ بچے اتفاقاً مسلمانوں کے تھے، پھر تھے بھی حفاظِ کرام اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کا قاتل بھی کوئی ملّا یا مسلمان نہیں بلکہ اس طبقے کا نظریاتی قبلہ و کعبہ امریکہ تھا تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

یہی رویّہ ان سب کا گزشتہ ہفتے بھی دیکھنے میں آیا جب پاکستان کی بیٹی سبیکا شیخ، جو حصولِ علم کے لیے student exchange program کے تحت امریکی سکول میں زیرِ تعلیم تھی، وہاں اس پر اور اس کے ساتھیوں پر انہی کے ایک ساتھی طالبعلم نے فائرنگ کی اور اس ہو نہار بچی سمیت بہت سے معصوم طلبہ و طالبات جان کی بازی ہار گئے۔ ملالہ کے غم میں دوہرے تہرے ہونے والے انسانیت زدہ لوگوں کو میں اس بچی کے غم میں بھی گھلتا دیکھنا چاہتی تھی کہ یہ بھی پاکستان کی بیٹی تھی لیکن مقامِ افسوس یہ کہ مجھے کسی بھی مذہبِ انسانیت کے پیروکار کا کوئی نوحہ، کوئی غم سے لبریز تحریر نظر سے نہیں گزری۔ کسی نے اس بچی کے غم میں امریک بہادر کو ''بچیوں کی تعلیم کے لیے غیر محفوظ'' قرار نہیں دیا۔ ان انسانیت کے غم خواروں کو میری دست بستہ عرض یہ ہے کہ انسانیت انسانیت کا دوغلا راگ الاپنے کی بجائے اپنے اسلام مخالف ایجنڈے کو ڈنکے کی چوٹ پر تسلیم کریں اور پوری شرحِ صدر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ آپ کے اس چانکیائی بغل میں چھری، منہ میں رام رام سے معصوم مسلمان آپ کے عزائم کے بارے میں کسی دھوکے یا مغالطے کا شکار نہ ہوں۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */