چکوال میں ق لیگ اور پی ٹی آئی کا ممکنہ اتحاد - امجد طفیل بھٹی

یْوں تو پاکستان میں سیاست اور سیاستدان اپنے رنگ بدلنے میں ثانی نہیں رکھتے، بالخصوص الیکشن جْوں جْوں قریب آتے جاتے ہیں سیاستدان اپنی پوزیشن تبدیل کرتے نظر آتے ہیں، جس سے اْن کے ووٹ بینک میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمارے ہاں پارٹی سے زیادہ شخصیات کو ووٹ ملتا ہے۔ بالکل اسی طرح کی صورتحال اس وقت چکوال کے دو قومی اسمبلی کے حلقوں حلقہ 65 ,NA۔64 اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں حلقہ پی پی 21,22,23 اور پی پی 24 کی بھی ہے۔ یہ تمام حلقے پچھلے کچھ عرصے سے مسلم لیگ (ن) کے مضبوط اور کنفرم حلقے سمجھے جاتے تھے لیکن اب کی بار دوسری جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کی صورت میں مسلم لیگ (ن) سے چھِن جانے کے قوی امکان ہیں۔ اگر پچھلے دو تین الیکشنز میں دیکھا جائے تو تقریباً ان تمام حلقوں میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کا مجموعی ووٹ مسلم لیگ ن سے زیادہ رہا ہے اور شاید یہی ان کی ہار کا سبب بھی بنتا رہا ہے مگر اس مرتبہ اگر یہ دونوں جماعتیں آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لیتی ہیں تو کوئی شک نہیں کہ چھ کی چھ سیٹیں مسلم لیگ ن سے چھن جائیں۔ یہاں پہ ایک بات اور بہت اہم ہے کہ سابقہ ضلع ناظم سردار عباس نے بھی مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ دیا ہے، چنانچہ سردار عباس کا سارے کے سارے ضلع میں برادری سطح پر ایک خاص اثر و رسوخ ہے اس لیے انہیں ایک مضبوط اتحادی کے طور پر اپنے ساتھ شامل کرنے میں ہر جماعت خاصی دلچسپی رکھتی ہے۔

اگر سردار صاحب پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں یا پھر پی ٹی آئی کی مدد سے حلقہ NA-64 سے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑتے ہیں تو پھر مسلم لیگ ن کی ہار کم از کم قومی اسمبلی کے اس حلقے میں یقینی ہے۔ جبکہ حلقہ NA-64 کے نیچے دو صوبائی حلقے پی پی 21 اور پی پی 22 سردار عباس گروپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے لیے جیتنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن قیادت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے چکوال کے اس قومی اسمبلی کے حلقے میں ہار کے بادل منڈلانے لگے ہیں، پہلے ایاز امیر مسلم لیگ ن کو چھوڑ گئے بعد میں سردار عباس کے مسلم لیگ ن جوائن کرنے کے سے میجر طاہر اقبال کی پوزیشن کمزور ہوئی اور اب خود سردار عباس کے پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے مسلم لیگ ن زیرو کی پوزیشن میں آگئی ہے اور جس کا یقینی فائدہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اٹھائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹکٹ کا حصول اور اسمبلی تک کا سفر - امجد طفیل بھٹی

دوسری طرف اگر تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ کے علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ NA-65 کی بات کی جائے تو مسلم لیگ (ق) پہلے سے ہی اپنا اچھا خاصا ووٹ بینک رکھتی ہے، جس کی وجہ صرف اور صرف چوہدری پرویز الہٰی کی اس حلقے میں ذاتی دلچسپی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہاں کی لوکل ق لیگی قیادت حافظ عمار یاسر کی سربراہی میں خاصی متحرک ہے جو کہ ق لیگ کے ووٹ بینک میں رْوح کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ حافظ عمار یاسر اس علاقے میں اپنا ایک سیاسی قد کاٹھ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب کی بار حافظ عمار یاسر اگر پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار کے طور پر حلقہ NA-65 میں الیکشن لڑتے ہیں تو ان کی جیت 90 فیصد یقینی ہے۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے کے ساتھ دو صوبائی اسمبلی کی سیٹیں پی پی 23 اور پی پی 24 میں بھی اب تک کی اطلاعات کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی اور سردار منصور حیات ٹمن دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہو سکتے ہیں، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر ان دونوں صوبائی اور ایک قومی سیٹ پر ن لیگ کی ہار حقیقت بن سکتی ہے۔

پچھلے دو دورِ حکومت میں ضلع چکوال خصوصاً تلہ گنگ کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک بھی مسلم لیگ ن کی ہار کو دستک دے رہا ہے کیونکہ یہاں کے عوام سے ووٹ لیتے وقت ن کی قیادت نے جتنے بھی وعدے کیے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہ ہوسکا۔ خاص طور پر تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ نہ دینے سے یہاں کے عوام کا احساس محرومی اس قدر بڑھ چکا ہے کہ بیشتر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب کی بار ن لیگ کو ووٹ دینا ہماری بے عزتی ہے۔ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کی وعدہ خلافیوں اور ناقص پالیسیوں کے سبب یہاں کی لوکل لیگی قیادت عوام کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہی، خاص طور پر ختم نبوت کے قانوں میں ترمیم، میاں نواز شریف کی حالیہ فوج اور عدلیہ مخالف مہم اور ممبئی حملوں پر اپنا موقف دینے پر تو عام عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اب کی بار اگر مسلم لیگ اس ضلع میں ہارتی ہے تو پھر شاید وہ کبھی بھی اپنی سابقہ پوزیشن میں نہ آ سکے۔ جبکہ ق لیگ کی قیادت جو کہ حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی عوام میں بہت مقبول تصور کی جاتی ہے، اس مرتبہ پی ٹی آئی سے انتخابی الحاق کی صورت میں بہت مضبوط پوزیشن میں نظر آنے لگ گئی ہے، اس بار کے الیکشن کی سب سے اہم بات فخرِ تلہ گنگ کہلانے والے حافظ عمار یاسر کا قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے کھڑا ہونا بذات خود تحصیل تلہ گنگ کے لیے باعث فخر ہے کہ اس حلقے کی سیاست کم از کم ٹمن شہر سے تو باہر نکل آئے گی۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.