"ایک مبینہ ملحد کا انٹرویو"-مبشر علی زیدی

سوال: ’’مبشر صاحب! کیا آپ ملحد ہیں؟‘‘
جواب: ’’جناب! میرے مزاج میں تلون ہے۔ کسی وقت ملحد ہوں، کسی وقت متشکک ہوں، کسی وقت خدا پرست ہوں۔‘‘

سوال: ’’آپ کس وقت خدا پرست ہوتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’میں نماز اور قرآن پاک پڑھتے وقت خدا پرست بن جاتا ہوں۔‘‘

سوال: ’’کیا آپ نے کبھی نماز اور قرآن پڑھا ہے؟‘‘
جواب: ’’کبھی سے کیا مراد ہے؟ میں حج اور عمرے کرچکا ہوں۔ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد کوفہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل پڑھ لیا تھا۔ بیس سے زیادہ ترجمے اور آٹھ دس تفاسیر کا جستہ جستہ مطالعہ کرچکا ہوں۔ احادیث اور سیرت کی متعدد کتابیں پڑھ چکا ہوں۔‘‘

سوال: ’’آپ کس وقت ملحد ہوجاتے ہیں؟
جواب: ’’میں تاریخ اور خاص طور پر اسلامی تاریخ پڑھتے ہوئے ملحد ہوجاتا ہوں۔‘‘

سوال: ’’اسلامی تاریخ میں کون سی باتیں آپ کو ٹھیک نہیں لگتیں؟‘‘
جواب: ’’تاریخ طبری کا آغاز تاریخ انسانی سے پہلے سے ہوا۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ تاریخ میں خدا کی سرگرمیوں اور معجزوں کا کوئی کام نہیں۔ تاریخ کو غیر جذباتی انداز میں لکھنا اور پڑھنا چاہیے۔‘‘

سوال: ’’آپ اسلامی شعائر کی توہین کیوں کرتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’میں اسلامی شعائر کا احترام کرتا ہوں لیکن چیزوں کو غیر جذباتی انداز میں دیکھتا ہوں۔ تقدس کا حد سے زیادہ جذبہ آپ کی فکر کو متاثر کرتا ہے۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی تھا کہ لوگ پتھر کے بت کی پوجا نہیں چھوڑتے۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی ہے کہ لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ حد سے زیادہ تقدس ہی ہے کہ لوگ ایک مخصوص حلیہ اختیار کرلیتے ہیں۔ اس تقدس کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے اور دوسروں کو آپ کی ذات سے نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

سوال: ’’آپ نے خدا سے متعلق کہانیاں کیوں لکھیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے خدا کا مضحکہ اڑایا۔‘‘
جواب: ’’کیا کوئی انسان اتنا بڑا ہے کہ خدا کا مضحکہ اڑا سکتا ہے؟ میں صرف انسان کے تصورات کا مضحکہ اڑاتا ہوں۔ میں نے ایک کہانی بے گھر لکھی جس میں بتایا کہ میں خدا کو لے کر کئی مذاہب کی عبادت گاہوں میں گیا لیکن کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔ ہر عبادت گاہ پر کوئی مولوی، پنڈت، پادری قابض تھا۔ اسی طرح ایک کہانی میں بتایا کہ میں خدا خریدنے کے لیے ایک دکان پر گیا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات کا خدا برائے فروخت ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ معاشرے کے ہر طبقے نے اپنی سہولت کے مطابق مذہب میں گنجائش پیدا کرلی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   خدا اور اس کی جنت کا مخمصہ - جویریہ سعید

سوال: ’’آپ مولویوں کو برا کیوں کہتے ہیں؟‘‘
جواب: ’’پہلے ایک فرق جان لیجیے۔ میری تحریروں کا مولوی وہی ہے جو علامہ اقبال کا ملا ہے۔ یعنی دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔ میں مولوی اور عالم کو ایک جیسا خیال نہیں کرتا۔ مولوی، پنڈت، پادری خدا اور جہنم سے ڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کرتا ہے، اسے عامر خان نے ایک فلم میں رونگ نمبر قرار دیا ہے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو شیریں بیانی سے انسانوں کے دل میں انسانوں کی محبت پیدا کرتا ہے۔‘‘

سوال: ’’آپ نے جنت میں لائبریری کا سوال کیوں اٹھایا؟‘‘
جواب: ’’یکم رمضان کو کسی دوست نے ایک عالم دین وڈیوز بھیجی جس میں یہ ارشادات سننے کو ملے،
جنت میں ایک کنسرٹ ہوگا جس میں انبیا کے علاوہ اللہ خود بھی گانا گائے گا۔ جنت میں شراب نہ صرف وافر ہوگی بلکہ وہاں شراب پینے والوں کے بھی تین درجے ہوں گے۔ وی وی آئی پیز کو اللہ خود شراب کے ’’پیگ‘‘ بناکر پلائے گا۔ اہل جنت کو حوریں ملیں گی۔ اللہ خود حوروں کا میک اپ کرے گا۔
بس اسی لیے میں سوال کر بیٹھا کہ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنت میں لائبریری ہوگی؟ یا جنت صرف شراب کے پیاسوں اور سیکس کے بھوکوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے؟ یہ جنت پر نہیں بلکہ جنت کے اس تصور پر اعتراض تھا جس میں حوروں اور شراب کے سوا کوئی شے بیان نہیں کی جاتی۔‘‘

سوال: ’’لوگوں نے آپ کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ جنت میں سارا علم موجود ہوگا اس لیے کتابوں یا لائبریری کی کیا ضرورت؟‘‘
جواب: ’’یہ بات وہی لوگ کرسکتے ہیں جنھوں نے کبھی شاعری یا فکشن نہیں پڑھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اچھا فکشن اور اچھی شاعری پڑھنا، اچھی موسیقی سننا، اچھی تصاویر، وڈیو یا فیچر فلم دیکھنا بھی اہل ذوق کے لیے اسی قدر یا اس سے بھی زیادہ لطف کا سبب ہوتا ہے جتنا کہ کسی محبوبہ کے ساتھ وقت گزارنا۔ خوراک اور مشروب نسبتاََ کم درجے کا لطف فراہم کرتے ہیں۔
چنانچہ بعض صاحبان کے اس اصرار پر حیرت ہوتی ہے کہ جس مقام پر یعنی جنت میں پوری دنیا کا علم موجود ہوگا، وہاں کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ کسی کمپیوٹر میں پوری دنیا کا علم جمع کردیں تب بھی وہ یوسفی جیسا ایک نثر پارہ یا غالب جیسا ایک شعر تخلیق نہیں کرسکتا۔ علم کچھ اور شے ہے اور فن کوئی اور کمال۔ لیکن جن لوگوں نے فنون کو گناہ قرار دے دیا ہو، وہ بھلا یہ بات کیسے سمجھ سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   جنت اور لاٸبریری- فرحان شبیر

سوال: ’’کچھ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ سارا سال آپ لبرل بنے رہتے ہیں اور محرم آتے ہی اہل تشیع کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔‘‘
جواب: ’’لبرل ازم اور سیکولرزم کا تعلق ریاست کے انتظام سے ہے، میں اسے مذہب سے متصادم نہیں سمجھتا چنانچہ لبرل ہونے کو برا بھی نہیں خیال کرتا۔ میں شیعہ گھرانے میں پیدا ہوتا تھا، چنانچہ شیعہ کلچر کا اثر ہونا لازمی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ لیٹ اس بلڈ پاکستان جیسی شیعہ ویب سائٹس پر میرے خلاف باقاعدہ تحریک چلتی ہے۔

میں کسی شخصیت کو کسی مذہب کے زیر اثر نہیں مانتا۔ سب مانتے ہیں کہ سقراط بڑا آدمی تھا، ابراہام لنکن بڑا آدمی تھا، کارل مارکس بڑا آدمی تھا، نیلسن منڈیلا بڑا آدمی تھا۔ انھیں ماننے سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا۔ سسٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے سے کوئی ملحد ہرگز مسیحی نہیں ہوجاتا۔ گاندھی کی تحسین کرنے سے کوئی ملحد ہرگز ہندو نہیں ہوجاتا۔

امام حسین ان سب سے بڑے آدمی تھے چنانچہ میں انھیں اسی طرح مانتا ہوں۔ میں مذہب کے زیر اثر نہیں بلکہ ان کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لیے کربلا گیا تھا۔ امام حسین کو سلام پیش کرنے سے کسی کا مذہب یا الحاد خطرے میں نہیں پڑتا۔‘‘

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • انٹرویو بذات خود مجموعہ اضداد ہے۔ امام حسین کا قد پوری طرح کوئی کیسےسمجھ سکتا ہے جب وہ انہیں مذہب یعنی ان کے نظریے سےہٹ کر دیکھےگا۔ بحرحال ہمیں زیدی صاب کو زبردستی ملحد نہیں بنا دینا چاہیے۔ وہ ابھی زندہ ہیں اور علمی سفر پر گامزن ہیں۔ تشکیک میں مبتلا لوگ اگر راستےمیں تھک کے رک نہ جائیں تو بالآخر راہ راست پا لیتے ہیں۔

  • زیدی یاردل پشوری ضرورکرلیکن ایک کام توکرکبھی ملکہ برطانیہ کی بینڈ بجادے کبھی یور پ کے پادریوں کااصل روپ توسامنے لا یارکبھی توکچھ ایسا کرکہ ہم تجھے غیرجانبدارکہیں لیکن نہیں کرسکتا یہودیوں کی ایسی تیسی کیونکہ تیرا ویزہ رکتا ہے بابا جانےدے بس کردے تیرےبس کی بات نہیں