عراق۔فیصلہ کن مرحلہ- اوریا مقبول جان

گزشتہ دس سالوں سے جو بات میں ایک تواتر سے اپنے کالموں میں تحریر کرتا آیا تھا، کہ مشرق وسطی کی تازہ جنگ اور فساد کسی طور پر بھی دو اہم مسالک شیعہ اور سنی کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ اس خطے میں ایران اور سعودی عرب کی اس نسلی برتری کی جنگ ہے جسے رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے بھی قبل عرب و عجم کی جنگ کہا جاتا تھا، آج اسے عراق کے عوام نے اپنے سب سے محترم شیعہ مذہبی خاندان کے اس انقلابی لیڈر مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں بننے والے اتحاد کو الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر جتوا کر درست ثابت کردیا۔

اس الیکشن میں مقتدیٰ الصدر کا ایک ہی نعرہ تھا کہ عراق سے تمام غیر ملکی افواج اور ملیشیا جن میں ایرانی پاسداران اور ایران کی سربراہی و سرکردگی میں بننے والے ملیشیا شامل ہیں، سب نکل جائیں۔

مقتدیٰ الصدر نے اس عرب و عجم اور ایران و سعودی جنگ کے خطرے کو بھانپتے اور اسکی خوفناکی کا اندازہ کرتے ہوئے بشار الاسد سے فوری طور پر حکومت چھوڑدینے کے لیے بھی کہا تھا۔ اس کا یہ بیان بہت معنی خیز تھا۔ اس نے کہا تھا آج تم اپنی اقلیتی حکومت کو بچانے کے لیے ایران کے ملیشیا اور حزب اللہ پر بھروسہ تو کر رہے ہو، لیکن کل شام پر تمہاری نہیں ان کی حکومت ہوگی۔ باقر الصدر لبنان کے مشہور شرف الدین خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو امام موسیٰ کاظم ؒ کی اولاد سے ہے۔

یہ لوگ صدیوں سے لبنان کے جنوب میں واقع جبل امل میں آباد ہیں۔ اس خاندان نے دین کی خدمت اور تحصیل علم کا راستہ اختیار کیا اور نجف کے علمی مرکز میں جاکر آباد ہوگئے۔

جب خلافت عثمانیہ کے خلاف عرب نیشنلزم کے نعرے کو پروان چڑھایا گیا اور حجاز میں شریف مکہ نے قریش کی حکومت کا اعلان کیا تو صدر خاندان کے محمد الصدر نے 1920 میں عرب نیشنلسٹ پارٹی ’’الحرث الوطنی ‘‘بنائی عراق پر برطانوی قبضہ مکمل ہوا تو اس نے ان کے خلاف بغاوت کردی۔

برطانوی اس کے پیچھے تھے، وہ بھاگ کر نجد چلا گیا جہاں آل سعود کی حکومت تھی۔ وہاں بیس سال گزارنے کے بعد عراق واپس آگیا۔

عراق پر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس قبضے کے خلاف ’’انتفاضہ الوثبتہ‘‘ نامی بغاوت شروع ہوئی جس میں عراق کے تمام گروہ شامل تھے۔

آخر میں برطانیہ کے ساتھ جب معاہدہ طے پایا تو ’’نجد‘‘والوں کی مہمانی سے محمد الصدر کو بلاکر سینٹ کا چیئرمین بنایا گیا اور پھر وہ 29 جنوری 1948 کو عراق کا وزیراعظم بن گیا۔ یہ پہلا ممتاز شیعہ عالم دین تھا جو عرب شناخت کو اہمیت دیتا تھا اور ایران کی مذہبی قیادت کو ایران تک ہی محدود رکھنے کا حامی تھا۔

باقر الصدر اسی خاندان کے ایک بہت بڑے عالم دین آیت اللہ عظمیٰ محمد صادق الصدر کا بیٹا ہے۔ انہوں نے صدام حسین کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور صدام نے انہیں دو بیٹوں سمیت قتل کروادیا۔ مقتدیٰ الصدر کی شادی بھی ایک معزز شیعہ عالم دین آیت اللہ عظمیٰ محمد باقر الصدر کی بیٹی سے ہوئی۔ باقر الصدر کو ’’اسلامی انقلاب‘‘ نامی کتاب لکھنے پر گرفتار کیا گیا۔ انہیں جیل میں اپنے سامنے اپنی بہن آمنہ الصدر پر تشدد اور موت دیکھنے پر مجبور کیا گیا اس کے بعد ان کے دماغ میں کیل ٹھونک کر مارا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی۔

اس خاندانی پس منظر کے ساتھ مقتدیٰ الصدر 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد ٰ میدان میں آیا۔ وہ بغداد کے محلے ’’الصدر‘‘ میں رہتا تھا جس کا نام بدل کر ’’صدام سٹی‘‘رکھ دیا گیا تھا۔

اس نے صدام کی حکومت گرتے ہی اپنی سیاسی تحریک منظم کی جس کا ایک ملائیشیا ’’جیش المہدی‘‘کے نام پر بھی منظم کیا۔ اس ملیشیا نے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے ساتھ لڑائی کا آغاز کیا۔ انہوں نے بغداد میں اپنی عدالتیں لگائیں اور فیصلے کرنے شروع کر دیے۔ اس دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شیعہ سنی سول وار کی آگ بھڑکائی جس میں جیش المہدی پر بھی عراق کی سنی شہری آبادیوں کے قتل عام کے الزام لگے۔ جنگ کی اس فضاء میں اسے ایرانی ملیشیا اور دیگر کے ساتھ مل کر لڑنا پڑا۔

دوسری جانب عرب ممالک خصوصاََ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سنی ملیشیا کی مالی امداد شروع کی جس کی کوکھ سے پہلے عمر البغدادی اور پھر ابوبکر البغدادی کی دولتِ اسلامیہ یعنی داعش برآمد ہوئی۔ عراق ایک ایسی آگ میں جلنے لگا جس میں دنیا بھر سے افراد شیعہ اور سنی مسالک کے نام پر بھرتی ہوکر لڑنے لگے۔ یہ ایک خوفناک صورتحال تھی۔ 15 فروری 2014 کو مقتدیٰ الصدر کی تنظیم جو الشہید الصدر کے نام پر وجود میں آئی تھی اور اپنے بے شمار دفاتر چلا رہی تھی سب کے سب دفاتر کو عراق اور اس کے باہر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے یہ بھی اعلان کیا کہ عراقی پارلیمنٹ میں کسی گروہ کو بھی اس کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

اس نے ایران سمیت تمام غیر ملکی مسلح ملیشیاؤں کو عراق سے نکل جانے کے لیے کہا۔ ان دنوں اس کی تقریری بہت پرجوش تھیں۔ اس نے کہا کہ جس زمین پر آگ جلتی ہے وہی تپتی ہے۔ ایران اپنی ایرانی فوجی بالادستی کی جنگ عراق میں کھیل رہا ہے۔ خاک و خون میں ہم غلطاں ہو رہے ہیں اور پرچم ایرانی بالادستی کا بلند ہورہا ہے۔ 2017 میں عراق میں امن کی بھیک مانگنے کے لیے صدام حکومت کے خاتمے کے بعد کے گیارہ سالوں میں پہلی دفعہ وہ سعودی ولی عہد شہزادے اور متحدہ عرب امارات کے امیر سے ملاقات کرنے پہنچ گیا۔ایسا کر کے اس نے دنیا کو اس نے حیرت میں نہیں پریشانی میں ڈال دیا۔

اپریل 2017 میں اس نے عراق، شام اور لبنان کی تمام شیعہ قیادت سے بالکل مختلف موقف اختیار کیا اور بشار الاسد کی حکومت سے امن کے قیام کی خاطر مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کیا۔ اس نے ایک امن ملیشیا قائم کیا۔ 26 فروری 2016 کو اس نے امریکی کاسہ لیس وزیراعظم حیدر العبادی کی کرپشن کے خلاف بغداد کے تحریر اسکوائر میں ملین مارچ کیا۔ 18 مارچ کو اس کی تنظیم نے سرکاری رہائش گاہوں کے علاقے گرین زون کے باہر دھرنا دے دیا۔ 27 مارچ کو وہ خود بھی دھرنے میں جا کر بیٹھ گیا۔ وزیراعظم اندر قید ہو کر رہ گیا۔ عراقی فوج کے سربراہ نے مقتدیٰ الصدر کا ہاتھ چوما اور اس سے مذاکرات کے لیے اندر جانے کی اجازت مانگی جو اسے مل گئی۔

جب 4 اپریل 2017 کو بشارالاسد نے خان شیخون کے قصبے پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تو مقتدیٰ کا پورا گروہ بشارالاسد پر مقدمہ چلانے کے نعروں سے گونج اٹھا۔ داعش کو شکست ہوئی تو مقتدیٰ کا نعرہ اور زور سے گونجا کہ اب کسی ایک بھی ملیشیا یا عرب جنگجوؤں کو یہاں نہیں رہنا چاہیے۔سب جواز ختم ہو گئے ہیں۔ اس نے انتخابات کے لئے ایک اتحاد ’’سیرون‘‘ کے نام سے بنایا جس میں عراقی کیمونسٹ پارٹی، عراقی سیکولر، اور عام سنّی اور شیعہ شامل ہو گئے۔ الیکشن سے چند دن پہلے ایرانی لیڈر علی اکبر ولایتی عراق گیا اور ایک بار پھر ایرانی جنگ کو مسلکی اسلامی جنگ کا روپ دیتے ہوئے کہا کہ’’م عراق پر سیکولر اور لبرل حکومت نہیں قائم ہونے دیں گے‘‘۔

یہ مقتدی الصدر کے خلاف بیان تھا، ایک ایسے شخص کے خلاف جس کا باپ اور سسر دونوں آیت اللہ عظمیٰ تھے۔ الیکشن منعقد ہوئے۔ مقتدیٰ الصدر کا اتحاد سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آچکا ہے۔ لیکن اس اتحاد کے پاس 329 کے ایوان میں صرف 55 سیٹیں ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایرانی حمایت یافتہ ہادی الامیری کے گروہ کے پاس 47، کردستان کے مسعود بارزائی کے پاس 25، امریکی گروہ حیدر العبادی کے پاس 42 ارکان ہیں۔ حکومت بنانے کیلئے جوڑتوڑجاری ہے۔

امریکی حمایت یافتہ حیدر العبادی اور ایرانی گروہ ہادی الامیری اس سرتوڑ کوشش میں لگے ہیں کہ کہیں مقتدیٰ کی حکومت نہ بن سکے۔

لیکن اسامہ النجفی، نوری المالکی، جلال طالبانی، ایادعلاوی اور دیگر رہنماوں کے قائم کردہ گروہ اب کسی صورت بھی وہ جنگ نہیں لڑنا چاہتے جیسے مسلک کا تڑکا لگا کر قتل و غارت کروائی گئی تھی۔ یہی حال عام سنی مسلمان اور سنی کردوں کا ہے۔ عراق کے گیارہ سالوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک سبق سکھایا ہے کہ بدترین لڑائی وہ ہوتی ہے جو دراصل نسل, رنگ اور زبان کی لڑائی ہو لیکن اسے ایک مقدس روپ دینے کے لیے مسلک کی جنگ بنا کر پیش کیا جائے۔ کیا مقتدیٰ الصدر کامیاب ہو سکے گا، یا ہمسایہ ملک اپنے بظاہر دشمن اور اندرونی طور پر حلیف امریکہ کے مہروں کے ساتھ مل کر عراق پر اپنا قبضہ قائم رکھے گا۔ یہ سوال اس عراقی قوم کے دماغوں سے روز ٹکراتا ہے جو یہ جان چکے ہیں اس خطے میں بدامنی، قتل و غارت اور تباہی شیعہ سنی لڑائی نہیں، ایران اور سعودی عرب کی بالادستی کی لڑائی ہے۔