جنت کے رنگ – ایمن طارق

سر جھکائے اپنی نوٹ بک پر پینسل اسکیچنگ کرتے ہوئے ایسا لگا کہ وہ آج کے سیشن میں موجود تو ہے لیکن دماغ کہیں اور ہے۔ کچھ حیرت سی ہوئی کہ آج اُس نے کوئی سوال نہیں کیا لیکن اتنا ٹائم نہیں تھا کہ الگ سے بات چیت ممکن ہوتی اور ہم اِس غائب دماغی کی وجہ معلوم کرتے اس لیے سوچا کہ بعد میں فرصت سے پوچھ لیں گے۔ وہاں سے اُٹھے تو ہم ساتھ ہی نکلے اور واک کرتے ہوئے ہمیں یاد آیا کہ "کیا ہوا آج تم کہاں تھیں سیشن کے دوران کوئی سوال کوئی جواب نہیں خلاف معمول؟"

"جی میں اصل میں یہی سوچتی رہی کہ گھر جاکر آج فخر سے یہ کہہ سکوں گی کہ اگر مردوں کو جنت میں حوریں ملیں گی تو ہم بھی حوروں سے کم نہیں ہوں گے اور حسین اور جوان ہو کر آپ سے بے نیاز جنت میں ادھر سے ادھر باغوں میں گھومتے پھریں گے اور یہی کہنے کے لیے مناسب الفاظ سوچتے ہوئے میرا دھیان کہیں اور ہی نکل گیا اور ایسا ہوا کے آپ کی آواز تو سنتی رہی پر اتنا اچھی طرح نہیں سمجھ سکی۔"

اُس کے چہرے پر ندامت کے آثار دیکھ کر ہم نے بھی دل رکھنے کو یہی کہا کہ "ہاں اور کیا بات ہے اتنی دل خوش کرنے والی ہے" اور واقعی رمضان کے ان سیشنز میں سورت واقعہ کی ۳۶، ۳۷ آیات کی تفسیر سے سامنے موجود سب ہی خواتین کے چہرے کھل اُٹھے کہ جوان، حسین اور خوبصورت نظر آنا ایک خوبصورت خواب ہی ہے۔ کسی اینٹی ایجنگ کریم کی ضرورت نہ پڑے، رنگ گورا کرنے کے نسخے ہوا ہو جائیں اور کسی کو عمر بتاتے ہوئے زبان نہ لڑکھڑائے اور شوہر کی نظر بیوی کے چہرے پر ہی ٹک جائے۔ افف! یہ سب تو بس آرزوئیں ہی تھیں جن کے پورا ہونے کی نوید ملی تھی آج۔۔

لیکن ایسی عورتیں بننا اور ان انعامات کا مستحق بننے کے لیے دنیا میں اپنے عمل نکھارنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بنا محنت کے تو کچھ بھی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس خوبصورت خواب کی تکمیل کو حقیقت بنانے کے لیے سیدھے راستے پر چلنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اس پر چلنے کے لیے motivate کرنا ہی ایک واحد اُمید ہے۔ لیکن سیدھے راستے پر چلنا مشکل ہے یا آسان؟ ان لوگوں کا راستہ کہ جو محنت سے لگن سے آگے بڑھتے رہے، کانٹوں سے دامن بچاتے، اپنی پسند کی قربانی دیتے، انسانوں کی طرف سے دی گئی سختیاں برداشت کرتے اور جنت تک پہنچنے کے راستے پر آگے ہی آگے سبقت لے جاتے۔ مشکل ہے خصوصاً ایک ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہو کر اور جب اور بھی مشکل کہ جب ارد گرد کے لوگ بھی ساتھ نہ دینے والے ہوں لیکن یہ بھی تو ہے کہ محنت اور جدوجہد تو ہم خود کو سب سے منفرد رکھنے کے لیے بھی کرتے ہی ہیں۔ محفل کی جان نظر آنا، سب سے مختلف لباس، اسٹائل اور accessories کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تب کہیں جاکر ستائشی نظریں مقدر بنتی ہیں تو پھر جنت تک پہنچنے کی محنت کے سفر میں اتنے سست کیوں پڑ جاتے ہیں؟

دائیں بازو والے خوش نصیب لوگوں کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے، سلامتی والے استقبال کا مستحق بننے کے لیے زندگی کو اس رنگ میں ڈھالنا ضروری ہے جو رب رحمٰن کا رنگ ہے۔ حضرت ام سلمیؓ سے روایت ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔" میں نے پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.