موت اور مساوات - خدیجہ افضل مبشرہ

اللہ سبحان و تعالیٰ کی جانب سے انسانی مساوات کی بہترین مثال موت ہے۔ کسی امیر کی زندگی اس کی امارت کی وجہ سے بڑھ سکتی ہے نہ کسی غریب کی اس کی غربت کی وجہ سے گھٹائی جاتی ہے۔ سب کا وقت مقرر ہے اور اس وقت کے بعد کسی کی طاقت، دولت، یا نیکی اسے ایک سانس بھی ادھار لے کر نہیں دے سکتی۔ مہنگی ترین دوائی اور بہترین طبی سہولیات آپ کو وقت کے بعد زندہ رکھ سکتی ہیں نہ ہی غربت اور بیماری آپ کو وقت سے پہلے مار سکتی ہے۔

جو عزرائیل سڑک کنارے پڑے کسی بے کس اور بے گھر کی روح قبض کرتے ہیں وہی عزرائیل ایک پر تعیش خواب گاہ یا مہنگے ہسپتال کے بستر پہ پڑے شخص کی روح نکالنے پر مامور ہیں۔ آپ پرسنل سیکرٹری کے ذریعے ہر میٹنگ کینسل کرا سکتے ہیں سوائے عزرائیل کی میٹنگ کے۔

برانڈ برانڈ کرنے والوں کے لیے عرض ہے کہ کفن کا کوئی برانڈ نہیں ہوتا اور امراء کی شان و شوکت دیکھ کر کڑھنے والوں کے لیے اطلاع ہے کہ فکر مت کرو، ان کا آخری لباس بھی بالکل تمہارے جیسا ہوگا۔ جو سفید کفن غریب کی میت کو نصیب ہونا ہے وہی امیر کی میت کا نصیب ہے۔

ساری زندگی بالشت بھر چھت کو ترسنے والا بھی اسی دو گز زمین کا حقدار بنتا ہے اور کئی ایکڑ اراضی کا واحد مالک بھی اسی دو گز زمین میں دفن ہوتا ہے۔ قبرستان میں کوئی ڈیفنس یا بحریہ ٹاؤن نہیں ہے، امیر کی قبر بھی گہری تنگ اور اندھیری ہو گی اور غریب کی بھی۔ وہی منکر نکیر غریب کی قبر میں آئیں گے اور وہی منکر نکیر امیر کے پاس۔ جو سوالات اس غریب سے پوچھے جائیں گے وہی امیر سے بھی پوچھے جانے ہیں۔

کہاں گیا عہدے کا فرق؟ کہاں گئی دولت کی طاقت؟ کہاں گئی امیری غریبی؟

جب سب کا انجام ایک سا ہے تو زندگی میں اور سوچ میں یہ اتنا تضاد کیوں ہے؟

مرنے کے بعد سب ایک جیسے ہوں گے تو زندگی میں اس شان و شوکت اور دولت و طاقت پر یہ کیسی اکڑ؟

ایک دوسرے کا احساس کیوں نہیں کرتے ہم لوگ؟

انسان کو بحیثیت انسان کیوں عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے ہم؟

موت کے وقت برتی جانے والی مساوات کا آدھے سے بھی کم حصہ معاشرے میں لاگو ہو جائے تو مثالی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ وہ معاشرہ جس کی ترغیب اسلام نے دی ہے۔ وہ معاشرہ جو کسی مسلم ریاست کی بنیاد ہونا چاہیے تھا۔ مگر دین سے دوری نے ہمیں کیسی انتہا پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انسانیت کی کوئی قدرو قیمت ہی نہیں رہی۔ کیا یہ زندگی ہمیں ایک اچھا انجام دے سکے گی؟ کبھی فرصت ملے تو ضرور سوچیے گا۔

ٹیگز