رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیں گے؟ - احسان کوہاٹی

تونسہ شریف کے شاہد سلیم بزدار بلوچ ہیں، تونسہ شریف میں ان کی زرعی ادویات کی دکان ہے یہ دکان روزی روزگار کے ساتھ ان کی اوطاق، بیٹھک بھی ہے جہاں وہ دکانداری کے ساتھ ساتھ یاروں دوستوں کے ساتھ کچہری بھی کرتے رہتے ہیں۔ وہ دائیں بازو کے مزاحمتی فرد ہیں اس لیے وہ سنڈی مار دائیں بیچنے کے ساتھ ان مجلسوں میں بھی سوسائٹی کو حملہ آور سنڈیوں سے بچانے کے لیے ذہن تھکاتے رہتے ہیں۔ پڑھے لکھے باشعور نوجوان ہیں اس لیے ترقی یافتہ پنجاب کے پسماندہ ترین علاقہ میں رہنے کا قلق ستاتا رہتا ہے اور تلخی سے کہتے ہیں پنجاب کی ساری ترقی فیصل آباد پر آکر رک جاتی ہے۔ فیصل آباد سے آگے ہم کاغذوں میں تو پنجاب کا حصہ ہیں لیکن حق وصولی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ لاہور ہمارے لیے وہ سوتیلی ماں ہے جس کی چولہے کے پاس گرم چمٹے سے مار تو نصیب ہوتی ہے لیکن گرم روٹی کا لقمہ نہیں نصیب ہوتا۔ اسلام آباد بھی ہمارے لیے پردیس گیا ہوا باپ ہے یہ پلٹ کر خبرہی نہیں لیتا۔ اس کے باوجود شاہد سلیم کی زبان پران نام نہاد بلوچ قوم پرستوں کی طرح پاکستان سے بیزاری اور لعن طعن نہیں جو ۲۸ مئی یوم تکبیر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

سیلانی سوچتا ہے کہ یہ قوم پرست علیحدگی پسند اپنے سرداروں کے خلاف کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ پاکستان سے پہلے ان کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے جن کے بچے ولایتی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں،کراچی کے مہنگے ترین اسکولوں سے او لیول کر تے ہیں اور ڈیفنس کے چار چار ہزار گز کے بنگلوں میں چالیس قبائلی محافظوں کے ساتھ رہتے ہیں بلوچستان کی غربت اور محرومیوں میں سازشیں گوندھ کر خوفناک مجسمے بنانے سے پہلے ان سرداروں سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ آپ کے کتے بھی منرل واٹر پیتے ہیں اورہم گندا پانی پی پی کر گردے خراب کررہے ہیں؟

شاہد سلیم بزدار سوشل میڈیا پر خاصے متحرک ہیں لیکن ان کی تحریک سرخ اور نیلے پیلے سلاموں والی نہیں وہ عملی آدمی ہیں لفظوں کے کیک بنانے سے زیادہ سوکھی روٹی کسی کو دینا بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے اہداف رکھ کر کام کرتے ہیں آجکل ان کا ہدف ایک کمرہ، ایک غسل خانہ، باورچی خانہ اور اس کے گرد کھنچی چار دیواری کا مکان ہے۔ وہ فیس بک پر اپنی اس مہم کے لیے احباب کو متوجہ کر رہے ہیں انہوں نے سیلانی کو بھی متوجہ کیا جس کے بعد ان کا یہ ٹارگٹ سیلانی کو بزدار قبیلے ہی کے محنت کش دس سالہ محمد آصف اور سات سالہ محمد ایوب تک لے گیا، جنہیں تقدیر نے باپ کی شفقت سے محروم کیا تو غربت نے ماں کو چھین لیا وہ منہ اندھیرے اٹھ کر چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے گلیوں سڑکوں پر گتے کے ٹکڑے چن کر بوریاں بھرتے ہیں تب کہیں جا کرپیٹ میں دہکتی بھوک کی انگیٹھی مدہم ہوتی ہے۔

دس سالہ محمد آصف اور محمد ایوب ایک غریب محنت کش مزدورکی اولاد ہیں۔ محمد قاسم بزدار محنت مزدوری کرکے کسی نہ کسی طرح دو گھر چلاہی لیتا تھا، اس نے بھی دو شادیا ں کر رکھی تھیں، بزدار بلوچوں میں ایک شادی والے کم ہی ملیں گے۔ اس قبیلے میں اکثر مرد دو گھروں کے حاکم ہوتے ہیں چاہے وہ دو گھر چلانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں لیکن دو شادیاں ضرور کرتے ہیں۔ ویسے یہاں استطاعت رکھتا ہی کون ہے؟ ہر طرف غربت کے سرکنڈے سر اٹھائے کھڑے ملتے ہیں۔ محمد آصف کے والد نے بھی غربت کے باوجود یہ رسم نبھائی اور دوسری بار سہرا باندھ لیا کہ آنے والا اپنا نصیب لائے گی اور اس سے آنے والے دو ہاتھ دو پاؤں بھی تو لائیں گے۔ ایسا ہی ہوا، دوسری بیوی سے اوپر تلے دو بیٹے آصف اور ایوب اور ایک بیٹی بھی ہوگئی۔ تونسہ شریف کراچی و لاہور کے مقابلے میں تو پسماندہ ترین علاقہ ہے لیکن کوہ سلیمان کے دامن میں بسنے والے بزداروں کے لیے یہ پسماندہ علاقہ اب بھی ’’شہر‘‘ ہی ہے، وہ شہر جہاں روزی روٹی، محنت مزدوری مل جاتی ہے۔ اسی شہر میں محمد قاسم کا بھی گزر بسر ہو رہا تھا۔ زندگی کسی نہ کسی طرح گھسٹ ہی رہی تھی کہ محمد قاسم کا بلاوہ آگیا، وہ بیمار پڑا اور ایسا پڑا کہ پھر اٹھ نہ سکا اور چھوٹے چھوٹے تین بچوں کو یتیم اور دونوں بیویوں کو بیوہ کرکے چلا گیا۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھا تو آصف اور ایوب کے لیے زندگی اور تلخ ہو گئی۔ آصف کی عمراس وقت بمشکل چھ سات سال رہی ہوگی، اسے یتیمی کے معنی بھی نہ معلوم تھے بس اتنا جانتا تھا کہ اس کا باپ شانے ڈھلکائے اب کبھی ڈوبتے سورج کے ساتھ گھرکا دروازہ کھول کر نہیں آئے گا۔

والد کے انتقال کے بعد چاچا اور دیگر عزیز و اقارب نے کچھ عرصے ساتھ دیا لیکن آخر کب تک؟ ان کے اپنے مالی حالات خراب تھے گھر میں روٹی کے لالے پڑ گئے ایسے وقت میں محمد آصف کی ماں کا اس کے گھر والوں نے کہیں اور رشتہ طے کر دیاکہ بے شک تین بچوں کی ماں ہے لیکن جوان جہاں بیٹی اکیلی کس طرح زندگی کے دن گزارے گی، قاسم کی بیوہ زندگی کے تلخ ترین دن کاٹ رہی تھی اس کے پاس تعلیم تھی نہ ہنر، گھر والے بھی محنت مزدوری کرنے والے تھے، اس کا بوجھ کون اٹھاتا اور کب تک اٹھاتا؟ اس کے لیے رشتہ آیا تو اس نے ہاں کردی اس ’’ہاں ‘‘کے لیے اس نے بہت بڑا فیصلہ کیا اس نے دل پر پتھر رکھ کر اولاد کو چھوڑدیا کہ دوسرے کے بچے دوسرا کیوں پالتا؟ اس کے دوسرے شوہر نے یہی شرط رکھی تھی کہ وہ بچوں کی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا، پھر بچوں کا کیا بنے گا انہیں کون سنبھالے گا؟ کون کھلائے گا کون پلائے گا وہ اسکول بھی جاتے ہیں کون اسکول کا بستہ کتابیں دلائے گا؟ یہ سارے سوال دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اس نے روتی بلکتی ممتا پر پاؤں رکھے اور نئے گھر چلی گئی اس کے بچے اس کی سوتن کے حوالے ہوگئے اس دکھیارن کا بھی کوئی سہارا نہ تھا۔ اسے دیور نے سرچھپانے کے لیے ایک کمرہ دے دیا جہاں وہ اپنی سوتن کے تین بچوں کے ساتھ رہنے لگی لیکن مسئلہ صرف سر چھپانے کا تو نہیں ہوتا۔ پاپی پیٹ صبح شام روٹی مانگتا ہے، پیٹ کی اس مانگ نے منہ اندھیرے آصف اور ایوب کو گھر سے نکال دیا۔ وہ صبح سویرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر بوری کاندھے پر ڈال کر گھر سے نکلتے اور بازاروں میں سے گتے کے ٹکڑے بوری اس وقت تک جمع کرتے رہتے جب تک دن نہ چڑھ آتا۔ اس کے بعد یہ دونوں محنت کش بوری اٹھائے پسینے سے شرابور گھر کا رخ کرتے ’’ماں‘‘سوکھی روٹی اور چائے کے ساتھ ان کی منتظر ہوتی۔ اکثر چائے میں دودھ نہیں ہوتا تھا جس دن دودھ والی چائے کا پیالہ ملتا دونوں بھائیوں کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور وہ سوکھی روٹی ڈبو ڈبو کر رغبت سے کھانے کے بعد اسکول کو دوڑ لگادیتے۔ اسکول کے بعد واپسی پر وہی بوریاں پھر ان کی منتظر ہوتیں۔ یہ دونوں بھائی بوریاں اٹھا کر کاغذ گتاچننے چل دیتے اورپھر شام ہی کو لوٹتے۔

شاہد سلیم کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے ملازم سے کسی غریب گھر کا معلوم کرنے کے لیے کہا تو اس نے ان بچوں کا بتایا میں ان سے جا کر ملا او ر گھر کی حالت دیکھ کر لرز گیا۔ مجھے ان کی کہانی معلوم ہوئی تو دل مسوس کر رہ گیا اور جب ایک بچے نے یہ کہا کہ اسکول کی چھٹیاں ہیں چھوٹی ماں انہیں کچھ دن لینے کے لیے آئی تھی لیکن بڑی ماں پریشان ہوگئی کہ یہ چلے گئے تو کاغذ گتا کون لائے گا اور وہ سو روپے کہاں سے آئیں گے جن سے دو وقت کی روٹی ملتی ہے؟ اس کی پریشانی دیکھ کر ماں بچوں کی پیشانی چوم کر لوٹ گئی وہ اصرار بھی کرتی تو کس برتے؟

شاہد سلیم فون پر سیلانی کو بتا رہا تھا کہ سیلانی بھائی میں تین دن تک سو نہ سکا۔ میری آنکھ لگتی اور کھل جاتی مجھے اپنے رب سے ڈر شرم آنے لگی کہ ہمارے آس پاس اس طرح کے لوگ بھی رہتے ہیں، ایسے ستم رسیدہ بھی رہتے ہیں۔ شاہد سلیم نے غربت کی دلدل میں گردن تک دھنسے اس خاندان کی مدد کی ٹھانی۔ انہوں نے ایک ریسٹورنٹ کے مالک سے بات کی اس نے کہا اس خاندان کے لیے کھانا میرے ہوٹل سے، بس کوئی آکر لے جایا کرے لیکن مسئلہ یہ کہ وہ ریستوران فاصلے پر ہے، ننھے قدم اس قیامت خیز گرمی میں اتنا فاصلہ سمیٹنے سے قاصر ہیں۔ شاہد سلیم اب اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس فیملی کے لیے تین مرلے کا مکان بنانا چاہتا ہے۔ ان بھلے لوگوں کا خیال ہے کہ پانچ لاکھ روپے میں وہ یہ مکان بنا سکیں گے۔ پانچ لاکھ روپے بہت بڑی رقم نہیں خاص کر اس ماہ رحمت و برکت میں، یتیموں کی کفالت اور ان کے سر پر دست شفقت رکھنا تو ویسے بھی سنت رسول ﷺ ہے۔ اس سنت پر کون صاحب عمل نہ کرنا چاہے گا؟ ان پانچ نیک دل دوستوں نے اس کام کے لیے ایک ملک آصف کھوکھر کا اکاؤنٹ نمبر 1004842856بنک الفلاح تونسہ شریف، برانچ کوڈ 0462 میں کھلوا رکھا ہے۔

شاہد سلیم پرامید ہے، ایک ہی دن میں ساٹھ ہزار روپے جمع ہوچکے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تونسہ کی سخت سردیاں یہ بچے اپنے گھر میں اطمینان سے گزاریں۔ ساتھ ہی وہ ان بچوں کے باعزت روزگار کے لیے بھی اپنی دکان اور اوطاق میں دوستوں کے ساتھ مشورے کر رہا ہے۔ شاہد سلیم نے واٹس اپ کے ذریعے سیلانی کو ان بچوں کی تصویر بھی بھیجی۔ ایک تصویر میں محمد آصف اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں ان گنت سوال لیے کیمرے کی جانب دیکھ رہا تھا دوسری تصویر میں اس گھر کی حالت زار ظاہر ہورہی تھی۔ ایک کمرے میں ایک چارپائی، نیچے سامان ٹھونسا ہوا میز کی جگہ پر اینٹوں پر رکھی سلیب اور اس پرپڑی گھٹڑیاں سب سے آخری تصویر سنولائی ہوئی رنگت اورلجھے ہوئے بالوں والی فاطمہ کی تھی جس میں وہ اپنے بابا کی تصویر لیے کھڑی تھی۔ اس کے بال بتا رہے تھے جب سگی مائیں نہ ہوں تو فاطماؤں کے بال الجھے ہی رہ جاتے ہیں۔ سیلانی کا ہاتھ بے اختیار اٹھا اور اٹھے کا اٹھا ہی رہ گیا کاش وہ فاطمہ کے بال سنوار سکتا، اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر محمد آصف کا شانہ تھپتھپا کر کہہ سکتا کہ فکر نہ کرووقت ایک سا نہیں رہتا بس ہمت نہ ہارنا۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے الجھے بالوں والی فاطمہ اور بڑی بڑی آنکھوں والے آصف کی آنکھوں میں جھانکنے لگا اور ان میں امید کے جلتے دیپ دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.