عامر لیاقت کو نہیں نکالنا چاہیے کیونکہ ۔۔۔۔ - انس اسلام

یہاں اس شیطانی و دجالی ڈبے میں آپ کو وہی گندا لگتا ہے جو اوور ہوکر کام کرتا ہے۔ آپ کو اس ڈبے میں اچھے اور کیوٹ انداز سے کفر و الحاد پھیلانے والے ایجوکیٹڈ کب نظر آئیں گے؟ میڈیا چار علماء کو بٹھا کر جب کسی مسئلے پر گفتگو کروا رہا ہوتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے وہ آپ تک دین کا اصل و حقیقی علم پہنچانا چاہتا ہے؟

بھئی! یہ میڈیا چار علماء کو بٹھا کر دینی مسائل پر اس لیے پروگرام کرتا ہے تاکہ مسلمان یہ سمجھ سکیں کہ ان کے دین میں کوئی ایک بھی چیز اور ایک بھی مسئلہ حل شدہ اور متفقہ نہیں ہے اور دینی علم اپنے اندر انتشار ہی انتشار رکھتا ہے۔ میڈیا اسلامی علمیت کو مشکوک کرنے کا کام کرتا ہے۔ دو ایک جیسے بیانات کو اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ وہ فریقین کے مابین متضاد شکل اختیار کر جائیں۔ میڈیا آپ کو اُن لوگوں سے دور کرتا ہے جن کے ذریعے آپ تک دین پہنچا کہ وہ سب بھی چونچے ہی لڑاتے رہے تھے، دین میں کچھ بھی طے شدہ نہیں ہے اور دین سارا اختلافات ہی سے بھرا پڑا ہے۔

یہ ملاکھڑے دکھانے کے بعد میڈیا دراصل آپ کا اسلامی شخصیات اور قرآن و سنت کے علم پر سے اعتماد اٹھا کر آپ کو دینی علم سے متنفر کرنے کا کام کرتا ہے تاکہ اگلی نسل دینی علوم کو بے کار و بے فائدہ جانے اور اپنے حساب سے جس طرح جسے صحیح لگے اس طرح اپنی زندگی جیے کیونکہ دین تو authentic ہے ہی نہیں!

یہ نظام بلکہ کوئی بھی نظام تب ہی اپنے آپ کو زندہ و قائم رکھ پاتا ہے جب وہ ساتھ ساتھ، مسلسل، ہر لمحہ اپنے اندر رہنے والوں کو دوسرے نظام سے بدظن کیے رکھے تاکہ کوئی اسے ختم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ دوسرے نظام کو کمزور، غیر معتبر اور ناکارہ ثابت کرنے کا ہر نظام کے پاس اہتمام ہوتا ہے تاکہ اس پر لوگوں کا ایمان قائم رہے اور دوسرے نظام کی طرف دھیان بھی نہ جائے۔

لہٰذا یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ نظام جب میڈیا کے ذریعے خود کو گالی بھی دلوا رہا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ میڈیا آزاد ہے بلکہ یہ نظام چاہتا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے رہیں کہ ہاں اس نظام میں یہ یہ خرابیاں ہیں جو ٹھیک ہوجائیں تو یہ نظام لاجواب و بے مثال ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں، یہ میڈیا ٹیبل ٹاک کرتا ہے، سب کی سنتا ہے، لیکن آہستہ سے جو پیغام پہنچادیتا ہے اس پیغام کو ہم ابھی تک نہیں سمجھ رہے۔

کیا اب جدید نسل اسلامی علوم کو غیر ضروری نہیں سمجھتی؟ ایک پورا پراجیکٹ ہے جس کا محض ایک جز ہے۔ یہ علماء کو ٹی وی پر لا کر ان کی چونچیں لڑانا اور پھر نتیجہ یہ پیدا کرنا کہ اسلامی علمیت ایک سیاپے کے سوا کچھ بھی نہیں اور ان علماء کے پیچھے ہم کیسے لگ جائیں جن کی کبھی نہیں بنی، لہٰذا ان سے دور رہو، یہ کسی قابل نہیں کہ انہیں (علماء کو) اپنی زمامِ کار تھمائی جائے۔

یہ ہے وہ مقصد جسے میڈیا کافی حد تک پاکستان میں پورا کر چکا ہے۔ یہ نظام عامر لیاقت ایسوں کو نکال دے، خود اس نظام میں بہتری آئے گی۔ آپ سے زیادہ مسئلہ اس نظام کو ہے عامر لیاقتوں سے، جو میڈیا کا امیج خراب کرتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں عامر لیاقت جیسے لوگ ہونے چاہیئیں تاکہ اس امت کو پتہ چلتا رہے کہ میڈیا یہی مقاصد رکھتا ہے اور یہی میڈیا کا اصلی چہرہ ہے جو عامر جیسے لوگ اپنی حرکتوں سے ننگا کردیتے ہیں اور ہم اتنے سادہ ہیں کہ میڈیا کے ادارے کے خلاف تو بالکل نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں عامر لیاقتوں کے جانے سے میڈیا صحیح اسلام پیش کرنے لگے گا، یہ سادگی کی انتہا ہے!

ہم میڈیا اور اس نظام کی حقیقت سے واقف نہیں۔ ہمارا فوکس بدتمیز قسم کی شخصیات پر رہتا ہے اور جو تمیز سے دین کا جنازہ نکالیں وہ ہماری عقل میں آتے ہیں نہیں۔ آپ پوچھ کر دیکھ لیں لوگوں سے کہ عامر لیاقت کو اگر نکال دیا جائے تو کیا خیال ہے وہ کہیں گے ہاں ہاں اسے نکالا جائے اور کوئی اچھا سا لایا جائے؟ یہ وہی بات ہوئی کہ زہر دو نمبر نہیں ہونا چاہیے ایک نمبر ہونا چاہیے اور کھائیں تو بدمزہ نہ ہو۔

حضرات، پھر سے سنیں! یہ نظام اپنی بقا و استحکام کے لیے خود آپ سے اپنے آپ کی اصلاح شوق سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ نہیں چاہتا کہ آپ کا اس پر سے ایمان اٹھ جائے اور یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ لوگوں پر اسلامی علمیت کی اصل شکل واضح ہوسکے۔ کیسی خوبصورت بات ہے کہ میڈیا کا یہ مقصد خود علماء پورا کر رہے ہیں، علماء بہت بڑی غلط فہمی میں ہیں کہ شاید میڈیا دین پھیلانے کا ذریعہ ثابت ہوگا، ، بھائ میڈیا آپ کے ذریعے لوگوں کو اسلامی علمیت کی ایک ڈراؤنی شکل دکھاتا ہے۔

آپ غور کرلیں، جدید نسل کیا آپ سے خار نہیں کھاتی؟ تو آپ سے دور ہوکر وہ کس سے دین سیکھے گی؟ اللہ ہمیں دین کی بھی سمجھ دے اور باطل نظاموں کا بھی فہم دے۔ آمین!