نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں؟ - حبیب الرحمٰن

سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ دھرنوں کے دوران خفیہ ادارے کے سربراہ نے مجھے مستعفی ہونے یا پھر طویل رخصت پر چلے جانے کو کہا، مجھ پر لشکر کشی کی گئی جس کا مقصد تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے، میرے خلاف بدعنوانی کے مقدمات پرویز مشرف پر غداری کے مقدمے کی سزا ہیں۔ ان کے بقول مجھے اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا اور رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے، عوام کے منتخب وزیر اعظم کی اتنی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیر اعظم کو مستعفی یا رخصت پر جانے کا پیغام دے رہا ہے۔ نواز شریف نے بدھ کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میراجرم صرف وہی ہے جو 20 سال پہلے کیا تھا۔ 2014ء میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا تو بہت سے لوگوں نے انہیں دھمکی نما مشورہ دیا کہ یہ بھاری پتھر تم سے نہیں اْٹھایا جائے گا۔ عدالت میں اپنا تیار شدہ بیان پڑھتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 2013 کے آخر میں غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک آمر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید قانون اور انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لیے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔

نواز شریف ہوائی چھوڑ رہے ہیں یا ان کی باتوں اور الزامات میں کوئی وزن ہے؟ اس کا فیصلہ ایک دن ہوجانا چاہیے، اس لیے کہ یہ بات نہ صرف اداروں کے مفاد میں ہے بلکہ اس میں پاکستان اور ریاست کی عزت و وقار کا بھی سوال پوشیدہ ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا ماضی میں چلے جائیں تو نواز شریف کے خلاف جس وقت کرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں لگا تھا اور حکومت سنبھالے ہوئے سال ہی ہوا تھا کہ اچانک ان کے گرد دائرہ تنگ ہونا شروع کر دیا گیا تھا۔ حکومت کے گرد دائرہ تنگ کیا جانا کوئی نیا سلسلہ نہیں رہا ہے۔ دھرنے کی اصطلاح کافی پرانی ہوچکی ہے اور اس کا آغاز 90ء کی دہائی میں ہوا تھا۔ کسی بھی حکومت کو گرانے کے لیے اس کو مؤثر بنادیا جاتا ہے اور ایسی پارٹیاں جو عوام میں اپنی جڑیں بھی نہ رکھتی ہوں وہ بھی لشکر کا لشکر بن جایا کرتی ہیں۔

ہر حکومت کے گرد دائرہ کیوں تنگ کیا جاتا ہے؟ اب اس بات کو سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں رہ گیا ہے۔ اس لیے کہ جو بات خلق خدا کی زبان پر عام ہوجائے پھر اس کو رد کرنا یا جھٹلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجایا کرتا ہے۔ عوام اس دھرنے کو بھی نہیں بھولے ہوں گے جب پی پی پی (زرداری) حکومت کے ہوتے ہوئے، سخت کڑاکے دار سردی اور بارش میں طاہرالقادری نے پی پی پی کے خلاف دیا تھا۔ سخت ترین موسم کے باوجود ان کے وفادار مورچہ جھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ پھر اچانک تیار بھی ہوگئے واپس اپنے گھروں کو چلے بھی گئے۔ کیوں آئے تھے اور کیوں چلے گئے؟ اس کا جواب ایک ہی ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ سارا کھیل ہوا تھا اس میں کسی سے کسی کے پاؤں پکڑوانا مقصود رہا ہوگا اور مقصد براری کے بعد "رات گئی بات گئی" والی کہانی اپنے اختتام تک پہنچ گئی ہوگی۔ ادھر کہانی ختم ادھر دھرنا تمام!

تھوڑا سا غور کریں کہ زرداری حکومت کے اختتام کے بعد اور نواز دور کے شروع ہوتے ہی جبکہ ابھی تک "پاناما" کی پھلجھڑی بھی نہیں چھوڑی گئی تھی اچانک اسلام آباد پر چڑھائی کے پیچھے کیا مقصد تھا؟ اور پھر لشکر کشی بھی ایسی کہ لشکر والوں کے پاس ہر قسم کے ہتھیار حرب و ضرب موجود تھے۔ لفٹر، شارپ قسم کے کٹرز، ہتھوڑے، سلاخیں کاٹنے تک کے اوزار اور حد یہ کہ کرینیں بھی اس قافلے میں شامل تھیں۔ اس میں وہ پارٹی بھی شامل تھی جو چند ماہ قبل زرداری کے لیے آزار جان بن گئی تھی یعنی پی اے ٹی۔ اگر نواز شریف آج کچھ الزامات لگارہے ہیں بلکہ اپنا بیان رو برو عدالت ریکارڈ کرارہے ہیں تو عدالت کا فرض بنتا ہے کہ ان کی تحقیقات کرائے۔ اس لیے کہ یہ ساری باتیں دنیا بھر میں پاکستان کی بھد اور ٹھٹھول کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ان کی باتوں میں اس لیے بھی وزن محسوس ہوتا ہے کہ لاہور سے رواں دواں یہ قافلہ ہر رکاوٹ کو اپنے ہتھیاروں کے ذریعے کاٹتا، چھانٹتا، توڑتا، پھوڑتا اور بڑے بڑے کنٹینروں کو کرینوں کی مدد سے ہٹاتا اور ڈھاتا اسلام آباد کے ریڈزون میں داخل ہوجاتا ہے۔ پرائم منسٹر ہاؤس، اسمبلی ہاؤس یہاں تک کہ پاکستان ٹیلیویژن تک پر حملہ آور ہوجاتا ہے لیکن ان کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت ترین کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی یہاں تک کہ دھرنا ختم ہونے کے باوجود کسی بھی قسم کا مقدمہ نہ تو پارٹی سر براہان کے خلاف رجسٹرڈ ہوتا ہے اور نہ ہی جلوس و دھرنے میں شامل کسی کارکن کے خلاف۔ کرینوں کی ٹکر مار مار کر پارلیمنٹ ہاؤس کی فینسنگ کو توڑا جاتا ہے اور اس میں خیمہ بستیاں آباد کر لی جاتی ہیں لیکن ان میں مقیم کسی ایک فرد پر بھی کوئی فرد جرم عائد نہیں کی جاتی۔ بات ایک دو دن کی نہیں مہینوں پر مشتمل ہے۔

دھرنے میں ایک گروہ وہ بھی ہے جو رات رات بھر اچھل کود مچانے کے بعد گھروں کو لوٹ جایا کرتا تھا، میدان خالی ہوجایا کرتا تھا لیکن 126 دن اس گروہ کو اجازت رہی کہ وہ اگلی شام پھر رنگ بکھیرنے آجائے لیکن اس کی راہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جائے گی۔ ایسا سب کچھ اس وقت ہوتا رہا جب آئین کے مطابق افواج پاکستان کو مکمل اختیار دیدیا گیا تھا کہ وہ ریڈ زون اور ان میں موجود ہر سرکاری و ریاستی عمارت کا تحفظ کرے گی۔ آئینی اور قانونی عمارتوں کا تحفظ تو رہی دور کی بات، پارلیمنٹ ہاؤس کی فینسنگ تک توڑی جاتی رہیں، پرائم منسٹر ہاؤس پر حملہ آور ہوا گیا، پی ٹی وی کی نشریات تک بند کردی گئیں، ریڈ زون کو لالہ زار بنادیا گیا یہاں تک کے سپریم کورٹ کی دیواروں پر نجاست بھری شلواریں تک لٹکا کر دنیا پھر کو دکھادیا گیا کہ ہم ریاستی عماتوں کا تحفظ اس طرح کیا کرتے ہیں۔

یہ سب ایک دو دن کی بات نہیں چار ساڑھے چار مہینوں پر مشتمل بداخلاقیاں اور غیر جمہوری رویہ تھا جو پوری قوم نے دیکھا۔ یہاں فقط ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے ایسا کیا بنا کسی ضمانت کے ممکن ہوسکتا ہے؟ آئینی اور قانونی اختیارات کے باوجود مشتعل افراد کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہوتا، جنگی ہتھیاروں سے لیس ہجوم کا اسلام آباد کی جانب بڑھتے اور چڑھتے چلے آنا، قبریں کھودنا اور سروں سے کفن باندھ لینا، کیا یہ سب تماشہ تائیدِ ایزدی تھا؟ عدالت میں سابق وزیر اعظم کا یہ کہنا تھا کہ انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ججز ایک گھنٹے کے لیے بھی فوجی آمر کو جیل نہیں بھجوا سکے، ججز نے ملزم پرویز مشرف کے عالی شان محل کو سب جیل قرار دیا، کوئی قانون یا عدالت غداری کے مقدمے کے ملزم کو ہتھکڑی بھی نہ لگا سکی، سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد 2014ء میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران عمران خان جس امپائر کی بات کرتے تھے تو وہ امپائر کون تھا؟ تحقیق طلب ہے۔

عدالتوں کے ایسے دوہرے معیارات کی وجہ سے ان کے کسی بھی فریق کے خلاف فیصلوں کو نہ تو عوام میں پزیرائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی دنیا میں ان کو شفافیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں 400 سے زیادہ افراد کا ماورائے عدالت قتل کا ایک ایس ایس پی دندناتا ہوا عدالت میں آتا ہے اور گردن اکڑا کر عدالت سے چلاجاتا ہے لیکن محض شک کی بنیاد پر پکڑا جانے والے غریب کال کوٹھڑیوں اور ڈرائنگ روموں کی سیر کررہا ہوتا ہے۔ انصاف کیونکہ سب کے ساتھ یکساں نہیں ہوتا اس لیے کسی بھی فرد کو عدالت پر انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔

مقدمے اور دیگر معاملات اپنی جگہ، نواز شریف کا یہ سوال کہ ایمپائر کی "انگلی" کی بات جو ہر روز دھرنے میں دہرائی جاتی تھی، وہ کس کی جانب اشارہ تھی؟ بڑی تحقیق طلب ہے۔ ایسا کہنے اور جس کے لیے کہاجارہا ہے، دونوں کی گرفت ضروری ہے۔ ایک کا کہنا اور دوسرے کی 126 دن تک خاموشی جو تاحال برقرار ہے، قابل وضاحت باتیں ہیں جس کا ہر صورت میں کلیئر ہونا ضروری تھا اور تاحال لازمی ہے۔

ان ہی تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف نےعدالت کے سامنے اپنے 10 سوالات رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے آج تک ان کے جوابات نہیں ملے لیکن میں انہیں اس لیے دہرا رہا ہوں تاکہ آپ ان پر ضرور غور کریں اور سوچیں کہ یہ پر اسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے؟ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں بدعنوانی تو ابھی تک ثابت نہیں ہوئی البتہ ان ریفرنس میں ناانصافی ضرور نظر آتی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ قوم اور ملک کا مفاد مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دے رہا جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے اپنا بیان ختم کردیا۔ بعد ازاں پنجاب ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی سابق وزیراعظم نے انہی باتوں کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اور میرے خاندان کے اردگرد تمام تر مسائل کی جڑ سابق صدر پرویز مشرف ہیں، جب ان کی گردن پر جمہوری حکومت نے قانون کے پنجے گاڑے تو اس وقت پاک فوج اور سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران نے مجھے دھمکایا کہ اس پتھر کو نہ چھیڑو بصورت دیگر خود ملیامیٹ ہوجاؤ گے۔ مجھ پر الزام لگانے والے اپنے ارادوں میں کمی نہ کریں اور میں نے بھی قسم اٹھا رکھی ہے کہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ جب مائنس-ون کا اصول طے پاجائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اب جبکہ یہ ساری باتیں نواز شریف نے عدالت کے سامنے رکھ دی ہیں، عدالت پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی آزادانہ تحقیق کرائے۔ اگر باتیں درست ہیں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کرے اور اگر یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے تو پھرنواز شریف کا سخت مواخذہ کرے اور ان کے خلاف غلط بیانی پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے۔