بابوں کے لیے نصیحت - سیٹھ وسیم طارق

کہتے ہیں کہ بابیوں بغیر بکریاں نئیں چردیاں لیکن عجیب معاشرہ ہے انہی بابوں کو گھر کا بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ہر گھر میں بابوں کی ایسی ہی حالت زار ہے کہ ان کو گھر کی نئی مالکن طعنوں سے روزانہ مار دیتی ہے لیکن اتنے صابر اور باہمت ہیں کہ پل پل مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بابے کیساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے تو وہ سفید جھوٹ بولتے ہیں۔ بوجھ تو آپ سمجھتے ہیں اور جو حقیقتاً ایسا سمجھتے ہیں وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ جو کماتا نہ ہو، وہ بوجھ ہی تو ہوتا ہے۔ بالکل یہ بات تو سچ ہے کہ جو کماتا نہ ہو وہ گھر کیا اس ملک کے لیے بھی بوجھ ہی ہوتا ہے۔ لیکن اس کیٹیگری میں صرف بابے تو نہیں آتے گھر کی نئی مالکن کے بچے بھی تو کماتے نہیں، وہ بھی صرف کھاتے ہی ہیں بلکہ اپنی منواتے بھی ہیں۔ تو پھر وہ گھر کے لیے بوجھ کیوں نہیں ہوتے؟ ان کو ایسے طعنے کیوں نہیں ملتے؟ بلکہ الٹا ان کے ہر نخرے کو پہلی فرصت میں پورا کیا جاتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ پیار کی بات ہے کیونکہ وہ پیارے ہوتے ہیں اس لیے ان کی ہر بات مانی جاتی ہے لیکن کیا بابے کسی کے پیارے نہیں ہوتے؟ کیا ان سے پیار جتانے والا کوئی نہیں ہوتا؟ ان کو اتنی ہی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جتنا وہ اپنے پوترے پوتریوں سے پیار کرتے ہیں۔

کمانے والے بابے کی عزت ہوتی ہے لیکن اتنی ہی جتنی وہ کمائی کر کے لاتا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ ان کی صرف مہینہ کے پہلے ہفتہ میں پیار سے بات کی جاتی ہے۔ صرف نئی مالکن ہی نہیں بلکہ اس کی اپنی گھر والی اس کو پہلے ہفتہ کے گزر جانے کے بعد چائے بھی پوچھنا گوارا نہیں کرتی۔ بیچارہ بابا پورا مہینہ حقہ کی نلی کو ہاتھ میں تھامے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے روٹی کا انتظار ہی کرتا رہتا ہے۔ کچھ گھروں بابوں کو بوجھ اس وقت سمجھا جاتا ہے جب اس کو جائیداد تقسیم کیے ہوئے مہینہ گزر جائے اور کچھ کو جائیداد کے ہوتے ہوئے بھی بوجھ ہی سمجھا جاتا ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے تقریباً گھر کا ہر فرد مصلّے پہ بیٹھا اس کے لیے ہی دعائیں کرتا رہتا ہے کہ کب یہ جائے اور ہمیں کوئی مرلہ نصیب ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   تنہائی کے عالم میں پِسے بزرگ - ہلال احمد تانترے

سہیل وڑائچ صاحب ایک مشہور صحافی ہیں ایک دن وہ کسی پروگرام میں کامیڈی سے منسلک لوگوں کو نصیحت کر رہے تھے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اس لیے جب آپ آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہے ہوں تو اپنے لیے اتنا بچا کر رکھو کہ واپس زمیں پہ آ کر زندگی کو اچھے طریقے سے گزارا جاسکے۔ جب میں نے یہ بات سنی تو سوچا کہ یہ نصیحت تو ہر کسی کو اپنانی چاہیے خصوصاً بابوں کو جو کہ تمام عمر کمائی کرتے اور بیٹوں کی فکر کرتے گزار دیتے ہیں اور اپنے لیے پھوٹی کوڑی بھی نہیں رکھتے تو پھر جو ان کے ساتھ سلوک ہوتا ہے اس سے وہ پل پل مرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے لیے کچھ سوچا ہوتا تو صورتحال شاید مختلف ہوتی۔ اگر بابے جائیداد کی وراثت کے وقت اپنے نام کچھ زمیں رہنے دیں اور یہ شرط عائد کردیں کہ جو کوئی خدمت کرے گا وہ یہ زمین حاصل کر لے گا۔ پنشن والے بزرگوں کو بھی ایسی ہی کوئی چال چلنی چاہیے، پنشن لیکر سنبھال کر رکھ لیں اور پھر پورا مہینہ اس کو صرف کرتے رہیں جب تک اگلی پنشن وصول نہیں ہوتی۔ ایسے میں ان کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑے گا حتی کہ اپنے بیٹے کے آگے بھی نہیں یوں وہ گھر کا بوجھ نہیں سمجھیں جائیں گے۔ اور جو فارغ ہوتے ہیں ویسے تو ہر بابا فارغ ہی ہوتا ہے لیکن میرا یہاں مطلب ہے کہ جن کی آمدن کا ذریعہ صرف ان کا بیٹا ہوتا ہے تو ان کے لیے نصیحت یہی ہے کہ وہ گھر کی مالکن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا کریں۔ ہر دم اسی کا پانی بھرتے رہا کریں تو پھر کسی کو جرات نہیں ہوگی کی وہ بابے کو گھر کا بوجھ سمجھے یا اس کو ایسا کوئی طعنہ بھی دے۔

ٹیگز