آئیے! اس رمضان نشے سے توبہ کریں - مریم خالد

کافی دیر سے وہ کتاب پہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ نہیں بلکہ کتاب اس کے سر کے اندر ڈیرہ جمائے بیٹھی تھی۔ انہماک کا عالم کچھ ایسا ہی تھا۔ وہ ایک معروف لکھاری کا ناول تھا، ایک الگ ہی دنیا تھی، ایک اور ہی سمندر تھا، جس میں وہ غرق تھی، پور پور غرق! امی نے اسے آواز دی۔ "آتی ہوں" کہہ کر وہ پھر غوطہ زن ہو گئی۔ دوبارہ آواز آئی۔ "آئی بس!" اور پھر ڈوب گئی۔ پھر آواز آئی، پھر، پھر اور اب جوابی آواز تک نہ آنے پر امی کو یقین ہو گیا کہ ان کی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی، وہ کسی سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایک باب ختم ہوا تو اسے ایک جھٹکا لگا، "ہیں! اذان ہو گئی؟" گھڑی دیکھی، اذان تو کب کی ہو چکی تھی۔ "اچھا ابھی پہلی اذان ہوئی ہے، دوسری ہو گی تو اٹھ جاؤں گی۔" دوسری اذان بھی ہو گئی۔ "بس پانچ منٹ" پانچ منٹ بعد سر اٹھایا اور دل کو سمجھاتے بجھاتے زبردستی ناول بند کیا تو چیخ نکل گئی "کیا؟ نماز قضا ہونے میں صرف دس منٹ باقی ہیں؟" پانچ نہیں تقریباً پچاس منٹ گزر چکے تھے۔ تلملاتے، ٹکراتے اور بھاگتے ہوئے وضو کیا، جلدی جلدی نماز ادا کی "یا اللہ! اس نماز کی کمی بس اگلی نماز میں پوری کر لوں گی۔" اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اگلی نماز کا حشر اس سے بھی بھیانک ہونے والا ہے۔

عجیب جان کا روگ تھا وہ ناول۔ نہ ختم ہوتا تھا نہ دل سے ہٹتا تھا۔ "بس ابھی ختم کر کے سوؤں گی۔ زندگی تو ذرا سکون میں آئے۔" بھاری سر سے ٹیسیں اٹھنے اور آنکھیں سرخ ہونے لگیں تو ناول ہاتھ سے چھوٹنے لگا۔ باقی کل ان شاءاللہ۔ بند ہوتی آنکھوں میں سوچ ڈبڈبائی اور ایک زوردار دھاکے کے ساتھ اس کی آنکھیں پھٹتی چلی گئیں۔ "فجر کی اذانیں!‌" اگلا دن، پڑھائی کی روٹین، پھٹتا سر، سرخ آنکھیں۔ آخر کیسے گزرے گا دن؟ سر دیوار سے ٹکرانے کا کیا سوال، یہاں دماغ کھوپڑی سے ٹکریں مارتا محسوس ہو رہا تھا۔


"آج بہت اچھے سے پڑھنا ہے ان شاءاللہ، کل کا ٹیسٹ بہت اہم ہے۔"

اس نے کتاب کھولی۔ پڑھتے ہوئے ایک نکتہ پہ الجھ گئی۔ لیپ ٹاپ کھولا اور گوگل کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ نہیں، بلکہ اسے انگلیاں چبھوئیں (ٹائپ کرنے کے لیے)۔ اس کا دیا جواب پڑھا اور واپسی کی راہ لی۔ جاتے جاتے فیس بک پہ نظر پڑی۔ یونہی بس 'غلطی' سے 'بےدھیانی' میں اس پہ کلک ہو گیا۔ نہیں نہیں! وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی!

اس کے پاس وقت بھی نہیں تھا!

کل کا اہم والا ٹیسٹ بھی تو بہت اچھا دینا تھا! لیکن۔۔۔ لیکن جب سارے عالم کی "دیواریں" پھلانگ کر واپس کمرے میں آئی تو وقت کا پہیہ بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ پانی سر سے گزر چکا تھا اور نتیجتاً آنسو۔۔۔ آنکھوں سے نیچے!

یہ کیا ہو گیا؟


کیسے یہ چیزیں ہمارے ذہن کو ہائی جیک کر لیتی ہیں؟ ہم اپنے قیمتی وقت کو کھونا نہیں چاہتے مگر یہ چیزیں آ کر ہمارے وقت کی بوری میں دانت گاڑ دیتی ہیں۔ اسے چیر پھاڑ دیتی ہیں اور ہمارا وقت ان سوراخوں سے بہہ جاتا ہے۔ ہم پھر وہاں نیچے بیٹھ کر ہاتھ ملتے ہیں۔ ہم اپنے والدین اور گھروالوں کے ساتھ یوں روکھا پن دکھانا نہیں چاہتے، مگر یہ چیزیں ہمیں اور ہی خیالوں میں بری طرح الجھا کر بے اعتنائی پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ ناول، ڈرامے، موبائل، میوزک، فلمیں، میچ، بازار، تصویریں۔۔۔ کبھی دوست ہی نشہ بن جاتے ہیں، کبھی کوئی استاد، کبھی کوئی شخص یوں ہمارے حواسوں پہ سوار ہو کر ذہن کو اغوا کر لیتے ہیں کہ ہم اپنے اصل میں نہیں رہتے۔ کہیں دور نکل جاتے ہیں۔ واپس آ بھی جائیں تو یہی چیزیں ہمارے ذہنوں میں ہر وقت اچھلتی کودتی رہتی ہیں۔ ذہن کی یکسوئی غارت کر دیتی ہیں۔ ہم کوئی بھی کام توجہ سے کرنے سے عاری رہتے ہیں۔ ہماری نمازیں دہائیاں دینے لگتی ہیں، خشوع الوداع کہہ جاتا ہے۔ ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو شرمندگی سے ہی نگاہیں چرانے لگتے ہیں۔ توبہ کا، واپسی کا وقت ہی نہیں ملتا اور دوریاں اتنی بڑھنے لگتی ہیں کہ اپنے اللہ جی ہمیں پرائے لگنے لگتے ہیں۔ قرآن ہمیں بیگانی نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ تلاوت زبان پہ اجنبی ہو جاتی ہے۔

ہم یوں دور جانا نہیں چاہتے، مگر چلے جاتے ہیں۔ ہم واپس آنا چاہتے ہیں، مگر آ نہیں پاتے۔

آخر کیوں؟

کہ ہمارا ذہن اغوا ہو چکا ہوتا ہے۔ گروی رکھا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہمارے لاشعور میں رچ بس جاتی ہیں۔ ہم سے ہمارے اعمال کا کنٹرول چھین لیتی ہیں۔ ہم وہ نہیں کر پاتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم وہ کرتے ہیں جو ہم سے ہو جاتا ہے۔ ہمارا شعور ہار جاتا ہے اور لاشعور جیت جاتا ہے۔ اور ہم خود سے ہار جاتے ہیں۔ ہم برے نہیں ہوتے اور نہ بننا چاہتے ہیں، مگر بن جاتے ہیں۔ یہ چیزیں گویا نشہ ہیں سب، ہاں! شرعی لحاظ سے نہیں مگر ادبی لحاظ سے، استعارتاً۔ ہر وہ چیز وہ ذہن پہ حاوی ہو جائے اور عقل کو ڈھانپ دے، وہ نشہ ہے، وہ خمر ہے گویا! آئیے اس رمضان اس نشے سے توبہ کریں۔ کیسے؟ اللہ نےبتا دیا ہے۔ تین مراحل میں:

پہلا مرحلہ:

"لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائدہ بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت زیادہ ہے۔" (البقرہ: ۲۱۹)

اللہ تعالیٰ ایک بہترین ماہرِ نفسیات ہے۔ وہ سخت گیر مولویوں کی طرح زبردستی آپ پہ کوئی حکم مسلط نہیں کرتا۔ آپ کو دلیل کے ساتھ سمجھاتا ہے، حکمت کے ساتھ، کہ دیکھو! اس کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔ مگر نقصان فائدہ سے بہت زیادہ ہے اور ہمیں خوب علم ہے کہ نقصان کس قدر زیادہ ہے۔ تو پہلے مرحلے میں خود کو ذہنی طور پر قائل کریں کہ یہ بری چیز ہے، مجھے اس سے بچنا چاہیے۔

دوسرا مرحلہ ہے:

"اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب نہ جاؤ۔" (النساء: ۴۳)

اپنے لیے وقت مقرر کریں کہ جس میں آپ یہ چیزیں دیکھیں۔ باقی اوقات میں خود پہ حرام کر لیں۔ آپ کو ایک واضح فرق محسوس ہوگا۔ آپ کو نشے کا زور ٹوٹتا محسوس ہو گا! آپ کا ذہن اس اثر، اس سحر سے نکلنے لگے گا۔ یقین جانیں!

رمضان نشے سے توبہ کا بہترین وقت ہے۔ ہم ایک وقت میں کھا پی سکتے ہیں اور تمام جائز کام کر سکتے ہیں اور ایک وقت میں سب کاموں سے رک جاتے ہیں۔ رمضان ہمیں یوں ضبطِ نفس سکھاتا ہے۔ ہمارے اندر کا دفاع مضبوط کرتا ہے کہ پھر کوئی بیرونی نشہ ہمارے ذہن کو اغوا نہیں کر سکتا اور یہ دفاع عمر بھر ساتھ چلتا ہے۔۔۔ عمر بھر!

ہاں! جو کام شریعت نے واضح طور پر ناجائز قرار دیے ہیں۔ وہ چیزیں جن کا دیکھنا آنکھوں کا زنا اور جن کا سننا کانوں کا زنا ہے، وہ آواز جسے شیطان کی آواز کہا گیا۔ بانسری، طبلے، آلاتِ موسیقی، حیا سوز فلمیں اور اقدار کی دھجیاں اڑاتے ڈرامے۔ آپ کو انہیں ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا چاہیے۔ آخر آپ روزہ رکھ کر آنکھوں اور کانوں کا زنا۔۔۔ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے آپ کو تیسرے مرحلے پہ جانا ہوگا: "اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور آستانے اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدہ: ۹۰)

حرمتِ شراب کا آخری اور ابدی حکم! یہ حکم مدینہ میں نازل ہوا تھا تو لبوں تک جاتے جام رک گئے تھے۔ شراب کے مٹکے گلیوں میں پٹخ کر توڑ دیے گئے تھے۔ ہمارے دلوں پہ یہ حکم کب نازل ہو گا؟ ہم کب اپنی عقل کے ان اغوا کاروں کے چنگل سے نکلیں گے؟ کب اپنے اصل روپ میں واپس آئیں گے؟ رمضان گزر جائے گا۔ مگر کیا ہم اپنے نشے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا سکیں گے؟ یا رحمٰن کے مہینے میں بھی ہم اپنے ذہن شیطان کے پاس گروی رکھے رہیں گے؟ ہمیشہ کے لیے؟