ملاقاتوں کو قربان نہ کریں - ڈاکٹر جویریہ سعید

دوستوں اور رشتے داروں کو کھانے پر مدعو کرنا اور آپس میں تحائف کا تبادلہ ایک بہت خوبصورت روایت ہی نہیں ہے بلکہ اس سے آپس میں مل کر بیٹھنے، اپنی محبت اور کشادگی کے اظہار کا بھی موقع ملتا ہے۔ خصوصاً آج کی دوڑتی بھاگتی دنیا میں جب باہم رابطے اب فون پر گفتگو کے درجے سے بھی نیچے آکر ایک دوسرے کو واٹس ایپ پیغامات، یہاں تک کہ کسی آن لائن خوبصورت سے کارڈ کو فارورڈ کر کے ذمہ داری پوری کر دینے تک محدود ہوتے جارہے ہیں۔

آن لائن “فرینڈز” اور واٹس ایپ روابط میں بے حد اضافہ ہو جانے کے سبب، اب تو سب کو یہ پیغامات فارورڈ کرنا بھی ممکن نہیں رہا اور اس سب میں قریبی رشتے دار محروم رہ جاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ کسی اور پر تنقید نہیں بلکہ خود اپنی کوتاہی کا اعتراف ہے۔ اس سب کے بیچ ایک دوسرے کے گھروں پر جانا، کھانے پر ملنا اور ایک دوسرے کو تحائف دینا کس قدر اہم روایت ہے۔ البتہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تکلفات نے اس روایت کو بھی بوجھل اور ناگوار بنا دیا ہے۔

ایک دوسرے کے گھر جانا اب ایک آسان کام نہیں رہا کہ آپ فون کریں اور پہنچ جائیں یا دعوت پر مدعو کرنے کے لیے بس فون کریں اوراگلے چند دنوں میں کبھی بھی بلا لیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے گھر آنے پر آپ صرف ملنا اور مل جل کر محبت کے ساتھ کھا پی لینا نہیں کر سکتے۔ آپ کو تو اپنے گھر کی سجاوٹ، کھانوں کی تعداد، ان میں کچھ نہ کچھ منفرد کھانوں کی موجودگی، کھانے کو پیش کرنے کے لیے برتنوں کا انتخاب، مہمانوں کے ساتھ بچے ہونے کی صورت میں اپنے گھر کی سجاوٹ کی قیمتی اشیاء کی فکر اور ان بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے انتظامات کےبارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ مہمان آپ کے سلیقے، امارت، نفاست وغیرہ سے متاثر ہو سکیں۔

دوسرا مسئلہ ایک دوسرے کے گھر افطار یا مختلف مواقع پر کھانے بھیجنا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کڑھی چاول یا یخنی پلاؤ بنائیں تو پلیٹ میں بھر کر پڑوسن کے گھر بھیج دیں۔

آپ کو اس کے لیے بھی باقاعدہ مینو سوچنا پڑتا ہے۔ کم از کم دو چار ڈشز ضروری ہیں جن میں کم از کم ایک تو ذرا منفرد قسم کی ہو۔

تحائف کا مسئلہ بھی کم پیچیدہ نہیں۔ قیمت، برانڈ، کوالٹی سب کے بارے سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے۔

اس بے جا تکلف، ستائش کی چاہ اور خاصی حد تک ریاکاری اور اسراف نے ان چیزوں کو بوجھل بنا دیا ہے۔ اگرچہ ہمیشہ خواتین کو کہتے یہی سنا ہے کہ ہم تو دل کی خوشی سے کرتے ہیں،اور ہمارے لیے کچھ مشکل بھی نہیں مگر سچ یہ ہے کہ ایسی پرتکلف دعوتوں اورقیمتی تحائف کے تبادلے کے باوجود، دوستوں اور رشتہ داروں کو دبے لفظوں میں باتیں بناتے دیکھا ہے۔ مقابلے کی فضا نے دلوں کو اور بھی دور کردیا۔

دعوتوں پر مدعو کرنا، ایک دوسرے کو خوان بھیجنا اور تحائف کا تبادلہ ایک فارمیلٹی ہے کہ فلاں نے بلایا تو ہم پر بھی ڈیو ہے، فلاں نے بھیجا تو جواب میں بھیجنا لازمی ہے ورنہ کتنا برا لگے گا اور کوئی کیا سوچے گا؟

سچ یہ ہے کہ دل آج ماضی کے وہ دن ڈھونڈتا ہے، جب ایک دوسرے کے گھر مزے سے چلے جایا کرتے تھے۔ شام ہو تو چائے کے ساتھ بسکٹ، پیسٹری، نمکو یا اسپیشل ہوا تو شامی کبابوں سے تواضع کردی جاتی۔ کھانے کا وقت ہو ایک چاول، ایک سالن اور ایک میٹھا تیار کردیا جاتا۔ خصوصی دعوتوں مین ایک آدھ ڈِش اور بڑھا لیتے۔ بچے چھت پر یا گلی میں یا صحن میں کھیل لیتے۔ گھر اتنی نفاست سے سجے نہ ہوتے تھے اور دو چار سجاوٹ کی اشیاء شوکیس یا الماریوں میں سجی ہوتیں۔

زندگی میں ملنے والے سب سے قیمتی تحائف کچھ اس قسم کے تھے۔ “اس” کا دیا ہوا سنہری قلم، حسیناؤں کے ہاتھ سے لکھے کارڈز جن پرکچھ معنی خیز اشعار یا جملے لکھے ہوتے، کسی کا دیا سرسبز انڈور پلانٹ، خالہ سے اپنے دے کر ان کے جوتے لینا، اس کے محبت بھرے جملے کے ساتھ ملنے والی کتاب، کچی مٹی کا ایک بے رنگ گلدان جس پر کسی نے پنسل سے لکھا تھا، “انا اشد حبک للہ“، ڈاکٹر غزالہ کی دی ہوئی پاکٹ جائے نمازیں جو آج بھی ہروقت بیگ میں رہتی ہے۔

انسان کا دل اظہار محبت کے کتنے سادہ طریقوں سے خوش ہوجاتا ہے۔ دعوت کے بعد گھر لوٹتے ہوئے صاحبہ خانہ اور مہمان کے بچوں کا رات رک جانے پر اصرار کرنا، اور صبح آنکھ کھلنے پر دیر تک آنکھیں میچے دعا کرنا کہ اللہ کرے ہم نانی یا پھپھو کے گھر ہوں یا کزن ہمارے گھر ہو۔

مجھے اندازہ ہے کہ یہ سب کہنے پر اپنا مذاق بنوانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مگر میں پھر بھی کہنا چاہتی ہوں کہ تکلفات، فارمیلٹی، ادلے بدلے، ستائش کی حرص اور نمود و نمائش کی خاطر محبتوں، تعلقات اور ملاقاتوں کو قربان نہ کریں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.