ہم رمضان میں کیا پڑھیں؟ - عبدالصبور شاکر

میری عادت ہے کہ جمعہ کی نماز پڑھ لینے کے بعد نوجوانوں سے گپ شپ کرتا ہوں۔ اس سے مجھے نہ صرف ان کے جذبات و احساسات سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے بلکہ انہیں درپیش مسائل کا ادراک بھی ہو جاتا ہے اور نئی نئی معلومات اور اصلاحی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایسی ہی نشست میں ایک نوجوان سے پوچھا ’’تم نے آج تک کتنی دینی کتب پڑھ رکھی ہیں؟‘‘ جواب ملا ’’پوری کتاب بالاستیعاب ایک بھی نہیں پڑھی۔ ‘‘ ایک اور نوجوان نے کہا ’’میں نے فضائل اعمال جستہ جستہ پڑھی ہوئی ہے۔ ‘‘ کچھ نوجوانوں کا مبلغ علم سکول میں پڑھی جانے والی ’’اسلامیات لازمی‘‘ تک محدود تھا۔ یہ سن کر بہت افسوس ہوا۔ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر بڑے دھڑلے سے دینی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں، رائے دیتے ہیں اور کفر و اسلام کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے اختلاف کر بیٹھے تو اسے جہنم کے دروازے تک پہنچانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ علماء کرام کی فقہی آراء کو چوپال میں چلنے والی گپ شپ سمجھتے ہوئے دیوار پر دے مارتے ہیں۔ حالانکہ اگر ان سے دس اہم دینی کتب کے نام پوچھے جائیں تو انہیں بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں سوجھے گا۔ یہ بات جب میں نے اپنے کچھ جاننے والوں کے سامنے رکھی تو انہوں نے کہا ’’آپ ہی بتائیں ہم کیا پڑھیں؟‘‘ سو، یہ تحریر اسی سوال کا جواب ہے۔

میرے عزیزو! اگر آپ نے قرآن مجید تجوید کے ساتھ پڑھا ہوا ہے تو فبہا، ورنہ سب سے پہلے کسی ماہر قاری صاحب سے اپنے تلفظ درست کروائیں۔ ح کو ھ، ص اور ث کو س پڑھیں سے احتیاط کریں۔ یاد رکھیں قرآن مجید میں بعض جگہ ایک حرف کو دوسرے سے بدلنے پر معنی بالکل تبدیل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بندہ انجانے میں کفر کی حد تک جا پہنچتا ہے۔ دوسرے نمبر پر آپ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ تفسیر، حدیث، فقہ یا اصلاحِ نفس پر کچھ مواد؟ تفسیر کے لیے بہترین کتاب ’’معارف القرآن از مفتی محمد شفیع صاحبؒ‘‘ ہے۔ یہ کتاب مفتی اعظم پاکستان کے ریڈیو پر دیے گئے دروس پر مشتمل ہے۔ یہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر کو پڑھنے سے اہم اہم فقہی مسائل پر عبور حاصل ہو جاتا ہےاور قرآن مجید سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ پی ڈی ایف پڑھنے کے لیے لنک درج ذیل ہے:

اگر ترجمہ مع مختصر تفسیر پڑھنا چاہتے ہیں تو مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کا ’’آسان ترجمہ قرآن‘‘ بہت مفید رہے گا۔ اس میں جدید زبان میں قرآن مجید کے مطالب واضح کیے گئے ہیں۔ اب یہ ایک جلد میں دستیاب ہے۔ اگر ادیان باطلہ اور جدید اذہان کا رد مقصود ہو تو ’’تفسیر حقانی‘‘ بہت عمدہ کتاب ہے۔ حدیث مبارکہ سمجھنے کے لیے ’’معارف الحدیث از مولانا محمد منظور نعمانیؒ‘‘ بہت اچھی کتاب ہے۔ اس میں آسان انداز میں حدیث مبارکہ کے مطالب بیان کیے گئے ہیں۔ ’’فضائل اعمال‘‘ از مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ بھی بہت اچھی ہے۔ بہتر ہے کہ ان آخر الذکر دونوں کتب کا درس گھر میں دیا جائے۔ نہ صرف اعمال میں پختگی ہوگی بلکہ بچوں میں بھی دین پڑھنے اور سمجھنے کا ذوق بنے گا۔ ساؤتھ افریقہ کا ایک گھرانہ ان کتب کا درس دیتا تھا۔ اُن کا بچہ اس سے اتنا متأثر ہوا کہ جب سکول میں اس سے ٹیچر نے پوچھا ’’بیٹے! تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ تو بچہ بولا، ’’سر! میں صحابی بنوں گا۔ ‘‘

اگر آپ فقہ پڑھنا چاہتے ہیں تو ’’بہشتی زیور‘‘ بہت ہی عمدہ کتاب ہے۔ اب تو اس کی تسہیل جامعۃ الرشید کے اساتذہ نے تیار کی ہے جس میں مؤنث کے صیغوں کو مذکر سے تبدیل کر دیا ہے اور اسلوب بھی نہایت آسان کر دیا ہے۔ اگر آپ مفصل پڑھنا چاہتے ہیں تو مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ بہتر رہے گی۔ یہ کتاب روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے حضرت کے سوالات و جوابات کا سلسلہ ہے۔ یہ کتاب دس جلدوں پر مشتمل ہے۔

اصلاح نفس کے لیے حضرت تھانوی ؒ کی کتب بہت مفید ہیں مثلا ’’ملفوظات حکیم الامتؒ، خطبات حکیم الامتؒ وغیرہ۔ دور حاضر کے علماءکی کتب مثلا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کی ’’اصلاحی مجالس‘‘، مولانا حکیم محمد اخترؒ کے رسائل (یہ ان کے ادارہ سے رابطہ کرنے پر مفت بھی مل جاتے ہیں‘‘، مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کے مواعظ (خصوصا ’’اللہ کے باغی مسلمان‘‘)، مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کے خطبات و مجالس اور دیگر کتب وغیرہ بہت اچھی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے کے مشائخ کی مجالس میں گاہے بگاہے حاضری بھی بہت فائدہ دیتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ وہ کتب جن کے مصنفین غیر مشہور یا نامعلوم ہوں، انہیں بالکل ہاتھ نہ لگایا جائے۔ ہمیشہ مستند علماء کرام کی کتب پڑھیں۔ بہتر یہ ہے کہ کوئی بھی کتاب پڑھنے سے پہلے کسی بڑے عالم سے مشورہ کرلینا نہایت ضروری ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا نسخہ دیکھ لیا تو سخت ناراضی کا اظہار فرمایا۔ ہم نہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے متصلب ہیں اور نہ ہی اتنے پختہ ایمان والے، کہ ہمیں کوئی بھی متزلزل نہ کر سکے۔ لہٰذا لٹریچر وہ پڑھنا چاہیے جو مستند ہو۔ فقیر کی بس یہی صدا ہے۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!