اسلام کے نادان دوست - محمد اسلم فانی

کہتے ہیں نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔ مطلب نادان کی دوستی سے اللہ بچائے کیونکہ نادان کرنا تو بھلا چاہتا ہے مگر ہو برا جاتا ہے۔ اس کی دوستی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ دشمن سے بندہ ہوشیار رہتا ہے مگر دوست سے آدمی کا فرار ممکن نہیں۔اس کا خلوص ترکِ تعلق کی اجازت نہیں دیتا اور دوسری طرف اس کی نادانی کے اثرات بھگتنا زندکی کو تلخ بنا دیتا ہے۔ نادان کی دوستی پر ہم نصاب میں کئی کہانیاں پڑھ چکے ہیں۔

آج کل مذہبِ اسلام کو بھی کچھ نادان دوستوں کا سامنا ہے جو اپنی کم علمی، کم فہمی اور نادانی کی وجہ سے اسلام دشمنوں کے مقاصد پورے کر رہے ہیں۔ دشمنانِ اسلام یہی چاہتے ہیں کہ شعائرِ اسلام کی توہین کے واقعات اتنے عام کر دیے جائیں کہ مسلمان اس کو ہلکا سجھ کر روٹین میں لے لیں۔ ایسے تمام گستاخانہ واقعات کی تصویری جھلکیوں کو آج کا مسلمان زیادہ سے زیادہ سے پھیلا کر ثواب کی امید رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سوشل میڈیا پر قران پاک کی سنگین گستاخیاں دیکھ کر یقین آ جاتا ہے کہ ایسا فعل کسی کافر کا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر توہین کرنے والا خبیث و لعین معلوم فرد ہوتا تو چلو ہم "نقل کفر کفر نہ باشد " کہہ کر اسے آگے نقل کر دیتے مگر یہاں دشمن نہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کی سازش کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ اس خبیث اور لعین پر لعنت بھیجنے کے لیے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں بلکہ لکھا ہوتا ہے کہ کوئی کافر ہی ہوگا جو اس کو شیئر نہ کرے۔

ایسا کہنا تو اسلامی تصویر کے ساتھ بھی جائز نہیں چہ جائیکہ کے توہین آمیز تصویر پر کہا جائے؟ بعض اوقات خانہ کعبہ یا کسی اسلامی تصویر کو صرف شیئر نہ کرنے پر کفر کا فتویٰ صادر کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو کافر بنانا کتنا سہل کر دیا گیا ہے؟ دوسری طرف کافروں کے طرز عمل کو مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خود سوچیں جب پہلی بار آپ نے کوئی تصویر دیکھی ہوگی تو لرز کر رہ گئے ہوں گے۔ آپ کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہو گی۔ کئی دن تک سوتے جاگتے آپ کے دل و دماغ پر چھریاں چلتی رہی ہوں گی۔ مگر اب ایسی دل دوز پوسٹیں دیکھ کر ہم آگے گزر جاتے ہیں کیونکہ اسلام کے ان نادان دوستوں نے یہ کفریہ پوسٹیں شیئر کر کر کے اور اس کو روٹین کا معاملہ بنا کر ہمارے ایمان کو مضمحل کر دیا ہے۔

یہ قابل ترس لوگ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ اس کی تشہیر کر کے خود بے ادبی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ایسا عموماً کم پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ، سمجھ دار یا صاحبِ علم بندے نے یہ حرکت کبھی نہیں کی لیکن ایک کام ہم بھی غلط کر رہے ہیں کہ ایسی توہین آمیز پوسٹیں دیکھ کر ہم چپ چاپ آگے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ کمنٹس میں ایسے لوگوں کو سمجھا کر ایسی پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا کہنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کو اپنی فرینڈ لسٹ سے نکال باہر کریں۔ سمجھانے کا کام وہ لوگ بہتر کر سکتے ہیں جو صاحب پوسٹ کو ذاتی طور پر جانتے ہوں یا ان کی اس سے بے تکلفی ہو۔ ساتھ ساتھ اسلامی تصاویر کو لازمی شیئر کرنے اور نہ کرنے پر کافر بنانے کی رسم کی سنگینی سے بھی آگہی ضروری ہے۔