ڈکیت بابا اور جمہوریت کی تعریف - اسامہ الطاف

بیروزگاری سے پریشان شہری بے راہ رو ہوگیا۔ حلال آمدن کے راستے مسدود دیکھ کر اس نے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے چوری راستہ اختیار کرلیا۔ ڈر اور جھجک کے ذریعے اس کے ضمیر نے کچھ مزاحمت کی، لیکن رفتہ رفتہ وہ اپنے پیشے میں ماہر اور نڈر ہوگیا۔ حتیٰ کہ شہر میں اس کی دھاک بیٹھ گئی اوروہ ڈکیت بابا کے نام سے مشہور ہوگیا۔ بابا کا لاحقہ اس کی ادھیڑ عمری کی وجہ سے لگا۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا۔ پورا شہر ڈکیت بابا اور اس کے کارندوں سے پریشان اور خوفزدہ تھا۔ بالآخر ایک دن ڈکیت بابا قانون کی گرفت میں آہی گیا۔ بوڑھے مجرم کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھ کر شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ ایک انہونی تاہم شہریوں کی منتظر تھی۔ ڈکیت بابا کی گرفتاری کے بعد اس کے کارندوں نے شہر بھر میں دھما چوکڑی مچادی کہ پولیس نے بزرگ شہری کا احترام نہیں کیا اور ڈکیت بابا سے غیر مناسب رویہ بزرگوں کی توہین ہے۔

28جولائی کے بعد ملک میں سیاسی منظر نامہ ڈکیت بابا کے قصے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ جس طرح ڈکیت بابا کے کارندوں نے بزرگوں کے احترام کی ایک نئی تعریف پیش کی اسی طرح آج کل ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور ووٹ کے تقدس کی نئی تعریفات پیش کی جارہی ہیں، جس پر ہر عاقل انگشت بدنداں ہے۔جمہوریت کا خلاصہ آزاد انتخابات کے ذریعے حکومت کی تشکیل، عدالت،مقننہ اور انتظامیہ کی مستقل حیثیت اور عوامی فلاح کے لیے کام کرنے والے آزاد ادارے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام تجارت اور آزاد صحافت بھی جمہوریت کے لوازمات میں سمجھے جاتے ہیں،لیکن حبیب جالب کے مصرع

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

بے نام سے سپنے دیکھا کر

یہاں الٹی گنگا بہتی ہے

کے مصداق وطن عزیز میں جمہوریت کی اصطلاح کو سیاستدان خود پر ہونے والے ہر جائز و ناجائز حملے کے سامنے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ملک میں ہر خاص و عام اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ سیاست اور حکومت سیاستدانوں کو ہی ساجھتی ہے اور اس میں غیر سیاسی عناصر کی مداخلت ملک اور قوم کے نقصان کا باعث بنتی ہے، لہٰذا جمہوریت کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے، لیکن جمہوریت کی بقا کا مطلب جمہوری نمائندوں کا مافوق القانون ہونا ہرگز نہیں ہے۔ احتساب کے بالمقابل جمہوریت کا نعرہ گمراہ کن ہے۔ جمہوریت اور احتساب متضاد اصطلاحات نہیں ہیں۔ امریکہ میں جمہوری حکومت کے سربراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مولر تحقیقات ایک سال سے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سینے یا رازوں کے قبرستان - حبیب الرحمٰن

جمہوری نظام میں احتساب کا مقصد طاقت کے ناجائز استعمال کو روکنا، مفاد اور مال عامہ کا تحفظ کرنا ہے۔ جمہوری نمائندوں کے احتساب سے نظام میں شفافیت کو یقنی بنایا جاتا ہے۔ منتخب نمائندہ کا منصب جتنا اونچا ہوگا احتساب کا معیار بھی اتنا ہی سخت ہوگا کیونکہ اعلیٰ مناصب پر فائز افراد کو اعلیٰ اخلاقیات کا حامل ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں یہ بنیادی اصول بھلادیے گئے ہیں، اس لیے احتساب سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے جمہوریت کی بقا اور ووٹ کے تقدس کا نعرہ مقبول ہوجاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں احتساب ووٹ کے تقدس کا ضامن ہے کیونکہ احتساب میں ملزم سے ووٹوں کے ذریعے ملنے والے اختیارات کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ ملزم نے عوام کے مقدس ووٹ سے ملنے والے اختیار کو ذاتی فائدے میں استعمال کرکے ووٹ کی توہین تو نہیں کی۔

سیاسی شعبدہ بازی میں جھوٹ اور سچ کی تمیز نہیں کی جاتی اور بعض اوقات جھوٹ اتنا زیادہ بولا جاتا ہے کہ عوام الناس اس کو حقیقت تسلیم کرلیتے ہے۔ قومی خزانے سے چوری کرنے والے کو کرپٹ کہنا اور بد دیانت کو نا اہل کرنا آئین کی پاسداری اور جمہوری عمل کے عین موافق ہے۔ اس احتساب کے عمل کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیناڈکیت بابا کی گرفتاری کو بزرگوں کی توہین قرار دینے کے مترادف ہے۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.