پہلا روزہ - طیب طاہر چغتائی

بات ہے اُن دنوں کی جب سوچیں محدود اور دن آرام دہ ہوتے تھے۔ فکر معاش وحالات حاضرہ سے بے خبر کھیل کود میں مگن رہتے تھے۔ سردی کا راج تھا۔ ہر سُو خنکی پھیلی ہوئی تھی۔ سرد ہواوں کے جھکڑ جسم سے ٹکرا کر ٹھٹھرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ دھندلکی شام تھی اور مسجدوں کے سپیکر سے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں شروع ہونے کے اعلانات ہونے لگے۔ خلق خُدا کے چہرے پر ایک عجیب سے خوشی نظر آنے لگی۔ بستروں میں دُبکے بندا خُدا، بستر چھوڑ مساجد کا رُخ کرنے لگے۔

سکول سے واپس گھر آتے ہی بیگ اتارا اور ضد پکڑ لی کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے۔ ماں بے چاری سمجھا بجھا تھک ہار خاموش ہو گئی۔ ارادہ اُن کا تھا صبح جگائیں گئے ہی نہیں۔ ابھی تو مان کر ہی نہیں دے رہا تو خاموشی بھلی!

وہ کہتے ہیں نا، ارادے جن کے نیک ہوں، نیت جن کی پختہ ہو، بس اِسی کے مصداق نیت چونکہ پکی تھی تو اللہ کی شان صبح امی جان کو بھی ہم نے ہی جگایا۔ 6 سال کی عمر میں یوں پہلی سحری کھا، روزہ رکھے، رب کو راضی کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ نماز فجر ادا کر کے گھر لوٹے تو امی جان کیسی ماہر شکار کی طرح تاک میں بیٹھی تھیں کہ کب شکار ہاتھ لگے اور دبکا کر بستر میں لٹا دیا جائے۔ ٹوم اینڈ جیری والا کھیل شروع ہو گیا/ سبھی حربے آزما لینے کے بعد پیار والا حربہ آزمایا گیا "دیکھ میرا سوہنا بیٹا نہیں، میرا لال، میرا چاند!"

اب ہم ٹھہرے صدا کے نرم دل انسان۔ 65ء میں جس طرح انڈین سپاہ نے ہتھیار ڈالے تھے بیعینہ یونہی ہم بھی سرنگوں ہو گئے۔ ہمیں بستر میں لٹا کر امی جان اپنے آپ کو یوں محسوس کر رہی تھیں جیسے کیسی مملکت پر تازہ فتح حاصل کر لی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   جب آنکھ نہ کھلی - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اب آپ سے کیا چھپانا؟ امی جان کی یہ فتح ہزار ہا کوششوں کے باوجود ظہر تک ہی قائم رہ سکی۔ روزہ رکھنے کی خوشی میں ہم نے پھر جو گھر میں اودھم مچایا الامان والحفیظ!

یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے روزہ رکھ کر ہم نے کسی پر احسان کیا ہو۔ بدلہ میں سب کو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے کہ آخر کو گھر میں ایک عدد بھائی اور بہن کی موجودگی کے باوجود ہم اکیلے ہی روزہ دار تھے۔ ہماری زندگی کا سفر اردو کے" لک" "چاٹنا"، پنجابی کے "لک" "کمر"، انگریزی کے "لک" "قسمت" سے ہوتا ہوا عربی کے "لک" "کے لیے "میں داخل ہو چکا تھا۔

افطاری میں دس منٹ باقی تھے۔ سارے دن کی تگ ودو کے بعد جسم سے بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا۔ اِسی میں امی جان نے افطار کی تھالی تھمائی کہ جا کر قاری صاحب کو دے آؤ۔ تھالی پکڑے، لغزش زدہ قدموں سے جب مسجد پہنچے تو معلوم پڑا قاری صاحب کہیں اور "شکار" کرنے گئے ہوئے ہیں، کمرا اُن کا خالی ہے۔ بس پھر کیا تھا؟ اندھا چاہے دو آنکھیں، ہم اُس تھالی پر ٹوٹ پڑے سائرن کی آواز سنے بغیر۔

تھال میں پڑی فروٹ چاٹ پر ابھی ہاتھ صاف ہو ہی رہا تھا کہ بھیانک انکشاف ہوا۔ ہم جو سمجھے تھے قاری صاحب کہیں اور شکار کو نکل گئے تو معلوم پڑا کہ قاری صاحب شکار کو نہیں ہلکا ہونے کو گئے تھے۔

بس پھر کیا تھا؟ کان سے پکڑ کر مسجد سے بے دخل کر دیے گئے۔ اب یہاں یہ لکھتے اچھے تو نہیں لگتے نا کہ قاری صاحب کا مالِ افطار کھانے کے چکروں میں تواضع نہیں ہوئی ہوگی۔

بس جناب گھر قدم اٹھاتے ہم سوچ رہے تھے مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟