ٹریننگ کا مہینہ - محمد صدیق طاہری

دستور زمانہ ہے کہ کسی کو کوئی ذمہ داری سونپنے سے قبل اسے متعلقہ کام کے حوالے سے تربیت فراہم کی جاتی ہے اور باقاعدہ ٹریننگ کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ آنے والے وقت اور حالات کے لیے اس فرد کو تیار کیا جاسکے۔ چاہے اس فرد کا تعلق افواج سے ہو، چاہے دفتری اونچ نیچ سے ہو یا چاہے پیشہ ورانہ معاملات پیش نظر ہوں۔ حتیٰ کہ ہر شعبے میں ٹریننگ کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ ٹریننگ اس لیے بھی ضروری ہوتی ہے کہ فرد کو نہ صرف شعوری بیداری فراہم کی جائے بلکہ علمی طور پر بھی اپنے مدد مقابل فرد، کام یا ٹارگٹ سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے ہمکنار کیا جاسکے۔ دوران تربیت سخت اور تکلیف دہ مراحل اور مشقوں سے گزارا جاتا ہے تاکہ اعصاب اور ہمت کو مضبوط تر کیا جاسکے۔

اللہ رب کریم نے بھی ہم گناہگار بندوں کے لیے رمضان المبارک کی صورت میں شعوری اور عملی تربیت اور ٹریننگ کا بہترین انتظام فرمایا ہے، تاکہ ہم نہ صرف شیطان بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ جائیں اور اس ٹریننگ کے بعد شعوری اور عملی میدان میں رب کریم کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں۔ اس ماہ مبارک میں ہماری تربیت کا مرکز ہمارا نفس ہوتا ہے جوکہ بہت زیادہ سرکش واقع ہوا ہے، لہٰذا روزے کے تمام معاملات اور کیفیات اس نفس پر گراں گزرتی ہیں اور اسے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرتی ہیں (بشرطیکہ ہمارے معاملات میں اخلاص شامل ہو) جو بندہ مومن اس ماہ مبارک میں اپنی رضا اور خوشی سے تربیت حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے رب کی رحمت ہمہ وقت منتظر رہتی ہے۔ ایسے لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں مقبول ہوکر سعادت ابدی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے ماہ مضان کے بعد بھی نیک اعمال کرنا مشکل نہیں رہتے اور ان اعمال پر استقامت کی دولت بھی ایسے ہی خوش نصیبوں کے حصے میں آتی ہے۔

شومئی قسمت! ہم اس ماہ میں تو بہت زور و شور سے عبادا ت اور اعمال صالحہ کی طرف راغب ہوتے نظر آتے ہیں، مگر جیسے ہی عید کا چاند طلوع ہوتا ہے، ہمارے اپنے چاند عملی میدان سے غروب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر وہی مسجد ہوتی ہے اور وہی چند مخصوص لوگ، وہی قرآن ہوتا ہے اور وہی چند پڑھنے والے، وہی رب ہوتا ہے اور وہی چند افراد اسے یاد کرنے والے۔ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند دنوں کے لیے میلہ لگا تھا، ہر طرف شور و غل تھا، چمکتی دمکتی روشنی اپنی مثال آپ تھی، مگر نہ جانے پھر کیا ہوتا ہے کہ میلے کی مدت مکمل ہوتے ہی اچانک ہر سمت اندھیرا چھا جاتا ہے اور ساری کی ساری رونق کہیں غائب ہو جاتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ٹریننگ کے نتیجے میں یہ سلسلہ پورا سال جاری و ساری رہتا،مگر شاید ہم اس ماہ کو ٹریننگ کا مہینہ نہیں سمجھتے بلکہ دوسروں کے دیکھا دیکھی چند رسمی معاملات کو محدود مدت کےلیے اختیار کر لیتے ہیں اور پھر جیسے ہی وہ مدت پوری ہوتی ہے ہم خود کو ہر طرف سے آزاد سمجھ لیتے ہیں اور پھر اگلے سال اس عمل کو دوبارہ دہرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

آئیے مل کر عزم کریں کہ اس رمضان المبارک میں مخلص ہوکر اپنی اصلاح اور تربیت کریں گے اور اسے پورے سال اپنے پہلو سے جدا نہیں ہونے دیں گے۔ اللہ رب کریم ہم تمام کا حامی و ناصر ہو!